تازہ ترین

اُردو کی ناک نہ کاٹیں!

گزارشات

9 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

رضوان طاہر
ہم جب بھی سماجی ذرائع ابلاغ (سوشل میڈیا) پر اردو املا یا زبان کی کوئی غلطی دیکھتے ہیں، تو فوراً مطلع کردیتے ہیں کیونکہ ہم صحت زبان کو کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں؟ البتہ زبان کی تبدیلی کے حوالے سے ایک سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ یہ تو بدلتی رہتی ہے، اس لیے اس کی غلطیوںکے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے، بس بات سمجھ میں آنی چاہیے، کافی ہے، آگے بڑھئے۔ نہیں صاحب! یہ دُرست ہے کہ زبان بدلتی ہے اور لفظ تبدیل بھی ہوتے ہیں اور اپنے معانی بھی اُتارتے اور پہنتے رہتے ہیں لیکن اس کا عذر کرکے اصلاح اور دُرستی کا دروازہ بند کرنا مناسب نہیں۔ کسی بھی زبان کا یہ حق ہے کہ اسے اچھی طرح جان کر سیکھ کر اس کے ہر ممکن آداب کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ رہی بات تبدیلی کی، تو وہ اپنے آپ غیر محسوس طریقے سے جاری ہے۔ زبان کی غلطیوں پر بضد رہنا زبان کی زوال پذیری کی راہ تو ہوسکتی ہے، ترقی کی منزل نہیں۔زبان دراصل سماج کی ترقی و تنزلی سے جڑی ہے، جب سماج زوال پذیر ہو تو اس کے اثرات سے زبان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔ ان کی وسعت اور سکت کمزور پڑنے لگتی ہے، جس سے براہِ راست اس میں اظہار اور فکر و خیال کی رنگا رنگی ماند پڑجاتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ کسی زبان کا جب کوئی لفظ مرتا ہے، تو اس کے ساتھ اس سے جڑی ہوئی پوری تہذیب فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ اس لیے زبان کا برتاؤ کہیں بھی ہو، اس کی دُرستی کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔یہ لفظ ہی ہیں جو اپنے معنی کے ساتھ ہمارے ذہن میں اپنا ایک عکس اور شبیہ بھی بناتے ہیں۔ ہم ان لفظوں سے اپنے کسی خیال اور احساس کو دوسرے کے دل میں اُتارتے ہیں اور کسی منظر کا ابلاغ کرتے ہیں۔کہیں ایک بات کے لئے متعددالفاظ اور کہیں ایک ہی لفظ میسر ہوتا ہے۔ زبان کے جیسے تیسے چلاؤ پر اَڑے رہنے والے ذرا ایک لمحے کے لیے دیکھیں تو وہ جسے زبان کا بدلاؤ کہہ رہے ہیں، اس سے براہِ راست اردو کی ترقی وترویج پر کتنا سنگین اثر پڑ رہا ہے ۔اب ’’جانِ من‘‘ جیسے لفظ کو ’’جانے من‘‘ لکھنے سے بڑی جذباتی توہین بھلا اور بھی کوئی ہوگی؟ زیر کے ذریعے بڑی ’’ے‘‘ کی آواز پیدا کرنے والے مرکب الفاظ کی یہ غلطیاں تو ہمارے نامی گرامی کالم نگار بھی دھڑلے سے کر رہے ہیں، سرے دست (سرِ دست) شانے شہر (شانِ شہر) بارے گراں (بارِ گراں)، فخرے قوم (فخرِ قوم) وغیرہ اس کی عام مثالیں ہیں۔لوحِ قلم کو’ ’لوہے قلم‘‘ لکھنے کا لطیفہ تو بہت عام ہوا۔ ہم ’’سوہانِ روح‘‘ لکھتے ہوئے ’’سُہانے‘‘ لکھ جاتے ہیں۔ اب اس سے زیادہ بھلا اردو کی توہین اور کیا ہوگی کہ جب دیوانِ غالب’ کو بھی ’’دیوانے غالب‘ ‘اورآبِ حیات کو ’’آبے حیات‘ ‘لکھ دیں؟