تازہ ترین

مغل شاہراہ اور سادھنا ٹاپ پرٹنلوں کی تعمیرکھٹائی میں

دو برس قبل ڈی پی آر تیار کرکے مرکز کو ارسال،آج تک جواب کا انتظار ہے

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر // مغل روڑ اور سادھنا پر ٹنلوں کی تعمیر کا معاملہ ابھی بھی کھٹائی میں پڑا ہوا ہے ریاستی سرکار نے اگرچہ دونوں ٹنلوں کے حوالے سے ایک مفصل پروجیکٹ رپورٹ تیار کر کے مرکزی سرکار کو ارسال کی ہے لیکن مرکزی سرکارکی جانب سے تاحال اُن پروجیکٹوں کو منظوری نہیں ملی پائی ہے ۔کشمیر اور جموں خطوں کے بیچ سرما کے دوران متبادل کے طور کام آنے والی شاہراہ مغل روڑ پورا سال کھلا رکھنے میں جہاں سرکاریں ناکام ہو چکی ہیں وہیں اس 230سالہ پرانی تاریخی مغل پردوبجن شوپیان اور بفلیازکے درمیان تعمیر ہونے والی ٹنل کیلئے بنائی گئی مفصل پروجیکٹ رپورٹ پر بھی مرکزی سرکار کوئی دھیان نہیں دے رہی ہے ۔یہی نہیں بلکہ سادھنا ٹنل کی تعمیر کا معاملہ بھی ہنوز کھٹائی میں پڑا ہوا ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2 سال قبل سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے دلی میں وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری سے ملاقات کر کے یہ مطالبہ کیا تھاکہ مغل روڑ اور سادھنا ٹنلوں کی تعمیر کو منظوری دی جائے جس پر مرکز نے ڈی پی آر تیار کرنے کو منظور ی دے دی۔ڈی پی آر کی منظوری کے بعد پی ڈی پی کی طرف سے بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی ۔اگرچہ منظوری کو ملے 2 سال بیت گئے ہیں تاہم ابھی تک کوئی کام نہیں ہوپایا ہے ۔ مغل روڑ پر کام کرنے والے ایک آفیسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال2018میں ٹنل سے متعلق مفصل پروجیکٹ رپورٹ تیار کے مرکزی سرکار کو بھیج دی گئی ہے لیکن ابھی تک مرکز کی جانب سے اس کی تعمیر کو ہری جھنڈی نہیں دکھائی گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مغل روڑ کو اگر سال بھر کھلا رکھنا ہے کہ تو اُس پر 44کلو میٹر جہاں پسیاں اور پتھر گرنے کا سب سے زیادہ خطرہ رہتا ہے، کو مکمل طور ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی شاہراہ پر مغل روڑ کی تعمیر کا کام بھی ہاتھ میں لینا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مغل روڑ پر اس وقت قریب 15فٹ برف جمع ہے اور اگر سرکار چاہئے تو شاہرہ پر برف کو ہٹانے کیلئے اقدامات کئے جا سکتے ہیں ۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ ڈی پی آر کو منظوری ملنے کے بعد ہی وہ آگے کی کارروائی کریں گے۔اتھارٹی کے ایک افسر کے مطابق 230سالہ پرانی مغل شاہراہ پر8.5کلو میٹر لمبی ٹنل تعمیر کرنے کیلئے ہر ایک کلو میٹر کے دائرے میں ساڑھے تین سو کروڑ کاخرچہ آئے گا ۔معلوم رہے کہ مغل روڑ سرما کے پانچ سے چھ ماہ تک بند ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو وادی پہنچنے کیلئے طویل سفر طے کرناپڑتاہے ۔پیر پنچال کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سرما کے مہینے میں اُن کا کشمیر کیلئے سفر انتہائی دشوار اور تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ انہیں پہلے جموں اور پھر وہاں سے سرینگر جانا پڑتا ہے جو لگ بھگ 6سو کلو میٹر کا سفر ہے ایسا ہی حال کشمیر وادی کے لوگوں کا بھی ہے اس وقت مسلسل پسیاں اور پتھر آنے کے سبب جموں سرینگر شاہرہ بند ہے اور لوگوں کو گونا گون مشکلات کا سامنا ہے اور اگر مغل روڑ کو بحال کیا جاتا تو لوگوں کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ایم ایل اے ہویلی پونچھ شاہ محمد تانترے نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مغل روڑ نہ صرف پلوامہ ، شوپیاں ، کولگام اننت ناگ پونچھ اور راجوری کے لوگوں کیلئے فائدہ مند ہوتی ہے وہیں یہ شاہراہ متبادل کے طور پر بھی کافی اہم ثابت ہو سکتی تھی ۔چیف انجینئر مغل روڑ اقبال میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ڈی پی آر کو تیار کر کے مرکزی سرکار کو بھیج دیا گیا ہے اور اور جیسے ہی اُس کی منظوری ملے گئی تو اس پر کام شروع ہو گا ۔ادھر سادھنا ٹاپ پر ٹنل کی تعمیر کا معاملہ جوں کا تو ں ہے۔ سادھنا ٹاپ پر ٹنل کی تعمیر کی مانگ جہاں زور پکڑ رہی ہے وہیں اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں دکھائی جا رہی ہے ۔محکمہ بیکن نے اگرچہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایک ڈی پی آرتیار کیا ہے مگرڈی پی آر کہاں ہے ،اس بارے میں نہ تو بیکن جانتی ہے اور نہ ہی لوگوں کو کچھ خبر ہے ۔ بیکن کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا 6.12کلو میٹر ایک ٹنل کا ڈی پی آر تیار کر کے مرکز کو بھیج دیا گیا تھا  ۔