تازہ ترین

روسٹر سسٹم: ریزرویشن سے متعلق ریویو پٹیشن دائر کرے گی حکومت: جاوڈیکر

7 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
نئی دہلی، 6 فروری (یو این آئی) ترقی انسانی وسائل کے مرکزی وزیر پرکاش جاو ڈیکر نے 13 پوائنٹس کے روسٹر سسٹم کی جاری مخالفت پر بدھ کے روز پارلیمنٹ میں یقین دہانی کرائی کہ ان کی حکومت یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی تقرری میں ریزرویشن یقینی بنانے کے لئے سپریم کورٹ میں جلد ہی نظر ثانی کی درخواست دائر کرے گی۔ استاذ لیڈروں نے اس مسئلے پر موجودہ سیشن میں بل لانے یا سیشن کے بعد آرڈیننس لانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں حکومت کی خصوصی اجازت کی درخواست خارج کر کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو مناسب ٹھہرایا تھا جس میں 200 پوائنٹس والے روسٹر نظام کو نامنظور کر دیا گیا تھا اور محکمہ یا کالج کو یونٹ سمجھا گیا تھا جس سے پسماندہ طبقات، دلت اور قبائلی طبقہ کے اساتذہ کی ملازمت خطرے میں پڑ گئی ہے ، کیونکہ 13 پوائنٹس والے روسٹر نظام سے محفوظ عہدوں کی تعداد میں کمی ہو جائے گی۔ مسٹر جاو ڈیکر نے بدھ کے روز راجیہ سبھا میں وقفے کے دوران اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے درمیان ہی یہ وضاحت پیش کی کہ سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت کی درخواست منظور نہ ہونے کو دیکھتے ہوئے ان کی حکومت جلد ہی ریویو پٹیشن عدالت میں دائر کرے گی۔ سماج وادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، بہوجن سماج پارٹی، ترنمول وغیرہ جماعتوں نے 200 پوائنٹس والے روسٹر نظام کو نافذکرنے کے لئے ایوان میں زبردست ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی ہو گئی۔ مسٹر جاو ڈیکر نے ایوان کے باہر کہا کہ ان کی حکومت دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ طبقے کو یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اساتذہ کی تقرری میں ریزرویشن برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ پہلے یونیورسٹی کو روسٹر کے لئے ایک یونٹ سمجھا جاتا تھا اور وہی صحیح طریقہ ہے ۔ دریں اثناء، حکومت نے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن سے کہا ہے کہ جب تک درخواست پر فیصلہ نہیں آ جاتا تب تک وہ 13 پوائنٹس والے روسٹر سسٹم کو لاگو نہیں کرے ۔ یو این آئی