تازہ ترین

مزید خبریں

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک

 نوجوان کی موت پرسروڑی کا اظہار افسوس

کشتواڑ//جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر غلام محمد سروڑی نے دربیل کے بارہ سالہ کرن سنگھ ولد اشوک کمار کی موت پر دکھ کا اظہار کیا ۔واضح رہے کرن سنگھ کا تعلق ضلع کشتواڑکی تحصیل مغلمیدان کے دربیل سے تھا جو ایک برفانی تودے کی زد میںآگئے اور دنیا سے چل بسے ۔اس سلسلہ میں سروڑی نے مرحوم کی موت پردکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار کنبے سے اظہار تعزیت کیا ۔موصوف نے کہا کہ اس دکھ کو بیان کرنے کیلئے ان کے پاس لفظ نہیں ہیں ۔وہیں سروڑی نے ریاستی گورنر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سوگوار کنبے کو دس لاکھ روپئے ایکس گریشیا رلیف کے طور پر دیا جائے ۔قابل ذکر ہے کہ جب برفانی تودے نے گائوں کو اپنی زد میں لیا تو کرن سنگھ لا پتہ ہو گئے جو ایک شادی کی تقریب سے واپس لوٹ رہے تھے ۔وہیںسروڑی نے دراب شالہ کے کلی گاڑ علاقہ کا دورہ کر کے برف ہٹانے کے کام کا جائزہ لیا جو بھاری برف باری کی وجہ سے بند ہو گیا تھا۔
 
 
 

 طبی اور تعلیمی اداروں میں عملہ کی کمی سے دندراٹھ کی عوام نالاں

ایم ایم پرویز

رام بن //ہالہ دندریٹھ کے عوام نے شکایت کی ہے کہ انہیں طبی اداروں میں ڈاکٹروں کی قلت اور سکولوں میں اساتذہ کی قلت سے کافی پریشانیاں ہورہی ہے۔موضع کے سرپنچ معراج خان نے شکایت کی کہ کرول کنڈی کویمیت روڈ ،جو کہ علاقہ میں ایک اہم روڈ ہے کسی وجہ  سے علاقہ کے آدھے درجن دیہات کو رابطہ فراہم ہوتا ہے لیکن یہ سڑک 23جنوری سے بند پڑی ہے۔اُس نے مزید شکایت کی ہے کہ پی ایم جی ایس وائی ڈویژن بٹوت نے ابھی تک اس سڑک پر سے پسیاں نہیں ہٹائی ہیں۔اُ س نے مزید بتایا کہ علاقہ میں بھاری برفباری سے ایک درجن سے زائد مکانات کو نقصان ہوا ہے جبکہ مکینوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا ہے کیونکہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی بھی اہلکار نے ان علاقوں کا دورہ نہیں کیا ہے،تاکہ نقصان کا تخمینہ لگایا جاسکے او رراحت کاری کا کام شروع کیا جا سکے۔مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر ہالہ کے لئے منظور شدہ ڈاکٹروں کی اسامیوںکو فوری طور پُر کیا جائے، کرول کنڈی کویمیت سڑک کو بحال کیا جائے ۔مکینوں نے علاقہ کے مسائل حل کرنے کے لئے ضلع ترقیاتی کمشنر سے اپیل کی ہے۔ موضع کے سرپنچ نے الزام لگایا ہے کہ پی ڈی ڈی ایچ ٹی اور ایل ٹی  ٹرا نسمیشن لائنوں کی مرمت کرنے میں ناکام رہی ہے ،جسکی وجہ سے ایک مہینے کے بعد بھی انہیں بجلی بحال نہیں کی گئی ہے۔
 
 
 
 

