تازہ ترین

دھرنے پر بیٹھنے والے پولس افسران کے میڈل واپس لیے جا سکتے ہیں

8 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی//) مرکزی حکومت نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے ساتھ ٹکراؤ کے بعد کولکاتہ کے پولس کمشنر کے ساتھ دھرنے پر بیٹھنے والے مغربی بنگال کیڈر کے انڈین پولس سروس کے پانچ افسران کے طرز عمل کو غیر مناسب پایا ہے اور وہ ان کے تمغے اور اعزازات واپس لے سکتی ہے ۔ وزارت داخلہ کے اعلی سطح کے ذرائع کے مطابق مرکز ان افسران کے نام ڈیپوٹیشن کے پینل سے ہٹا سکتی ہے اور ان پر مرکزی حکومت میں خدمات دینے کے معاملے میں کچھ وقت کی پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق جن افسران کے خلاف یہ کارروائی کی جائے گی ان میں مغربی بنگال کے پولس ڈائریکٹر جنرل ویریندر، مغربی بنگال پولس کے ڈائریکٹر (سکیورٹی) ونیت کمار گویل، مغربی بنگال کے ایڈیشنل پولس ڈائریکٹر جنرل (قانون) انوج شرما، ودھان نگر کے پولس کمشنر انوج شرما اور کولکاتہ کے ایڈیشنل پولس کمشنر -III سوپرتم سرکار شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے مغربی بنگال حکومت سے ان افسران کے خلاف آل انڈیا سروس کی شرائط اور ضوابط کے تحت کارروائی کرنے کو بھی کہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت ان افسران کے خلاف کئی سخت قدم اٹھا سکتی ہے جن میں قابل ذکر اور قابل ستائش سروس کے لئے انہیں دیئے گئے تمغے اور اعزازات واپس لینا شامل ہے ۔ ساتھ ہی مرکز ان کے ناموں کو ڈیپوٹیشن کی فہرست سے ہٹا سکتی ہے اور ان پر مرکزی حکومت میں خدمات دینے پر ایک مخصوص مدت کے لئے پابندی لگائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت تمام ریاستوں کو ایک ایڈوائزری بھیجنے پر بھی غور کر رہی ہے جس میں اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہا جائے گا کہ پولس فورس اور دیگر وردیداری افسران آداب اور عزت بنائے رکھیں اور سروس کی شرائط اور قوانین پر عمل کریں۔ خیال رہے کہ گزشتہ چار فروری کو کولکاتہ میں اس وقت صورتحال نے ڈرامائی موڑ لیا جب شاردا چٹ فنڈ معاملے میں کولکاتہ پولس کمشنر راجیو کمار سے پوچھ گچھ کرنے گئے سی بی آئی کے افسران کو ریاستی پولس کی طرف سے حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے بعد ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے ساتھ مسٹر راجیو کمار اور دیگر پولس افسران دھرنے پر بیٹھ گئے ۔مرکزی وزارت داخلہ نے اس پر سخت موقف اپناتے ہوئے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری کو منگل کے روز خط لکھ کر مسٹر راجیو کمار کے خلاف ضابطے کی کارروائی کرنے کو کہا تھا۔یو این آئی ۔