! لندن کی کشمیر کانفرنس

کھول آنکھ زمیں ‘دیکھ فلک دیکھ‘ فضا دیکھ

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ایس احمد پیرزادہ
5فروری  کو’’ یوم یکجہتی ٔ کشمیر ‘‘کی مناسبت سے پاکستانی کوششوں کے نتیجے میں برطانوی پارلیمان میں ۴؍ فروری کو ایک بین الاقوامی کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی ہے، جس میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور برطانوی ارکانِ پارلیمان کے علاوہ آرپار کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ لندن روانگی سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے حریت کانفرنس کے دو سینئر لیڈروں سیّد علی شاہ گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے اُنہیں کشمیریوں کی جدوجہدبرائے حق خود ارادیت کی بھرپور انداز میں سیاسی، سفارتی اوراخلاقی مدد دینے کے اپنے قومی مؤقف کا اعادہ کرنے کے علاوہ کشمیری عوام کے ساتھ دُکھ کی ان گھڑیوں میں یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔ مر کزی حکومت نے شاہ محمود قریشی کی ان فون کالزپر کافی اعتراض کیا، اور اس موضوع پر اپنے پرائم ٹائم میں بات کا بتنگڑ بنانے والی میڈیا چینلوں نے طویل ٹاک شوز کرکے پاکستان کو آڑے ہاتھوں لینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، حالانکہ ماضی میں بھی پاکستان کے حکومتی ذمہ داروں کی جانب سے مزاحمتی قائدین کے ساتھ مختلف مواقع پر رسمی طور بات چیت ہوتی رہی ہے مگرا س پر دلی میں کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوتا ۔اٹل بہاری واجپائی کے دورِ اقتدار میں بھارت نے حالات ساز گار بنانے کے لیے کئی مرتبہ حریت لیڈران کو از خود پاکستان جاکر وہاں کے حکمرانوں کے ساتھ گفت وشنید کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ اس بار جب دو تین ماہ وبعد پارلیمانی الیکشن ہورہے ہیں، سیاسی جماعتیں کوئی نہ کوئی’’ مدعا‘‘ کھڑا کرکے چاہتی ہیں تاکہ خود کو حریفوں سے زیادہ دیش بھگت دکھائیں۔ بنابریں شاہ محمودقریشی کی ان فون کالزکو ان پارٹیوں نے اپنی بے جان انتخابی مہم میں نئی روح پھونکنے کے لیے استعمال کرنے کی ناکام کوششیںکیں۔ اُدھر لندن کانفرنس کے علاوہ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں ۵؍فروری کی مناسبت سے منعقد ہونے والی مختلف تقاریب سے روایتی طور حریت لیڈران ٹیلی فونک خطاب نہ کرسکے کیونکہ ۵ ؍فروری کو سری نگر میں حیدرپورہ، نگین اور مائسمہ میں تین کلومیٹر تک وسیع حدود اربعہ میں انٹرنیٹ سہولیات یکایک کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بندکردی گئیں۔ اس طرح حریت لیڈروں کی جانب سے دنیا میں منعقد کی جارہی کسی بھی تقریب سے ممکنہ مواصلاتی تقریروں کو ناممکن بنادیا گیا۔