ریاسی میں PMKSN یوجنا کی عمل آوری پرتبادلہ خیال

ریاسی //ضلع ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر ساگر دت اترے دوئیفوڈ نے مرکزی سرکار کی کسانوں کی معاونت پروگرام PMKSN کو ضلع میں لاگو کرنے کی عمل آوری کاجائزہ لیا۔سکیم ہذا کے تحت سرکار چھوٹی متوسط درجہ کے کسانوں کو مالی مدد فراہم کرے گی جو محکمہ مال ، محکمہ زراعت  اور دیگربلاک سطح کی دفاتر کی جانب سے متوقع مستفیدین میں جانچ  و پڑتال کے بعد انکے کھاتوں میں جمع کی جائے گی ۔اجلاس میں سکیم سے متعلق متعدد مدعوں پر بحث کی گئی ،جیسے کہ اسفادہ حاصل کرنے والوں کے ااعداد و شمار اپ لوڈ کرنا ، استفادہ حاصل کرنے والے کے کھاتوں کو ایکٹویٹ کرنا،مخصوص کٹیگری کی فہرست تیار کرنا ،اعداد و شمار جمع کرنا اور کیمپ وغیرہ منعقد کرنا بھی شامل تھا۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈپٹی کمشنر رمیش چندر، اے سی ڈی سنیل شرما ،ایس ڈی ایموں، چیف اگریکلچر افسر اونکار سنگھ،چیف ہارٹیکلچر افسر وی کے گپتا، و ضلع انفارمیٹکس افسر آشیش ڈوگرہ و دیگر ضلع افسروں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ 
 
 
 

