تازہ ترین

شہر خاص میں جگہ جگہ ناکے اور بندشیں نافذ

اتوار کو پائینی علاقوں میں سناٹا چھایا رہا

18 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی:امان فاروق    )

بلال فرقانی
سرینگر//شہر خاص کے کئی حساس علاقوں میں اتوار کو بندشیں عائد رہیںجس کی وجہ سے آبادی گھروں میں محصور ہوئی۔ انتظامیہ اور پولیس نے اتوار کو تجارتی جماعتوںکی طرف سے کال کے پیش نظر سری نگرکے شہرخاص میں حساس پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں بندشیں عائد کی تھی۔ پائین شہر کے مہاراج گنج، خانیار، نوہٹہ، صفاکدل، رعنا واری تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت بندشیں جبکہ کرالہ کھڈ اور مائسمہ تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جزوی طور پر بندشیں عائد کی گئی تھی ۔ اتوار کو جامع مسجد، نوہٹہ، گوجوارہ، راجوری کدل، صراف کدل، بہوری کدل، ملارٹہ اور جامع مسجد کے گرد نواح کے علاقہ نالہ مار روڑ پربڑے پیمانے پر فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھاجبکہ پولیس اورفورسزکی ٹکڑیوں نے شہرخاص میں بالخصوص تمام اہم رابطہ سڑکوں پر خاردار تاریں ڈالکر گاڑیوں اور پیدل آمد ورفت کو ناممکن بنادیا تھا۔ شہرخاص کے لوگوں نے بتایاکہ اُنھیںاتوارکی صبح ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔انہوں نے کہاکہ کرفیوجیسی بندشوں اوربڑی تعدادمیں پولیس وفورسزاہلکاروں کی تعیناتی کے باعث وہ گھروں میں محصوررہے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ سخت بندشوں کے چلتے تاریخی جامع مسجدکے اطراف واکناف میں سخت سیکورٹی حصارربنایاگیاتھا،اوراس مرکزی جامع مسجدکی جانب جانے والے سبھی راستے اورگلی کوچے سیل رکھے گئے تھے ۔ پائین شہر میں صبح سے ہی پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی اور سڑکوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھائی گئی ،اس صورتحال کی وجہ سے پورے پائین شہر میں سناٹا اور ہوکا عالم چھایا رہا اور سخت ترین ناکہ بندی سے شہریوں کو اپنے ہی گھروں کے اندر قیدی بناکر رکھا گیا تھا۔کرفیو جیسی پابندیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پائین شہر کے چپے چپے پر پولیس اورسی آر پی ایف اہلکاروںکی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور جو لوگ مجبوراً اپنے گھروں سے نکلے تھے انہیں بھی نصب کی گئی خار دار تاروں سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔سڑکوں ، گلی کوچوں اور نکڑوں پر تعینات پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے لوگوں کو سختی کے ساتھ گھروں سے باہر آنے سے منع کر دیا۔پائین شہر کے دیگر علاقوں میں ہو کا عالم تھا اور سڑکوں پرصرف فورسز اور پولیس اہلکار گشت کرتے نظر آ رہے تھے۔ پابندیوں کے نفاذ کے طور پر نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے چھتہ بل تک مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔سیول لائنز علاقوں میں بھی اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا،اور جگہ جگہ پر تلاشیاں لی جارہی تھیں۔