 کئی سال سے۵؍ فروری کو پاکستان سرکاری طور ’’یوم یکجہتی  ٔکشمیر‘‘منارہا ہے۔ اس سال پہلی بار پاکستانی حکومت نے بیرون دنیا ۵؍ فروری کے موقعے پر کافی سیاسی اور سفارتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا تھا۔ اس بارمسئلہ کشمیر کو اپنے تاریخی پس منظر میں اُجاگرکرنے کے علاوہ اسلام آباد نے سرکاری سطح پر جموں وکشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کو باخبر کرانے کے لئے دنیا کے مختلف گوشوں میں جانکاری مہم چھیڑ دی۔ برطانوی پارلیمان میں عالمی سطح کی کشمیر کانفرنس منعقد کرنے کے علاوہ لندن کے ہی ایک ہوٹل میں کشمیر سے متعلق خصوصی تصویری نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دلدوز کہانی تصاویر کی زبانی سنائی گئی۔ایران، افغانستان، ملیشیا، امریکہ کے علاوہ دیگر درجن بھر ممالک میں بھی ’’یوم یکجہتی ٔ کشمیر‘‘ کی مناسبت سے متعدد تقاریب کا انعقاد کیا گیاجن میں کشمیریوں کے جائز اور مبنی برحق جدوجہد کو اُجاگر کر تے ہوئے اقوام عالم سے اپیل کی گئی کہ وہ اس انسانی مسئلہ کی جانب فوری توجہ دے کر اپنا کردار ادا کریں۔برطانوی پارلیمان میں مسئلہ کشمیر پر عالمی سطح کی کانفرنس کے انعقاد کو تجزیہ نگار بھارت کی کمزور خارجہ پالیسی اورسفارتی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں، حالانکہ مودی سرکار نے سفارتی سطح پر ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے برطانیہ میں یہ عالمی کانفرنس سبوتاژ ہو لیکن برٹش گورنمنٹ نے ممبران پارلیمنٹ سمیت ہر فردبشر کو حاصل آزادی ٔاظہارِ رائے کے سبب دلی کے ذہنی تحفظات کو نظرا نداز کر کے کانفرنس میں کسی بھی طرح کی مداخلت نہ کی ۔ یوں نئی دلی کے نقطۂ نظر کو ناقابل اعتناء قراردیا گیا۔
تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو صاف نظر آئے گا کہdivide and rule کی منافقانہ پالیسی پر عمل پیرا بر طانیہ نے ہی بر صغیر سے جاتے جاتے مسئلہ کشمیر جیسے ناسور کو جنم دیا جس نے کشمیر کو میدان جنگ بنانے کے علاوہ بھارت پاک معیشتوں کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑاکیا ہے کہ آج کی تاریخ میں آرپار کو دفاعی اخراجات پر کئی کئی لاکھ کروڑ ضائع کر کے اپنے اپنے ملک میں بھوک ، بیماری ا ور بے علمی کو گلے لگانا پڑرہاہے۔
 اُدھر اقوام متحدہ جوہری طاقت رکھنے والے دو ہمسایہ ملکوں کو کشمیر کے رستے ناسورکے نتائج وعواقب سے لاتعلقی دکھاکر اپنی قراردادوں کو عملانے میں عدم دلچسپی دکھاتا جارہاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دہائیوں پر محیط اس آدم خور مسئلے نے تاحال لاکھوں لوگوں کو نگل لیا ہے، اَربوں کھربوں کی اِملاک تباہ و برباد ہوگئی ہیں، اسی ناسور زدہ مسئلے کا نتیجہ ہے کہ آر پار کے عوام کے اصل اور حقیقی مسائل سے صرفِ نظر کرکے برصغیر میں مہلک اور خطرناک ہتھیار جمع کرنے کی دوڑ لگ چکی ہے اور ڈیفنس بجٹ میں سال بہ سال اضافے کر کے قومی تفاخر کا مظاہرہ غرباء کی قیمت پر کر کے مغرب کی ا سلحہ ساز کمپنیوں کو رواں دواں رکھاجارہاہے۔ ظاہر ہے اس وجہ سے ہند و پاک میں کروڑوں عوام بارُود کے ڈھیر پر سانس لے رہے ہیں ۔دونوں جانب پنپنے والی نفرت اور دشمنی کے ا یندھن پر پکا یا جارہا لاواکبھی بھی پھٹ سکتا ہے اور نہ رہے گی بانس نہ بجے گی بانسری کے مصداق قیامت صغریٰ بپا ہوسکتی ہے۔ اگر دونوں جانب سے ہوش مندی اور وسیع الدماغی سے کام نہ لیا گیا تو یہ نفرت انسانی تاریخ کی بدترین تباہی کی شکل اختیار کر کے برصغیرخدانخواستہ کو ناسیاً منسیا کرسکتی ہے تاریخ کے اشک بارا وراق بتاتے ہیں کہ اس پیچیدہ مسئلے کو جنم دینے میں برطانوی سامراجیت کی ہی شاطرانہ اور مکارانہ سازشیں کارفرمار ہیں لیکن پھر کبھی روس نے اور کبھی امریکہ نے اسے اپنے مفادات اور اغراض کا خم خانہ سجاتے ہوئے پیچیدہ تر بنایا۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ برطانوی سلطنت جس کے حدود میں کبھی سورج غروب ہی نہیں ہوتا تھا، کے حکمرانوں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ دنیا ایک آفاقی خاندان میں بدل چکی ہے،اس لئے سیاسی تنازعات کی چلچلاتی دھوپ میںبھی ہر فرداور قوم کے سر پر شخصی آزادیوں کے بین بین آزادیٔ اظہار اور انسانی حقوق کا فرحت رساں سایہ ہونا چاہیے۔ شایدیہی وجہ ہے کہ اپنی جمہوری سوچ کا بھرم رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ بڑی قربت اوردلی کے اصرار کے باوجود برطانیہ نے اپنی سرزمین پر کشمیرکے حوالے سے ہورہی کشمیر کانفرنس اور متعلقہ سرگرمیوں پر کوئی قدغن عائد نہیں کی اور برطانوی پارلیمانی ارکان نے مذکورہ کانفرنس میں گرم جوشی سے شرکت کرکے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی کھل کر حمایت کی۔
لندن کانفرنس میں مقررین نے مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وادی کے طول وعرض میں جاری افسپائی ظلم وزیادتیوں کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی۔ کانفرنس کے اختتام پر کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف جومذمتی قرار داد پیش کی گئی ،اُسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ شرکاء نے قرارداد میں کشمیریوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ظلم و زیادتیوں کے دہکتے جہنم کو بجھانے کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پیلٹ گن کے چھروں سے متاثر ہونے والے پیروجواں کی فوری طبی امداد فراہم کی جائے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے کیونکہ مسئلہ حل نہ ہونے سے نہ صرف کشمیریوں کے مشکلات میں اضافہ ہوتاجارہا ہے بلکہ یہ معاملہ خطے کے امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ بنتا جارہا ہے۔دہائیوں پر محیط کشمیریوں کی جدوجہد کے لیے یہ حوصلہ افزاء پیش رفت ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں اب لوگ جمع ہوکر کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، یہاں ہورہی ظلم و زیادتیوں پر اپنی فکرو تشویش کا کھلا اظہار کرتے ہیں، مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے کر کشمیر کے حوالے سے اس کی جمودی پالیسی کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔ لندن کانفرنس میں ناورے کے سابق صدر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ کشمیردنیا کے سلگتے مسائل میں سرفہرست ہے ، وہاں کے لوگ مصائب و مشکلات میں مبتلا ہیں ، اُن کے انسانی حقوق عملاً موقوف کرلیے گئے ہیں۔ 
