جنگ آخر جنگ ہے, اِس کو ہے کیا؟

3 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 ہے فضائے امن میں آلودگی
پُر مجاول ہے یہاں ماحول پھر
ہو نہ ہو پھر سے وبا پھیلے کوئی
بے سبب مخلوق کا ہو پھر زیاں
ہے نہیں لازم کہ مابیں جنگ ہو
جنگ آخر جنگ ہے، اس کو ہے کیا
جا بجا بکھریں گے پھر یہ جسم وجاں 
خاک میں لتھڑیں گے پھر معصوم رُو
مسجد و مندر کے پھر دیوار و در
شکلِ آدم کے لئے ہوں بے صبر
خون کا جہلمؔ بہے یا سندھؔ پھر
رنگ میں ہوں گے یہ دونوں ایک رنگ
پھر شبستانوں کا بدلے گا مزاج
کونپلیں ہوںگی سراسر نیم جاں
اور ہوں گی بستیاں ماتم کدہ
الخلق کلہم عیاں اﷲ ہے جب
پھر یہ دعوائے جدل ہے کس لئے
جب کبھی کھاتی زمیں ہے ضربِ جنگ
مدتوں رہتی ہے یہ پامال سر
توڑتی ہیں دم سبھی زرخیزیاں
ہوتا ہے دہقان پھر محتاجِ مال
تین جنگوں کا ہوں میں شاہد عُشاقؔ
میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے بس
حشر سامانی کا ماخذ جنگ ہے
دل کے ٹکڑوں کے فراقِ وصل میں
کتنی مائیں ہیں ابھی تک دیدہ تر
مریمؔ و سیتاؔ یہاں بیوہ ہوئیں
بچپنے میں ہوگئے کتنے یتیم 
لاکھ بہتر ہے کہ اب بھی سوچ لیں
جنگ آخر جنگ ہے اس کو ہے کیا
 
عُشّاق ؔکِشتواڑی
صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ
رابطہ؛9697524469
 

تازہ ترین