دیارِ حبیب ﷺ میں حا ضر ی

. با غِ جنت میں میر ے یو ں بھا گ کھل گئے۔۔۔۔ قسط 2

8 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹرعبدالمجیدبھدرواہی
گھر سے مرادحضرت عائشہ ؓ صدیقہ کاحجرہ پاک ہے ،جس میں حضورپاک ﷺ کی مرقد مبارک ہے اورجوحضرت بی بی فاطمہ ؓ کے حجرہ کے پیچھے ہے ۔یعنی یہ جگہ حقیقت میں جنت کاٹکڑا ہے جواس دُنیامیں منتقل کیاگیاہے اورقیامت کے دن یہ ٹکڑاجنت میں چلاجائے گا۔اسی ریاض الجنتہ میں حضورسرورِکونین ﷺ کامصلیٰ بھی ہے ،جہاں آپ ﷺ کھڑے ہوکرامامت فرمایاکرتے تھے ۔اس جگہ آج ایک خوبصورت محراب بنی ہوئی ہے جومحراب مسجدِ نبوی ﷺ کہلاتی ہے۔حضوراکرم ﷺ کے وصال کے بعدمصلیٰ رسول جیسی متبرک جگہ کی تعظیم کوبرقراررکھنے کی غرض سے حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے حضورﷺ کی نمازپڑھنے کی جگہ سوائے قدم مبارک کی جگہ چھوڑکرباقی جگہ پردیواربنوادی تھی تاکہ آپ ﷺ کے سجدہ کی جگہ لوگوں کے قدموں سے محفوظ رہے۔ بعدمیں ترکوں نے بھی اس دیوارکی حدتک محراب بنوائی ۔ چنانچہ اب اگرکوئی حاجی مصلیٰ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوکرنمازپڑھے تواس کاسجدہ حضوراقدس ﷺ کے قدموں کی جگہ پڑتاہے۔
 ریاض الجنتہ میں دورکعت نماز تحیۃ المسجد پڑھیں۔ اگریہاں جگہ نہ ملے تومسجدمیں جہاں جی چاہے ، نفل پڑھ لیں اوراس سعادت کے حاصل ہونے پراللہ تعالیٰ کی جناب میں سجدہ شکربجالائیں کہ کتنامہربان ہے اللہ تعالیٰ کہ اس مقام پرجانے والوں کواسی دُنیاوی زندگی میں انہیں جنت کے فرش پرسجدہ کرادیتاہے۔
مزارمبارک پرسلام پڑھنا
مزارمبارک کے سامنے سلام پڑھتے ہوئے ایک بات کاخیال رکھیں ،چیخ چیخ کر سلام نہ پڑھیں۔یہ حضورﷺ کادربارہے ۔ذراسوچئے توسہی،وہاں آپ یاہم جیسے حقیراورکم ترکی آوازنکلے۔اس کے لیے خوب احتیاط سے کام لیجیے ۔حضورﷺ کے دربارمیں صحابہ کرام ؓ جب بیٹھتے تھے تواپنی خاص ضرورت کی بات بھی نہیں کرتے تھے اورہم جواُن کی جوتیوں کی دھول میں بیٹھنے کے بھی قابل نہیں ہیں ،اس جگہ چیخ چیخ کر یا بلندآوازسلام پڑھیں ؟ہرگزنہیں ۔آپ کوجوبھی ،جیسے بھی خودکوآتاہے ، ویسے ین بڑی متانت اور تعظیم کے ساتھ سلام پڑھیں ۔ایک دفعہ پھر قرآن پاک کی آیت ذہنوں میں گونجنے لگتی ہے:’’اے لوگو!جوایمان لائے ہو،اپنی آواز نبی ﷺ کی آوازسے بلندنہ کرواورنہ نبی ﷺ کے ساتھ اونچی آوازسے بات کیاکرو،جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسانہ ہوکہ تمہاراکیاکرایاسب غارت ہوجائے اورتمہیں خبربھی نہ ہو‘‘(سورۃ الحجرات :۲۰)۔
اس ارشاد سے معلوم ہوتاہے کہ دین میں ذاتِ رسول ﷺ کی عظمت کاکیامقام ہے ۔آپ ﷺ کے احترام میں ذرا سی نادانستہ کمی بھی اتنابڑاگناہ ہے کہ اس سے آدمی کی عمربھرکی کمائی غارت ہوسکتی ہے۔اس لیے آپ ﷺ کااحترام دراصل اُس اللہ کااحترام ہے جس نے آپ ﷺ کورسول بناکربھیجاہے اورآپ ﷺ کے احترام میں تھوڑاسا تسامح کے معنی اللہ کے احترام میں کمی کے ہیں۔لہٰذا اس آیت کی روشنی میں اس بات میں اب قطعاًکوئی شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ آپ اس دربارمیں اپنی آوازبلندکرکے سلام پیش کریںلہٰذانہایت ہی ادب واحترام کے ساتھ حضورپاک ﷺ کے طفیل اپنی اوراُمت مسلمہ کی بھلائی کے لیے حق تعالیٰ کی بارگاہ میں التجائیں دعائیںکریں۔