اینٹر پرینورل فلیگ شپ بے روزگاروں کیلئے اہم

بنی نوع انسان کو کرہ ارض پر زندہ رہنے کیلئے بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔ان ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اسے پیسے کمانے کی ضرورت ہے،جسکے لئے انہیں کام کی ضرورت ہے، وہ کام ایک نوکری ہوسکتی ہے یا کاروبار یا کوئی دیگر کام ،جس سے وہ زندہ رہنے کے لئے کما سکتے ہیں۔کام کرنے کے مواقعوں کی عدم دستیابی سے بیروزگاری کا مسلہ پیدا ہوتا ہے۔   موجودہ حالات میںنہ صرف نوجوان طبقہ بیروزگاری مسلہ سے پریشان ہیں بلکہ تعلیم یافتہ بیروزگاری اورکم روزگار کے مسلہ سے بھی متاثر ہوئے ہیں۔بیروزگاری آسان لفظوں میں ایک حالت ہوتی ہے ،جس میں ایک شخض کام کرنا چاہتا ہے لیکن اپنے روزگار کیلئے بلا لحاظ قابلیت اور ہنر کے کام حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔تاہم ، ایک شخض جس کے پاس کوئی تعلیمی قابلیت ہے اور کام کرنے کا متمنی ہے لیکن اسکے لئے کام دستیاب نہیں ہے ،جس کی وجہ سے وہ تعلیم یافتہ بیروزگاری مسلہ کا شکار ہو جاتا ہے۔اگر اسے کوئی کام ملتا ہے،جو کہ اسکی تعلیمی قابلیت یا ہنر کے ساتھ میل نہیں کھاتی ہے لیکن وہ اسے کرنے کے لئے تیار ہے کیونکہ جاب مارکیٹ میںکوئی متبادل کام دستیاب نہیں ہے، اس سے کم روزگار کا مسلہ پیدا ہوتا ہے۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک ورکر کا غلط استعمال ہے۔حالیہ دور میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ کم اہلیتی قابلیت کی اسامیوں کے لئے درخواست گُذاری کرتے ہیں ،جس سے ورکنگ فورس کے ہنر کا ناجائز استعمال ہوتا ہے۔   ریاست جموں و کشمیر کے معاملہ میں قومی ریاستوں کے مقابلہ میں حالات اور بھی سنگین ہیں۔کافی وسائل اور افرادی قوت ہونے کے باوجود اس پر اعتماد کرنا دکھ کی بات ہے کہ ملک میں ریاست بیروزگاری شرح میں5ویں نمبر پر ہے،جس کا فیصد10.7ہے جو کہ قومی بیروزگاری کے شرح5.3کے مقابلہ میں دوگنا ہے۔جموں و کشمیر کے علاوہ زیادہ شرح کی بیروزگاری والی ریاستیں ہریانہ میں21.1فیصد، ہماچل پردیش17.5فیصد،تری پورہ 13.6فیصد اور جھار کھنڈ میں11.5فیصدہے۔ریاست میں ہزاروں کی تعداد میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ تیار کئے جاتے ہیںلیکن سرکار کی جانب سے بہت ہی کم نوکریاں پیدا کی جاتی ہیں۔تعلیم یافتہ نوجوانوں(جو کام کی تلاش میں ہیں ) اور پیدا کی اجرہی اصل ملازمت کی تعداد میں تفاوت ہے ،جو ریاست کی اقتصادی ترقی میں روکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ریاست میں پرائیویٹ سیکٹر کہیں بھی نہیں ہے،جس سے بیروزگار نوجوانوں کے انتثار میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بدعت سے چھٹکارہ پانے کیلئے کیا کیا جائے؟کیا ریاست میں ان بیروزگار نوجوانوں کیلئے کوئی متبادل ہے؟اسکا جواب ہے کہ ہمیں ترجیحی بنیادوں پر بعض شعبوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنیکی ضرورت ہے، جس سے بیروزگار نوجوانوں کو کام کے کافی مواقعے مہیا ہونگے۔اینٹر پرینورشپ ڈیولپمنٹ اور مائیکرو، چھوٹے و درمیانہ درجہ کے اینٹر پرائز شعبہ وہ شعبے ہیں ،جہاں پر ہمارے پالیسی سازوں اور سرکار کو توجہ دینا چاہیے۔لیکن بد قسمتی سے ریاست ان دونون شعبوں میں پیچھے ہے۔ایک وقت جب اس چھوٹے کاروبار کو ہر اقتصادیات کی ریڑھ کی ہڈی اور فلیگ شپ (چاہیے ترقی پسند ہو یا ترقی یافتہ ہو)قرار دیا جاتا ہے،ہم ابھی بھی ابتدائی مرحلہ میں ہیںاور ملک کے صنعتی نقشے میں اپنا مقام نہیں پاتے ہیں۔ہمیں اپنی کمی کو دیکھنے کے لئے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔مائیکرو ،چھوٹے و درمیانہ درجہ کا شعبہ فقط ایک ایساشعبہ ہے جو دونوں ہنر مند اور غیر ہنر مند افرادی قوت کو ایڈجسٹ کر سکتا ہے۔اس شعبہ کے فروغ سے مثبت نتائج نکل سکتے ہیںجو پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے،بر آمد گی میں اضافہ کرسکتااور ریاست میں کام کے مواقعے پیدا کرسکتا ہے۔یہ شعبہ اقتصادی ترقی کو فروغ دے سکتا ہے اور ساتھ ساتھ اس سے بیروزگاری کا مسلہ بھی کم ہوجائے گا۔لیکن جب تک ہمارے پاس اینٹر پرینورل کا ایک اچھا کلچر نہیں ہوگا ،یہ مسلہ با ر بار ہماری ترقی میں روکاوٹ ڈالے گا۔ہمیں ریاست میں اینٹر پرینورل کلچر کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے،تاکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے کام کے مواقعے پیدا کئے جائیں گیاور کام ڈھونڈنے کے بجائے وہ دیگر لوگوں کو بھی کام فراہم کرنے والے بن جائیں۔  انیٹر پرینور کلچر کو ابھی تک ریاست میں فروغ حاصل نہیں ہوا ہے۔ہمارے پاس بہت سے پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگز ہیں،جو صنعتی اور اینٹر پرینورل کلچر کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقعے پیدا کرنے کیلئے قائم کئیء گئے ہیں۔لیکن تا دم وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں موثر ثابت نہیں ہوئے ہیںاور ایسا لگ رہا ہے کہ مقرر کردہ مقاصد اور حاصل کردہ مقاصد کے درمیان کافی خلیج ہے۔حالیہ رپورٹوں سے یہ عیاں ہے کہ ریاستی و مرکزی سرکار کی جانب سے دئے گئے مراعات کے باوجود بیشتر پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگز خسارے پر چل رہے ہیں۔ریاست کی جوان سال آبادی کو اینٹر پرینور شپ کے تصور کے متعلق جانکاری دینے کی کافی ضرورت ہے اور سرکار کو چاہیے کہ وہ ’’ روز گار کے میلے‘‘ منعقد کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔سرکار کی ترجیح اس مسلہ سے نمٹنے اور کام حاصل کرنے والے نوجوانوں کوبااختیار بنانا چاہیے،تاکہ وہ ا س کثیر کاروباری دنیا میں ملازمت مہیا کرنے والے بن جائیں۔اگر جوان سال آبادی اپنی زندگیوں کے مالک بننا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے ذہن کو  اینٹر رپینورشپ کی جانب بدلنا ہوگا اور اپنا کاروبار شروع کرنا ہوگا۔ اینٹر پرینورشپ وہ راستہ ہے ،جو آپ کو مکمل آزادی دیتی ہے۔
 

ایڈوکیٹ محمداکرم ،پیرکھوہ جموں

رابطہ نمبر۔7051111852

 

