تازہ ترین

برف پگلتے ہی شہرمیں سڑکیں اور گلی کوچے زیر آ ب

لوگوں کا عبورومرور مشکل،کئی مقامات پر دکانیں بند

9 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر//کھلی دھوپ سے برف پگلتے ہی شہر کے گلی کوچے زیر آ ب آ گئے ہیں جس کے باعث لوگوں کا عبورومرور مشکل بن گیا ہے اور بیشتر علاقوں کے لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔عوامی حلقوں سے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اور ہنگامی اقدمات کے تحت نکاسی آب کا کام شروع کریں۔ شہر کے پرانے علاقوں کے علاوہ سیول لائنز، راجباغ، مہجور نگر،رام باغ،نٹی پورہ اور بمنہ کی گلی کوچوں میں کافی پانی جمع ہوگیا ہے جو لوگوںکیلئے پریشانیوں کا باعث بن رہا ہے ۔ بمنہ ، ٹینگہ پورہ ، بٹہ مالو ، پارم پورہ ، قمرواری ، شالہ ٹینگ ، برزلہ رام باغ ، مہجورنگر ، جواہر نگر ، پائین شہر کے علاقوں جن میں رعناواری بھی شامل ہیں کے سینکڑوں رہائشی مکانوں کے صحنوں میں پانی کی بھاری مقدار جمع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگوں کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لوگوں نے شکایت کی کہ برف پگھلتے ہی پانی نہ صرف سڑکوں اور گلی کوچوں میں جمع ہے بلکہ کئی مقامات پر پانی دکانوں اور مکانوں کے اندر چلا گیا ہے جس کی وجہ سے مکانوں کو گرنے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ برف پگلتے ہی ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔کئی دکانداروں نے بتایا کہ بازاروں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے ان کا کاروبار چوپٹ ہوگیا ہے۔گذشتہ روزجاری رہنے والی موسلا دھار بارشوں اور برفباری کے نتیجے میں سرینگر کے زیر آب علاقوں میں پانی کی سطح مزید بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے سڑکیںاور گلی کوچے جھیلوں کی کا نظارہ پیش کررہے ہیں۔مگھر مل باغ اور سراے بالا اور دیگر ملحقہ علاقے میں بازار، سڑکیں اور کوچے زیر آب آنے کے نتیجے میںایک ہفتہ سے معمول کی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج ہیں۔محمد اکبر میر نامی ایک بزرگ شہری نے بتایا کہ زیر آب علاقوں میں لوگوں کو چلنے پھرنے میں نہ صرف مشکلات درپیش ہیں بلکہ بیشتر علاقوں کے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کررہ گئے۔ان کاکہنا تھا کہ علاقہ میں نکاسی کا مسئلہ بہت پرانا ہے اور تھوڑی سے بارش کے ساتھ ہی علاقہ زیر آتا ہے جس کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر قدم بھی نہیں رکھ پار ہے ہیں۔شہنوار احمد نامی دکاندار نے بتایا کہ دکانیں او رکاروباری مراکز بند رہنے سے ان کا کاروبار چوپٹ ہوگیا ہے اور سینکڑوں نوجوانوں کے بے روز گار ہونے کا احتمال ہے۔کئی زیر آب علاقوں میں کسی کسی جگہ اگر چہ کچھ ایک دکانیں کھلی ہیں لیکن ان کے سامنے جھیل جیسے پانی کے ریلوں نے خریداروں کے قدم روک دئے ہیں۔جمعہ کو شہر میں کئی مقامات پر سرینگر میونسپل کار پوریشن، محکمہ یو ای ای ڈی اور محکمہ فائیر اینڈ ایمر جنسی کے اہلکارپمپوں و موٹروں سے پانی کی نکاسی کے کام میں دن بھر مصروف رہے۔ تاہم زمینی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے۔