یہاں ایک بات یادرکھنے کی ہے کہ حضور پاک ﷺ کے روضۂ پاک کے سامنے تین جالیاں ہیں اورتینوں کے درمیانی حصوں میں گول سوراخ رکھے گئے ہیں۔ بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ پہلی جالی میں حضورپاک ﷺ دوسری میں حضرت ابوٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍبکرصدیق ؓ اورتیسری میں حضرت عمرفاروق ؓ آرام فرما ہیں ۔ایسانہیں بلکہ درمیان والی جالی ہی میں آپ تینوں آرام فرمارہے ہیں ۔درمیان والی جالی میں ایک بڑا گول سوراخ رکھاگیاہے ۔یہ آپ ﷺ کی آرام گاہ کی سیدھ میں ہے ۔ا س سیٍٍ تھوڑادوقدم آگے حضورپاک ﷺ کایارغارحضرت ابوبکرؓ  محوآرام ہیں ،اس کے بعد حضرت عمرؓ کی آرام گاہ ہے ۔پیغمبر اسلام ﷺ کے حضور سلام عرض کر نے کے بعد پہلے خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اُن کے بعد خلیفہ دوم سیدناحضرت عمر فاروقؓ کے حضور مودب سلام عرض کی جاتی ہے ۔
حاضری مزارِ منوراورزیارات کے آداب 
نمازتحیتہ المسجد کے بعدروضۂ اقدس کے پاس حاضرہوں اورنہایت ادب سے کھڑے ہوں اوراپناچہرہ آنحضرت ﷺ کے مرقد مبارک کی طرف اورقبلہ سے پیٹھ پھیرکرکھڑے ہوں ۔ یہاںآنحضرت ﷺ کے بارے میں راسخ ایمان رکھیںکہ آپ ﷺ روضہ مبارک میں باحیات ہیں اورمیرا سلام سماعت فرماتے ہیں۔میرادرود سماعت فرما رہے ہیں۔ یہ بہت نازک مقام ہے ، چوکنا رہیے۔
روضہ ٔ جنت میں ستونہائے رحمت 
روضہ ٔ جنت میں قدیم مسجدنبوی ﷺ کے اندرآٹھ ستون ہیں ۔ان کواسطوانِ رحمت کہاجاتاہے۔ان پرسنگ مرمرچڑھاہوا اورطلائی کشیدہ کاری ہے۔پہلی قطارمیں چارستون سنگ سرخ کے ہیں اورامتیازکے لیے ان پران کانام کندہ ہے :(ا)اسطوانہ حنانہ :یہ ستون اس تنہ کھجورکی جگہ ہے جوآنحضرت ﷺ کے منبرپرمنتقل ہونے پرزورزورسے رویاتھا۔(۲) اسطوانہ حرس :جب حضورﷺ دولت کدہ میں تشریف لے جاتے توکوئی صحابیؓ پہرہ کی غرض سے آبیٹھتے ۔(۳) اسطوانہ وفود:باہرسے جووفودتشریف مشرف بہ اسلام ہونے کے لیے آتے تو یہاں بیٹھ کرحضور ﷺ کے دست مبارک پرمشرف بہ اسلا م ہوتے۔ (۴)اسطوانہ ابولبابہ :حضرت ابولبالبہ ؓ صحابی سے بہ تقاضائے بشریت غزوہ ٔ تبوک میں ایک خطاسرزدہوگئی تھی،جس کاقرآن مجیدکے پارہ ۱۱؍میں تفصیل کے ساتھ مذکورہے ۔ اس کی وجہ سے ابولبابہ ؓ نے اپنے کواس ستون سے باندھ دیااورکہاکہ جب تک حضورﷺ خودنہیں کھولیں گے ،بندھارہوں گا۔ حضورﷺ نے بھی یہ فرمادیاکہ جب تک مجھے خداکی طرف سے حکم نہیں ہوگا ،میں بھی نہیں کھولوں گا۔ چنانچہ پچاس روزکی طویل مدت کے بعداللہ تعالیٰ نے ابولبابہ ؓ کی توبہ قبول کی اورحضورت ﷺ نے انپے دستِ مبارک سے کھولا۔(۵) اسطوانہ ٔ سریر: یہاں حضور ﷺاعتکاف فرمایاکرتے تھے اوررات کوآرام کے لیے آپ ﷺ کابسترِ مبارک بچھادیاجاتاتھا۔(۶) اسطوانہ جبرئیل: حضرت جبرئیل حضرت وحیۂ کلبی ؓ کی صورت میں وحی لے کرتشریف لاتے تواکثراس جگہ بیٹھتے نظرآتے۔(۷)اسطوانہ تہجد۔۸۔اسطوانہ عائشہؓ ۔