کشمیر میں سرمائی سیاحت  

وادی کشمیر ایک ایسا مقام ہے،جو کہ سال بھر اہمیت برقرار رہتی ہے اورجس پر محکمہ سیاحت اور ریاستی سرکار کی جانب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یہاں کے چار موسم  :  موسم بہار، گرما ،خزاں اور سرما سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے یکساں طور سے کام کر رہے ہیں۔تاہم ، موسم سرما سیاحوں کیلئے خصوصی پسند ہے،جن میں سے بیشتر کو کبھی منفی درجہ حرارت کا تجربہ حاصل نہیں ہوا ہے۔آب و ہوا اور جغرافیہ سیاحوں کو اتنا ٹھیک لگ رہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ وادی میں کافی انتظامات ہونے چاہیںجبکہ یہاں کا نظام برسوں پہلے قائم کیا گیا ہے۔ وادی کشمیر میںسرمائی سیاحت کو بالکل ہی نظر انداز کیا گیا ہے ماسوائے چند کاروائیوں کے ،جسے محکمہ سیاحت نے فروغ دیا ہے۔ہم وادی کشمیر میں آج بھی رواعیتی دل بہلائی کے ذرائع دیکھ رہے ہیں،جن میں سے چند فرسودہ ہیں اور سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ جب ہم اسکی جغرافیہ پر نظر ڈالتے ہیں ،تو اس میں کوئی دبائو نہیں ہے اور ہم اسے ہمیشہ کیلئے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔کشمیر خوبصورت ہے اور ایسی خوبصورتی ایک سیاحتی مقام پر اچھی لگتی ہے۔بدقسمتی سے لوگ اور سرکارسیاحوں کی توجہ کشمیر کی جانب کھینچنے میں ناکام رہی ہے۔ جہاں تک جموں و کشمیر کی اقتصادی حالت کا تعلق ہے، یہ زراعت اور متعلقہ کاروائیوں پر منحصر ہے،جو کہ ناکافی ہے کیونکہ ہم مرکزی سرکار کی مدد سے دیگر ریاستوں سے اناج در آمد کرتے ہیں۔ہمارے یہاں ابریشم اور ماہی گیری بھی ہے، جو چند لوگوں کو ہی مدد کرتی ہے۔ہماری مقامی فیکٹریاںاعلیٰ معیار کے بلے بناتی ہیں ،عام طور سے کشمیر کے بید کی لکڑی کے بنے ہوئے بلے بہت ہی مہشور ہیں،وہ بھی تباہی کے دہانے پر ہیں کیونکہ ہمیں اسکی سیلز کو فروغ دینے کیلئے مارکیٹنگ کا طریقہ کار نہیں ہے۔کشمیری دستکاری جیسے کہ نمدے،شال اور پیپر معاشی بھی زوال پذیر ہیں یا تباہی پر ہیںکیونکہ وہاں پر معیار اور سیلز پر کوئی روک نہیں ہے۔جولاہوںکی کم مزدوری ، تاخیر سے ا دائیگی اور مشینوں کی مداخلت سے انڈسٹری کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔باغبانی ریاست کی اقتصادی ترقی میں ایک اہم رول نبھا سکتی ہے اور سیاحت کے بعد ریاست کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ریاست کے اہم پیداوار میں سیب، خوبانی،گلاس،ناشپاتی،آڑو، بادام اور اخروٹ شامل ہیں لیکن یہ بھی اچھا مارکیٹ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے خسارہ کا شکار ہو رہے ہیں۔اس شعبہ کی مدد کے لئے کوئی انفراسٹریکچر یعنی کہ خصوصی ٹرانسپورٹ، پیکیجنگ اور وافر مقدار میں کولڈ سٹوریج نہیں ہیں۔  سیاحت ریاست کی اقتصادی حالت کی ریڑھ کی ہڈی ہو سکتی ہے بشرطیکہ لوگ اسے مزید وسعت دینے میں دلچسپی دکھائیں۔ سیاحتی شعبہ بیروز گاری کا خاتمہ کرنے میں اکسیر ہے اور اس میں اقتصادیات کے اہداف کے علاوہ فروغ دینے کی اہلیت ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ یہ عام آدمی کی سمجھ سے پرے ہے کہ وادی کا سیر کے لئے سیاح کیوں کم تعداد میں آتے ہیں؟