لفظ ’’ق‘‘ کی دُرست ادائیگی شاید ہمارے سہل پسند گلے پر بہت گراں گزرتی ہے، اس لیے ہم قاری کو ’‘کاری‘‘ بولتے ہیں، تو اسے ’’کاری‘‘ ہی لکھ کر اردو پر کاری وار کرجاتے ہیں۔ اسی طرح بقرعید کو ’’بکرا عید‘‘ مقرر کو مکرر اور لائق کو’ ’لائک‘‘ کردینا معمول ہے۔ملتے جلتے الفاظ دیکھئےتو صرف گول ’’ہ‘‘ اور حلوے والی ’’ح‘‘ کے فرق سے ’’صلہ‘‘ اور’ ’صُلح‘ ‘کی تمیز نہ رکھی جائے تو کیا اسے زبان کی تبدیلی کہہ کر چپ رہیں؟ کسی نے تو صلہ کو بھی’ ’سلا‘‘ لکھ کر اپنی زبان کی اور بھد اڑائی!یکساں آواز اور مختلف املے والے الفاظ کا کیا رونا روئیں، ہمیں ایک بڑے پروفیسر نے اپنی کتاب لکھ کردی، تو ہماری نذر کے بجائے ’’نظر‘‘ (نگاہ) لکھ دیا۔ اسی طرح عَلم (پرچم) اور اَلم (غم)، ہامی (اقرار) اور حامی (حمایت کرنے والا)، سہی (آؤ تو سہی، جاؤ تو سہی میں برتا جاتا ہے) اور صحیح (دُرست)، سطر (ایک لائن) اور ستر (جسم کا چھپائے جانے والا حصہ)، ظن (گمان) اور زن (عورت) سے لے کر سورۃ (کلام پاک کا 114 حصوں میں سے ایک حصہ) اور صورت (چہرہ) کی تمیز نہ سمجھنا زبان کی تباہی نہیں تو اور کیا ہے؟’’ن‘‘ کے بعد ’’ب‘‘ ہو تو’ ’م‘‘ کی آواز پیدا ہوتی ہے، ستم ظریف اسے لکھ بھی ’’م‘‘ سے دیتے ہیں، جیسے سنبھل کو سمبھل، انبالہ کو امبالہ، اچنبھے اچمبھے وغیرہ۔ بہت سے اچھے لکھنے والے بھی مسجد کے منبر کو ممبر (Member) اور کنول کو ’’کمل‘‘ لکھتے ہیں۔ اردو میں برتے جانے والے لفظ ’’دنیا و مافیہا‘ ‘(یعنی دنیا اور جو کچھ اس میں ہے) کو انگریزی اصطلاح ’مافیا‘ Mafia لکھنے لگے کہ ’’دنیا و مافیا‘‘!ایک ادیب نے توسماں(منظر) کو’ ’سماع‘‘ (قوالی) لکھ ڈالا، فعل (کام) کو فیل Fail (ناکام) جاناں کو ’’جانا‘‘ پگھلا کو ’’پگلا‘‘ لکھ کر بھی اردو کے خوب بخیے ادھیڑے جا رہے ہیں۔دانہ (غلے کا بیج) اور دانا (عقل مند)، گلہ (شکایت) اور گلا (گردن)، پیسا (پسائی) اور پیسہ (ہمارا سکہ) وغیرہ جیسے الفاظ کے آخر میں اگر ’’ہ‘‘ اور’ ’الف‘‘ کا فرق بھلا دیں، تو سوچئے کہ دو بالکل الگ الگ الفاظ کس طرح گڈ مڈ ہوجائیں گے؟اسی طرح کسی چیز کو ڈھانکنے والی چیز کے لیے درست لفظ ڈھکن نہیں ’’ڈھکنا‘ ‘ہے۔ اب تو لوگ چودہ طبق کے بجائے ’’چاروں طبق روشن ہونا‘‘ کہتے ہیں۔ طوفانِ بدتمیزی کو ’’طوفانی‘‘ بدتمیزی اور یہاں تک کہ رئیس امروہی کو رئیس ’’امر، وہی‘‘ بھی کہنے لگے ہیں۔ گُل دستے (جس کے معنی ہی پھولوں کا مجموعہ ہے) کو ’’پھولوں کا گل دستہ‘‘ کہنے جیسی غلط تراکیب اور ’’تگ و دو‘‘ کے غلط ہجے سے لے کر بالکل کو ’’بلکل‘‘ لکھنے کی صورت تک کو ہم فقط زبان کی ’’تبدیلی‘‘ کہہ کر مطمئن نہیں ہوسکتے۔ یہ زبان کی زبوں حالی اور یتیمی ہے!زبانیں ضرور بدلتی ہیں اور اردو بھی بدل رہی ہے، یہ خود ہی اپنے حساب سے بدل جائے گی، آپ جو چاہے لکھیں، لیکن خدارا زبان کی ’’تبدیلی‘‘ کے نام پر اردو کے ذخیرہ ٔالفاظ اور اس کے وجود کو فنا کے گھاٹ اُتارنے کا ارتکاب نہ کیجیے! یعنی براہِ کرم ارود کی ناک نہ کاٹیں !۔