تازہ ترین

خالی ڈبہ

افسانہ

10 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

پرویز انیس
اس کا دل پڑھائی میں بالکل نہیں لگ رہا تھا- وہ کبھی کوئی کتاب کھولتا، کبھی کوئی کاپی تو کبھی کچھ اور کرتا، مگر لاکھ کوشش کرنے کے باوجود وہ خود کو پڑھائی کے لئے تیار نہیں کر پایا -  ایسا آج پہلی بار نہیں ہوا تھا بلكے پچھلے کئی دنوں سے ایسا ہی ہو رہا تھا- آخر کار اپنی اور کتاب کی جنگ میں وہ ہار گیا - انہیں ایک طرف کنارے رکھ کر وہ باہر نکل پڑا، جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا امی کی آواز آئی، 
بیٹا، کہاں جا رہا ہے رات ہو گئی ہے؟ 
 کہیں نہیں امی، بس پڑھائی میں دل نہیں لگ رہا ہے تھوڑا سا باہر ٹہل کر آتا ہوں ، اس نے آہستہ سے کہا
 ٹھیک ہے بیٹا جا جلدی آ جانا
وہ ٹہلتا ہوا گھر کے قریب والی سڑک پر آیا، جہاں دونوں کناروں پر دوکانیں ہی دکانیں تھی - رات ہونے کی وجہ سے ساری دکانیں بند ہو گئی تھیں- ہر طرف کوڑا کرکٹ پڑا تھا، دکانوں کے سامنے رکھے ڈسٹ بن نے گویا الٹیاں کر دی ہو- دکانوں کے شٹر سے ٹیک لگائے کئی کتے آرام فرما تھے - کچھ کتے کے پلے سڑک پر اچھل کود کر رہے تھے، گویا صبح ہونے والی پیٹ کی جنگ کی پریکٹس کر رہے ہوں - جیسے ہی ٹہلتا ہوا وہ ان کے قریب پہنچا تو ایک کتے کا پلہ بھونكتا ہوا اس کے پاس آیا، وہ خاموشی سے اپنی جگہ کھڑا ہو گیا، وہ کتے کا پلہ تھوڑی دیر اس کا طواف کرنے کے بعد اپنے کھیل میں مصروف ہو گیا- وہ بھی خاموشی سے آگے بڑھ گیا- تبھی اس کی نظر ایک دکان پر پڑی جو ابھی تک کھلی تھی، وہ دکان کے سامنے گیا تو دیکھا کے دکاندار بس دکان بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے - وہ تھوڑی دیر کھڑا دکان اور دکاندار کو دیکھتا رہا، تبھی دکان کے فریزر میں رکھے ایک کولڈڈرنک کے کین پر اس کی نظر ٹک گئی، اس نیلے کین پر پانی کے چند قطرے ایسے لگ رہے تھے جیسے پھول پر شبنم ہو - وہ اس خوبصورت منظر سے خود کو بہلاتا رہا، تھوڑی دیر بعد اس کین سے نظر ہٹا کر وہ آگے بڑھنے لگا تو اس کے اندر سے اس کو پینے کی طلب جاگی- اس نے اپنی جیب ٹٹولي ، پیسے نکال کے دکاندار کو دئے اور کین لے کر آگے بڑھ گیا- وہ كولڈرنگ کا چھوٹا چھوٹا گھونٹ پیتا آگے بڑھتا رہا، کبھی وہ فٹ پاتھ پر بیٹھ جاتا اور پھر چلنے لگتا - اسے کہیں جانا تو تھا نہیں، بس کسی طرح اپنے آپ کو پڑھائی کے لئے تیار کرنا تھا، لیکن وہ ہو نہیں پا رہا تھا- چلتے چلتے وہ ایک پاش کالونی کی طرف چلا آیا تھا، صاف ستھری سڑکیں راستے کے دونوں جانب پیڑ پودے لگے ہوئے تھے، ان میں شاید رات کی رانی کا پیڑ بھی تھا، جس کی خوشبو اسے مسحور کرنے لگی  اس نے ایک گہری سانس لی اور آنکھیں بند کئے اپنی جگہ کھڑا رہا، تھوڑی دیر اسی طرح کھڑا رہنے کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور كولڈڈرنک کا ایک بڑا گھونٹ پیا - کولڈڈرنک کا کین اب خالی ہو گیا تھا۔ اس نے بچی ہوئی دو تین بوندوں کو بھی خالی کیا اور کین کو ایک جانب پھینک کر آگے بڑھنے لگا، تبھی اُسے خیال آیا کے اتنی صاف ستھری جگہ اسے پھینکنا مناسب نہیں، اس لئے وہ اسے اٹھانے کے لئے بڑھا مگر پھر اس نے پیر سے فٹ بال کی طرح اسے آگے بڑھایا ۔اس خالی ڈبے کے شور سے ارد گرد آرام کر رہے کتوں کی نیند میں خلل پڑا اور وہ اٹھ کر بھونکنے لگے- اسے بھی احساس ہو گیا کہ اس شور سے کتوں کے ساتھ ساتھ یہاں رہنے والے لوگوں کی بھی نیند خراب ہو سکتی ہے، اس لئے اس نے اس کین کو اٹھا لیا اور ہاتھوں میں لئے آہستہ آہستہ آگے بڑھتا رہا- پھولوں کی خوشبو نے اسے جو تھوڑا بہت آرام پہنچایا تھا کین اور کتوں کے شور نے وہ بھی غائب کر دیا،-وہ پھر اسی طرح بے چین آگے بڑھتا رہا، تبھی اسے ایک ڈسٹ بن نظر آیا اس نے کولڈ ڈرنک کا خالی کین اس ڈسٹ بن میں پھینکا، کچرے کے بیچ پڑے کین کو وہ بڑی غور سے دیکھتا رہا، اچانک اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور اس کے ذہن میں اس کولڈ ڈرنک کے کین کا فریزر سے لیکر ڈسٹ بِن تک کا سارا سفر گھوم گیا-وہ چونک گیا گویا کسی برے خواب سے بیدار ہوا ہو، اس نے اپنے آپ کو سنبھالا، ایک گہری سانس لی اور اطمینان کے ساتھ تیز تیز چلتا گھر آیا اور پڑھائی کرنے بیٹھ گیا- اس کے بعد اس نے کبھی بلاوجہ پڑھائی کا ناگا نہیں کیا..
���
کامٹی ناگپور (مہاراشٹر)
موبائل: ۔ 9049548326