اگر افرا تفری اس کا وجہ ہے تو کشمیر میں یاتریوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟مقبول ترین میڈیا بشمول نیوز چینلزموسم سرما کے دوران ہماچل پردیش، سکم ، ارونا چل پردیش اور اُترا کھنڈ جیسے مقامات کی خصوصی مارکیٹنگ کرتے ہیں۔سیاحوں کو لبھانے کے لئے چند سینٹی میٹر برف کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ وہیں ریاست جموں و کشمیر کی خبر فقط سیاسی وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے اور خبر کا متن بھی سیاسی ہی ہوتا ہے۔کیونکہ ریاستی انتظامیہ ریاست کے بہترین وقت کود کھانے میں دلچسپی نہیں لے رہی ہے جبکہ دیگر ریاستوں کا انتظامیہ ایسا کرتا ہے۔موسم سرما تاجروں اور کاروباری طبقہ کیلئے ایک بہت ہی مشکل وقت ہوتا ہے۔اگر چہ دنیا میں ایسے بھی ممالک ہیں جہاں پرخطر ناک آب و ہوا ہوتا ہے،تاہم وہ تمام شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہیں اور ہم پیچھے رہ جاتے ہیں۔برطانیہ، روس، فرانس، امریکہ ،چین سرمائی زون میں آتا ہے،پھر بھی لوگوں کو موسم سرما میں کوئی مشکل نہیں آتی ہے۔تا دم ،تمام سرکاریں اسکے عملی حل میں ناکام رہی ہیںاور اگر انکے پاس ایسا کوئی حل ہے، تو وہ اسے لاگو کرنے میں ہچکچاہٹ کرتے ہیںبصورت دیگر سرما کشمیر اور اسکی اقتصادیات کے لئے ایک نعمت ہوتی۔ اسکی صیح طریقے سے مارکیٹنگ کرنے کی ضرورت ہے۔جہاں تک اقتصادیات کا تعلق ہے ،ہم سمجھتے ہیں کہ موسم سرما تجارت اور کاروبار کے لئے اچھا سیزن نہیں ہے اورخدمات کی قیمت زندہ رکھنے کے لئے قیمتوں میں کمی آتی ہے۔چاہیے مزدوری ہو، ہوٹل، ریسٹورنٹ،آبی اور زمینی ٹرانسپورٹ ہو ،تو خدمات سستی ہیںکیونکہ اسکا کوئی متبادل نہیں ہے۔سرکارکو چاہیے کہ وہ سستی بجلی،ہوائی کرایوں پر سبسڈی  جیسی خدمات کے علاوہ مناسب انفراسٹریکچر مہیا کرے۔یہاں سرما میں سیاحوں کو راغب کرنا مشکل ہو سکتا ہے لیکن مستحکم طبقہ جات کے اکٹھا کام کرنے سے گاہکوں کے لئے اچھا ماحول بنایا جا سکتا ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ سیاح وارد ریاست ہونگے اور موسم ٹھنڈا ہونے کے باوجود علاقہ میں نیا حرفت شروع ہوگا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے مقامی سٹیک ہولڈر، کامرس چیمبر اور دیگر سیاحتی باڈیز کے مدد سے اکٹھا کام کرکے مختلف سرمائی انفراسٹریکچر پروجیکٹوں کو فروغ دیں،جس سے موسم سرما کے دوران سیاحوں کو یہاں آنے کیلئے راغب کیا جا سکے۔اکٹھا کام کرکے ہم ایک ایسا سرما بنائیں گے جو کہ ریاست کیلئے ایک تحفہ بن سکے۔رواعیتی سیاحت کے علاوہ کچھ نیا اور مختلف ہونا چاہیے،اگرچہ اسکے لئے کل وقتی محکمہ ہے،انہیں نئی چیزیں کھوجنے کیلئے لوگوں کو معمور کرنا چاہیے،جو کہ ہم سیاحوں کے لئے حاصل کرسکتے ہیں یا اپنا سکتے ہیں جیسے کہ ice fishing, snowmobiling, trail sports جیسے کہ کراس کنٹری سکیینگ اور مزید ۔بازاروں کو اس طرح سے سجایا جائے جو کہ سیاحوں کے لئے مکمل ہوں ،تاکہ وہ موسم کے جذبہ کو شاپنگ اور بڑے کھانے سے دیکھیں ۔کشمیر کو سرما میں اپنا وجود تلاش کرناہوگا،برانڈ کشمیر کو موسم سرما اور خوشیوں پر غور کرنا ہوگا۔اگر ہم برانڈ کو اسکے افراط سے دیکھیں گے، تو ہمیں کسی پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔
عابدرحمن بھلوال جموں
9797508684