اصحابِ صُفہ 
صفہ سائبان اورسایہ دارجگہ کوکہاجاتاہے ۔ یہ قدیم مسجدنبوی ؐ کے شمال مشرقی کنارے مسجدسے ملاہواایک چبوترہ تھا۔یہ جگہ اس وقت باب جبرئیل ؑ سے اندرداخل ہوتے وقت مقصورہ شریف کے شمال میں محراب تہجدکے بلکہ سامنے ۲؍فٹ اونچے پیتل کے جنگلے سے گھری ہوئی ہے۔اس کی لمبائی چوڑائی 40X40 فٹ ہے ۔اس کے سامنے خدام بیٹھے رہتے ہیں اوریہاں لوگ قرآن پاک کی تلاوت اور نمازوں میں مصروف رہتے ہیں۔یہاں  دورپاک میںوہ مسلمان رہاکر تے تھے جن کاکوئی گھربارنہ تھا،نہ ہی بیوی بچے اورنہ ہی کوئی اور۔یہ ’’اہلِ صفہ ‘‘کہلاتے تھے اورا س جگہ کو’’صفہ ‘‘کے نام سے یادکرتے ہیں ۔یہ غریب صحابہ رسول ﷺ سے دین کی تعلیم ہمہ وقت حاصل کرتے اوروقتاًفوقتاً تبلیغ اسلام کے لیے دوسرے مقامات پر آتے جاتے رہتے تھے۔ یوں توتمام صحابہ ؓ کی زندگی بہت زیادہ سادہ تھی مگراصحابِ صفہؓ کی زندگیوں میں اوربھی فقروسادگی اوردنیاوی چیزوں سے بے نیازی اوربے تعلقی پائی جاتی تھی۔یہ لوگ دن رات تزکیہ نفس اورکتاب وحکمت کے حصول کی خاطر فیضانِ مصطفوی ؐ سے مستفیض ہونے کے لیے خدمت نبوی ﷺ میں حاضررہتے تھے۔ نہ انہیں تجارت سے کوئی مطلب تھا اورنہ زراعت سے کوئی سروکار۔ان حضرات نے اپنی آنکھوں کوآپ ﷺ کے دیدار بے بدل،کانوں کوآپ ﷺ کے کلمات حسنہ اورجسم وجان کوآپ ﷺ کی صحبت عالیہ کے لیے وقف کررکھاتھا۔ یہ لوگ دین کی دولت سے مالامال تھے مگردنیاوی زندگی میں افلاس و ناداری کایہ عالم تھا کہ گروہ اصحاب ِ صفہ کے ایک جزولاینفک حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں:’’میں نے ستر(۷۰) اصحابِ صفہ کودیکھاجن کے پاس چادرتک نہیں تھی۔صرف تہہ بندتھایافقط کمبل۔چادرکوگلے میں اس طرح باندھ کرلٹکالیتے کہ وہ پنڈلیوں تک اوربعض کے ٹخنوں کے قریب پہنچ جاتی تھی اورہاتھ سے اسے تھامے رکھتے کہ کہیں سترکھل نہ جائے‘‘۔(بخاری شریف جلداول صفحہ ۶۳)
گنبدخضریٰ 
روضہ اقدس ﷺ کے اوپرگنبدخضریٰ ہے جس کی زیارت کرنے کی سعادت ہرمسلمان کے دِ ل کی تمنااورآرزو ہوتی ہے ۔ عہد زریں میں سب سے پہلے ۶۷۸ ھ میں الملک المنصور قلدون نے روضہ اقدس ﷺ پرایک گنبدبنایاتھا،جونیچے سے مربع اوراوپرسے آٹھ گوشوں کاتھا،جولکڑی کے تختے اورسیسے کی پلیٹوں سے تعمیرکیاگیاتھا۔روضہ اقدس ؐ (مقصورہ شریف )کاطول ۱۶ میٹریاتقریباً ۵۲ فٹ اورعرض ۱۵ میٹرتقریباً ۴۹فٹ ہے ۔چاروں گوشوں میں سنگ مرمرکے بڑے بڑے ستون ہیں جن کی بلندی چھت تک ہے ۔پہلے گنبدکارنگ سفیدتھامگر۱۲۵۵ھ میں اس گنبدپرسبزرنگ کرایاگیااورجب ہی سے اسے گنبدخضریٰ کے نام سے یادکیاجاتاہے۔یہی وہ گنبدخضریٰ ہے جس کا عاشقان ِ رسول ﷺ اپنے پاک خوابوں میں ہمیشہ بصد حسرت وشوق دیدار کر تے ہیں اورقسمت والے جب وہاں تک پہنچ جاتے ہیں تواس کی تجلیاں ان کے دِلوں میں نور،ان کی آنکھوں میں ایمان کی روشنی اوران کی روح میں سرورپیداکردیتی ہے۔(ختم شد)
فون نمبر8825051001
 

تازہ ترین