تازہ ترین

محمد مقبول بٹ مرحوم

میں نورِ صداقت کے لئے خود ہی جلا ہوں

16 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد اشرف بن سلام۔۔۔ اومپورہ بڈگام
 تاریخ  کشمیر نے 1931ء سے آج تک پُرآشوب اور ہولناک مناظر ہی دیکھے ہیں اور کشمیر یوں کودبانے کے لئے کشت وخون اور قتل وغارت گری کا جو سلسلہ 1931ء کو شروع ہواتھا ،وہ ابھی تک کشمیر کے طول وعرض میں جاری وساری ہے ۔یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ،وہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے مگر ہمیں یقین واُمید ہے کہ محمد مقبول بٹ مرحوم کا یہ خواب ایک دن ضرور پورا ہوگا ۔پچھلے 29 برس سے کشمیر میں سوا لاکھ سے زائد نہتے پیر جواں ، مردوزن جاں بحق کئے جاچکے ہیں اورجہاں تک لبریشن فرنٹ کے بانی قائد محمد مقبول بٹؒ کا تعلق ہے ،و ہ کشمیر حل اسی لئے چاہتے تھے تاکہ کشمیر قتل وغارت کا میدان نہیں بلکہ امن اور ترقی کا گہوارہ بنے۔مرحوم کا شمار ان چنیدہ برگزیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے وطن کی سربلندی کے لئے تاریک راہوں میں روشنی کے چراغ اپنے پاک خون سے جلائے ۔ آپ پہلے محب وطن قائدہیں جس نے راہ ِحق میں اپنی متاعِ حیات تک خوشی خوشی پیش کی۔اس قائد بے بدل نے کن کن مشکلات کا تن تنہا بہادرانہ مقابلہ کیا ،اس کی  سرگزشت کشمیر کے بچے بچے کے سینے میں محفوظ ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے جب ایک سچا پکاانسان حق کی راہ میں نکلتا ہے، تو اُسے بے شمار مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آفاقی حقیقت یہ ہے کہ جو فرد یا قوم زندگی کے بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہو ، وہ تاریخ کے سیلاب میںڈوب کر رہ جاتی ہے لیکن جو قوم ایسے باہمت ، باحوصلہ اور صاحب ِبصیرت ملاح کو جنم دے جو طوفانوں سے لڑے، وہ تاریخ کا دھارا موڑ کر رکھ دیتی ہے ۔ مقبول صاحب کو یہی کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے قوم کے ڈوبتے سفینے کواس وقت ساحل ِمراد کی طرف کھینچ لیا جب ہم حالات کے سیلاب میں ڈوب رہے تھے ۔ انہی وجوہ سے گیارہ فروری کا دن ہمیں خود داری اور آوازہ ٔ حق پر ثابت قدمی کا ثبوت رہنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔اس رجل عظیم نے کشمیر کاز کی شمع اُس دورمیں فروزاں رکھی جب قوم مجموعی طور خوابِ غفلت میں پڑی تھی۔ انہوں نے نہ صرف بیداریٔ قوم کی شمع جلائے رکھی بلکہ اپنا لہو اور پسینہ بھی کشمیر حل کی راہ میں نچھاور کر نے کا منزل مقصود کا راستہ روشن کیا۔ یہ ان کے خلوص ، پامردی اور عنداللہ قبولیت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج کشمیری قوم اسی منزل کی تلاش میں قربانیوں پہ قربانیاں دے رہی ہے۔ کشمیر کے ا س سپوت نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ قومی کاز کے لئے وقف کرتے ہوئے گویا عظیم ولی کامل حضرت شیخ العالم شیخ نورالدین نورانیؒ کے ا س فرمودہ کو اپنا لائحہ عمل بنایا    ؎
ژالن چھیُ وزملہِ تہِ ترٹیَ
ژالن چھیُ مندنس گٹہ کارِ
ژالن چھیُ پر بتس کر نہِ اٹیِ 
ژا لن چھیُ منزاتھس ہینو نارِ
ژالن چھیُ پانِ کڈن گرٹے
ژالن چھیُ کھین یکہِْ وٹہِ زہر کھارِ
 تاریخ نے ایسے بے شمار عظیم انسانوں اور قومی رہنماؤں کی زندگیاں اپنے سینے میں محفوظ کرلی ہیںجنہوں نے عظیم مقصد کیلئے استعماری قوتوں کے خلاف آواز اٹھائی اور مخلصانہ و مومنانہ جدوجہد کی اور بے خوف ہوکر اسی راہ میں قربان ہوئے ۔ قومِ کشمیر کے قائد بے بدل محمد مقبول بٹؒ انہی ہستیوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ انہیں اپنے کاز کی صداقت اور جد وجہد کی ثمر باری پر پختہ یقین تھا،اس لئے آپ دشمن کے لاؤلشکر سے مرعوب ہوئے نہ اپنی بے سروسامانی سے مایوس، بلکہ آپ اس وادیٔ پُرخار میں قدم بڑھاتے رہے یہاں تک مالک حقیقی سے سرخ روہوکر ملاقات کی۔ کہتے ہیں کہ بعض شخصیتیں پیدایشی طور عظیم ہوتی ہیںجن کی سیرت اور شخصیت سلیم العقل لوگوں کو خود نجود اپنی طرف مقناطیسی کشش کے ساتھ کھینچ کر انہیں ایک قافلہ بناتی ہے ۔ بابائے قوم کے نظریے، خلوص اور استقامت کا پیدا کردہ یہ قافلہ آج کشمیر کے چپے چپے میں اسی منزل کی طرف رواں دواں ہے جسے ہم چاہے آزادی کانام دیں یا کامرانی وسربلندی کا عنوان دیں، مگر اس قافلے کا سالار ِ قافلہ ہونے کا سہرا تاریخ محمد مقبول بٹ مرحوم کے سر ہی باندھے گی    ؎
مجھے وطن کی ریت پر ایڑیاںرگڑ نے دو 
مجھے یقین ہے پانی یہی نکل آئے گا