دلی میں بر سر اقتدار بی جے پی سرکار نے ابتداء سے ہی کشمیر کے حوالے اپنا روایتی سخت گیرانہ مؤقف اختیار کرکے بظاہر اپنی دانست میں ہمالیہ جیسی حقیقت ِکشمیر کا سرے سے ہی انکار کیا تھا۔ مودی سرکارنے مسئلہ کشمیر کو محض ایک انتظامی مسئلہ یا بقول گورنر ستہ پال ملک اسے ۱۳؍ تا ۲۳؍ سال عمر کے نوجوانوں کا مسئلہ قرار دینے کے لاکھ جتن کئے اور جس طرح یہودی ہولوکاسٹ پر بات کرنے کو اُن کے عقیدے پر وار سے تعبیر کرتے ہیں ،اسی طرح بی جے پی سرکار نے کشمیر کو متنازعہ فیہ خطۂ ارض قرار دینے والوں کے منہ زبردستی بند کر وادئے اور اگر پھر بھی بیرون ملک کہیں کوئی آواز کشمیر مسئلہ کے حق میں اُٹھی بھی تو ہندسرکار یاتواس کی اَن سنی کردیتی رہی ،یا بات ٹالتی رہی یا پھر زبردست غصیلا ردعمل ظاہر کرکے کشمیر کو اپنا داخلی مسئلہ قرار دے کر ان ملکوں کو مداخلت نہ کرنے کی مفت صلاح بھی دیتی رہی۔بظاہر اس جمود پسندانہ اور جارحانہ اپروچ کے ذریعے پریواری سوچ رکھنے والے انڈین پالیسی ساز کئی مقاصد بیک وقت پانا چاہتے  ہیں۔ان میں سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ کشمیری عوام نفسیاتی طور شکست تسلیم کرکے کسی حل سے نااُمید ہوجائیں اور مایوسی کے عالم میں اپنی جدوجہد سے دستبردار کریں۔اس پالیسی کا ایک ہدف یہ بھی رہا کہ اقوامِ عالم بھارت کی سخت گیر کشمیر پالیسی دیکھتے ہوئے حقیقی معنوں میں کشمیر کو بھارت کا اندرونی مسئلہ تسلیم کریں تاکہ کشمیر میں کسی بھی طرح کی ممکنہ تھرڈ پارٹی ثالثی یا عالمی سینہ صفائی خارج از امکان قرار پائے لیکن وقت نے ثابت کردیا دیا کہ ’’ڈول ڈکٹرائن‘‘ کا یہ فارمولہ سرے سے ہی ناکام ثابت ہوچکاہے۔ دھونس ، دباؤ اور زور ِبازو سے عوامی موؤمنٹ کو دبانے کی پالیسی کا بالکل ہی اُلٹا ردعمل سامنے آرہاہے۔ پانچ سال پہلے کے مقابلے میں آج ریاست کے حالات کافی ابتر ہیں، تشدد کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے، عوامی بے چینی اپنے عروج پر ہے، نوجوان نسل میں بڑھتے ہوئے غصے کو بھارتی پالیسی ساز اور فورسز ایجنسیاں بھی کبھی دبی زبان میں اور کبھی کھلے طور تسلیم کررہے ہیں۔ گزشتہ ادوار کے مقابلے میں کشمیری بھی زیادہ شدت کے ساتھ اپنی حق خود ارادیت کی مانگ کرنے لگے ہیں۔ کشمیر کے بارے میں بیرونی دنیا کا حال احوال یہ ہے کہ جس’’ یوم یکجہتی ٔ کشمیر‘‘ کے موقع پر تقریبات کا سلسلہ پاکستان تک محدود رہتی تھیں ،وہ اب سرحدیں پھلانگ کر درجنوں ممالک بشمول کابل منایا جانے لگا ہے، عالمی سطح پر مطلوبہ نہ سہی لیکن کشمیریوں کے حق میں اب آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔گویا بی جے پی کی سخت گیرانہ اور شدت پسندی پر مبنی پالیسی لاحاصل ثابت ہورہی ہے۔
ہندوستانی حکومت نے پاکستان کو عالمی سطح پر گھیرنے کی مہم بھی شروع دن سے چھیڑ رکھی تھی، کشمیر کو لے بھارت کبھی پاکستان پر ’’دراندازی اور دہشت گردی‘‘ کا الزام لگا کر  اسے دنیا بھر میںبدنام کرنے کی کوششیں کرتا جارہا تھا اور کبھی بلوچستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر کے ا ور کبھی امریکہ کا اتحادی بن کر افغانستان کے راستے پاکستان کی گردن دبوچنا چاہتا تھا ، چناںچہ بدیں وجوہ گزشتہ چند برسوں میں انڈیا پاکستان کے درمیان کنٹرول لائن سے زیادہ افغانستان کی سرزمین پر سرد جنگ چلتی رہی۔دلی نے کابل میں خوب سرمایہ کاری کرکے وہاں زمینی سطح پر پاکستان مخالف ماحول تیار کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی حمایت سے پاکستان کے اندرونی معاملات بالخصوص بلوچستان میں مبینہ طور اپنا جال بچھایا،کلبھوشن یادو کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ بھارتی سابق جنرلوں کے کئی بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں وہ اعتراف کررہے ہیں کہ انڈیا ، پاکستان سے کشمیر کا بدلہ بلوچستان میں لے رہا ہے ۔ ایک سال پہلے تک افغانستان میں بھارتی سفارت کاری اور سرمایہ کاری کو نئی دلی کی پاکستان پر اسٹرٹیجک جیت سے تعبیر کیا جارہا تھا لیکن طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کی کوششیں اور اس میں پاکستانی کارڈ نے پورا منظر نامہ ہی یکسر تبدیل کردیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی زبانی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کابل میں لائبریری بنانے کے آئیڈیا کا مذاق اُڑایا جانا ہوا کا رُخ بتا تا ہے ۔اس لئے اب بھارتی حکمران اور سیکورٹی ادارے کھل کر افغانستان کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ گویامسئلہ کشمیر سے جان چھیڑانے کے جتنے بھی جتن بی جے پی سرکار نے کئے اور جتنے بھی فارمولے آزمائے ہیں، وہ سب اُلٹے گلے پڑرہے ہیں اور وقت کی سوئی وہی آکر ٹھہرتی ہے جہاں مسئلہ کشمیر اپنے حل کے لیے دُہائیاں دے رہا ہے۔
 لندن کانفرنس ان زمینی حقائق پر مہر تصدیق ثبت کر تے ہیں کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ وجاوید حقیقت ہے، اسے نظرانداز کرکے یا مختلف ہتھکنڈے بروئے کار لانے سے اس کے قابل قبول سیاسی حل سے بھاگ جانا کوئی دانش مندی نہیں۔ یہ ایک ناسور ہے جس کے علاج میں جتنی دیر لگادی جائے، اُتنا ہی اس کا زہر پھیلاتا جائے گا اور یہ برصغیر کے کروڑوں عوام کے لیے ہرمحاذ پر وُبال جان بنتار ہے گا ۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ مرکز کشمیر کے ارضی حقائق تسلیم کرکے پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرے اور اس مسئلہ کو پُرامن اور منصفانہ حل ڈھونڈ نکالے۔ آج کی دنیا تنازعات کے گورکھ دھندوں سے نکل کر خوشحالی کی جانب گامزن ہورہی ہے مگر برصغیر میں لکیر کی فقیر پارٹیاں اپنے حقیر مفادات خاص کر ووٹ بنک سیاست کے لیے کشمیر جیسے انسانی مسئلہ کو لٹکاکر کند ذہنیت کا ثبوت متواتر دئے جا رہی ہے، مگر یا دکھیں کہ کشمیر کانفرنس کے مندوبین کے مانند دیر سویر دنیا کشمیریوں کی حمایت میں کھڑی ہوجائے گی اور وہ وقت بھی آئے گا جب بڑی طاقتوں کے مفادات بھارت ورش میں اُسی طرح مفادات ختم ہو کر رہ جائیں گے جس طرح امریکہ کی افغانستان میں دلچسپی ختم ہوئی ہے اور اب طالبان کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دینے والا اَنکل سام اِن پگڑی والوں سے امن کی بھیک مانگ رہا ہے ، جن لوگوں کے ساتھ وہ کل تک گونتاناموبے کے تعذیب خانوں میں جانوروں جیساسلوک کررہا تھا ،وہی سُپر پاور آج اُن کے روبرو میز پر بیٹھ کر مذاکرات کررہاہے اور شرائط شکست وپسپائی  پر بھی رضامندی ظاہر کرہاہے۔جس طرح یہ بڑی طاقتیں آج طالبان کو گلے لگا رہی ہیں، اُسی طرح انڈیا میں امریکہ کی china- centric دلچسپی ختم ہوجانے پر وہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہوسکتاہے ۔ ایسا ممکن  ہی نہیںہے بلکہ یقینی ہے، کم ازکم افغانستان کی گردشِ تاریخ نے یہ اٹل حقیقت ثابت کردی کہ وقت کی کایا پلٹ جانے میں کوئی صدیوں طویل دیر نہیں لگتی ۔

 

تازہ ترین