کنٹونمنٹ بورڑ کی حدود میں ہاوس ٹیکس کا نفاذ

مقامی لوگ حکمنامے پربرہم ،واپس نہ لینے کی صورت میں احتجاجی لہر چھیڑنے کا انتباہ

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//کنٹونمنٹ بورڑ کے حدود میں آنے والے علاقوں کے شہریوں پر ہاوس ٹیکس کا نفاذ عمل میں لانے کے خلاف مقامی لوگوں نے دو ٹوک الفاظ میں ہاوس ٹیکس کا بائیکاٹ کرنے اور بورڑ انتظامیہ سے یہ فرمان واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ سرینگر کے بٹوارہ،شوپورہ،سونہ وار،اقبال کالونی اور یتو محلہ کے علاقوں میں کنٹونمنٹ بورڑ نے ہاوس ٹیکس کا نفاذ عمل میں لایا ہے اور اس سلسلے میں تازہ نوٹسیں بھی ا جراء کی گئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے کنٹونمنٹ بورڑ کے اس فیصلے کو تانا شاہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2014میں آئے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے پہلے ہی لوگوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور اس پر کنٹونمنٹ بورڑ انتظامیہ کی طرف سے ہاوس ٹیکس لاگو کرنا سراسر نا انصافی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں بیشتر مزدور اور محنت کش طبقہ رہائش پذیر ہیں اور وہ ہاوس ٹیکس کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے بتایا کہ جموں کشمیر میں پراپرٹی ٹیکس عائد نہیں ہے تاہم’’ لوگوں کو یہ ٹیکس ادا کرنے کیلئے مجبور کرنا دفعہ370کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں‘‘۔ مقامی لوگوں نے کہا‘‘ بورڑ حکام کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ کوئی مرکزی ٹیکس لاگو کریں،اور ہم اس قانون کی عملداری کیوں کریں جو جموں کشمیر میں رائج نہیں ہے‘‘۔ انکا مزید کہنا تھا’’ جموں کشمیر میں کوئی بھی مرکزی قانون قابل اطلا ق نہیں ہے،اگر اس کی توثیق ریاستی قانون سازیہ نے نہیں کی ہو،کنٹونمنٹ قانون2006کو پارلیمنٹ نے منظوری دی،تاہم ریاستی اسمبلی نے کبھی بھی اس کی توثیق نہیں کی‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لئے  جموں کشمیر کے کسی بھی حصے میں اس کی عملداری کالعدم ہیں۔مشتاق احمد نامی مقامی مسجد کے ایک ذمہ دار نے کہا کہ ابھی جب سرینگر مونسپل کارپوریشن اور دیگر کمیٹیوں نے ہاوس ٹیکس کا نفاذ عمل میں نہیں لایا،تو کنٹونمنٹ بورڑ کس طرح من مانے طریقے سے ہاوس ٹیکس کا نفاذ عمل میں لاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڑ نے پہلے ہی سیکورٹی بنیادوں پر سرینگر کے قدیم اور پرانے پوسٹ آفس کو خالی کرایا،جس کے بعد اس پوسٹ آفس کو جنرل پوسٹ آفس کے ساتھ منسلک کیا گیا،اور نصف درجن علاقوں کے باشندوں کو مشکلات میں ڈال دیا۔احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ متعلقہ بورڑ جب اس کے زیر انتظام علاقوں میں سہولیات فرہم نہیں کرسکتا،تو ہاوس ٹیکس عائد کرنے کا بھی کوئی بھی جواز نہیں بنتا۔انہوں نے کہا کہ بورڑ انتظامیہ نے یک طرفہ سروے کر کے از خود جائیداد کا احاطہ کیا ہے،اور ما بعدٹیکس کو بھی مقرر کیا،جو نہ صرف غیر قانونی ہے،بلکہ بلا جواز بھی۔مشتاق احمد نے کہا کہ کسی بھی طرح کنٹونمنٹ بورڑ شہریوں پر ہاوس ٹیکس کی ادائیگی کیلئے دبائو نہیں ڈال سکتا۔مقامی لوگوں نے کہا کہ متفقہ طور پر فیصلہ لیا گیا کہ بورڑ کی طرف سے نافذ ہاوس ٹیکس کا بائیکاٹ کیا جائے گا،اور اگر کسی بھی طرح کا دبائو ڈالا گیا تو،احتجاجی لہر چھیڑ دی جائے گی،اور اس دوران اگر کوئی امن و قانون کا مسئلہ پیدا ہوا،تو اس کی ذمہ داری کنٹونمنٹ بورڑ پر عائد ہوگی۔ معلوم ہوا ہے کہ بورڑ کی میٹنگ کی دوران تمام7بورڑ ممبران نے ہاوس ٹیکس کے نفاذ کی مخالفت کی تھی اور اس سلسلے میں ایک قرار داد کو بھی منظور کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود بورڑ کے چیف ایگزیکٹو افسر نے من مانے طریقے سے فرمان جاری کیا۔اہل علاقہ نے کنٹونمنٹ بورڑ کے پریذڈنٹ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔اس دوران سدھار کمیٹی بٹوارہ نے اعلان کیا کہ اگر کنٹونمنٹ بورڈ ہاوس ٹیکس کے سلسلے میں جاری فرمان واپس نہیں لیا،تو تمام علاقوں کی مشترکہ میٹنگ طلب کر کے آئندہ کا لایحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔کنٹونمنٹ سٹی زنز ویلفیئر فورم نے بھی بورڑ انتظامیہ سے فوری طور پر حکم نامہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر شہریوں کو ٹیکس کی ادائیگی کیلئے مجبور کیا گیا،تو کنٹونمنٹ علاقوں میں احتجاجی لہر چھیڑ دی جائے گی۔ کنٹونمنٹ بورڑ وہ علاقہ ہے جس کی نشاندہی حکومت ہند نے کی ہو اور اس میں کنٹونمنٹ ایکٹ عملدرآمد ہو،دفاعی تنصیبات کے علاوہ شہری آبادی بھی اس علاقے میں رہائش پذئر ہوتی ہے۔ 2013 میں اس وقت کی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مخلوط سرکار نے اس وقت پراپرٹری ٹیکس کی تجویز کو ٹال دیا،جب مزاحمتی جماعتوں نے اس عمل کے خلاف ریاست گیر احتجاج کی دھمکی دی۔ 
 

تازہ ترین