تازہ ترین

درمیانہ داری کیسوں کو تحریک کے طور پر عملایاجائے

چیف جسٹس کا انصاف کی فراہمی میں تاخیر پر قابو پانے پر زور

9 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

جموں//درمیانہ داری کی بدولت جوڈیشل ڈلیوری سسٹم میں التواء کو کم کرنے اور متعلقین کی پریشانیوں کو دُور کرنے پر زور دیتے ہوئے جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ،جسٹس گیتا متل نے قانونی ماہرین پر زور دیا ہے کہ وہ ریاست میں درمیانہ داری کو ایک تحریک کے طور پر عملائیں۔ان باتوں کا اظہار چیف جسٹس نے وکلائو کے لئے میڈیشن سے متعلق تین روزہ ریفر یشر ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس ورکشاپ کا انعقاد میڈیشن ایند کنسلیشن کمیٹی ہائی کورٹ نے جموں وکشمیر حکومت کے اشتراک سے کیا تھا۔چیف جسٹس نے میڈیشن کے نظام کو جوڈیشل افسروں اور وکلاء کی طرف سے اداریاتی طور پر عملانے پر زور دیا تا کہ متعلقہ افراد اس نظام سے مستفید اور مطمئن بھی ہوں۔انہوں نے کہا کہ سماج میں قانونی جھگڑوں میں اضافہ ہونے کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے میڈیشن کو ایک تحریک کے طور پر آگے بڑھانا ہوگا۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میڈیشن کے ذریعے اگرچہ پہلی ہی سِٹنگ میں معاملہ طے نہ ہو پھر بھی جھگڑے کی نوعیت کم ہوجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیشن ہمارے سماج کے لئے بہت ضروری ہے اور جوڈیشری کو چاہئے کہ وہ ہر ممکن طریقے پر پارٹیوں کے درمیان یہ سہولیت بہم رکھے تا کہ معاملات کے نپٹارے کے لئے افہام و تفہیم کے دروازے کھلتے ہیں اور پارٹیوں کے درمیان اُن کی سوچ میں بہتری لانے کو فروغ ملتا ہے۔چیف جسٹس نے میڈیشن کے طریقے کار پر مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طریقے سے تمام شراکت داروں کو اپنا رول ادا کرنا چاہئے۔ججوں اور وکلاء کو چاہئے کہ وہ پارٹیوں کو میڈیشن کا طریقہ کار اپنانے پر زور دیں تا کہ اُن کے جھگڑے ختم کئے جاسکیں۔میڈیشن اور کنسی لیشن کمیٹی کی طرف سے ایسے ورکشاپوں اور ریفریشر کورسوں کے انعقاد کی ستائش کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ورکشاپ میڈیشن وکلاء کو مزید علمیت فراہم کرنے میں اعلی کردار ادا کرے گا۔چیف جسٹس نے ہائی کورٹ کو جدید ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے سے لیس کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ میں معیاری انصاف فراہم کرنے میں یہ طریقہ کار معاون ثابت ہوگا۔چیئرمین میڈیشن اینڈ کنسی لیشن کمیٹی جے اینڈ کے ہائی کورٹ جسٹس تاشی ربستن نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں کہا کہ مختلف پارٹیوں کے درمیان جھگڑوں کو حل کرنے کے لئے افہام و تفہیم کا طریقہ سب سے بہتر مانا جاتا ہے اور یہ طریقہ کار آگے بھی اپنایا جانا چاہئے۔انہوں نے اس موقعہ پر ریاست میں میڈیشن مراکز کی کارکردگی کا خلاصہ پیش کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی نے کئی میڈیشن وکلاء کو خصوصی تربیت فراہم کی ہے۔جسٹس ڈی ایس ٹھاکر، جسٹس سنجیو کمار، جسٹس سندھو شرما، رجسٹرار جنرل جے اینڈ کے ہائی کورٹ سنجے دھر، جوڈیشل افسران، صدر جے کے بار ایسوسی ایشن جموں بی ایس سلاتھیہ اور سینئر وکلاء بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔ورکشاپ کے پہلے سیشن کی صدارت چیف جسٹس نے کی ۔