کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

15 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
سوال-کشمیر کی مساجد میں جو غسل خانے ہوتے ہیں۔یہ غسل خانے استجاء اور غسل کے لئے استعمال ہوتے ہیں لیکن کبھی انسان مجبور ہوتاہے اور ان غسل خانوں میں پیشاب بھی کرتاہے ۔ چونکہ مساجد کے باہر پیشاب کرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں ہوتا اس لئے مجبور ہو کر ایسا کرناپڑتاہے اور بہت سارے لوگ مسجدوں کے باہر نالیوں میں سب کے سامنے پیشاب کرتے ہیں پھر مسجدوں کے غسل خانوں میں استنجاء کرتے ہیں مگر وہاں کچھ لوگوں کو دوبارہ پیشاب کے قطرے آجاتے ہیں ۔شریعت میں اس ساری صورتحال کا حل کیاہے ؟کیا مساجد میں پیشاب خانوںکاانتظام نہیں ہوناچاہئے ۔
فیاض احمد 
تمام مساجد میں پیشاب خانوں کا انتظام انتہائی ضروری 
جواب:-تمام مساجد کی انتظامیہ پرلازم ہے کہ جیسے وہ مسجدوں کے لئے حمام ،گرم پانی ،وضوخانے، غسل خانوں اور دوسری ضروریات کا انتظام کرتے ہیں اسی طرح وہ مساجد میں پیشاب خانوں کا بھی انتظام کریں ۔اس لئے کہ اس کی شدید ضرورت ہوتی ہے ۔ تمام دنیامیں مساجد کی ملحقہ ضروریات میں وضو خانوں کے ساتھ پیشاب خانے بھی ہواکرتے ہیںمگر کشمیر میں اچھی خاصی تعداد میں ایسی مساجد ہیں جہاں اس کاانتظام نہیں ہوتا۔ یہ بہت ہی عجیب بات ہے کہ مساجد میں استنجاء وطہارت کا انتظام توہومگرپیشاب خانے کا نہ ہو۔ گویا مساجد کی انتظامیہ خاموش زبان سے اعلان کررہی ہے کہ آپ پیشاب پاخانہ کہیں بھی کریں ۔ چاہے سڑکوں یانالیوں میں کریں مگراستجاء کا انتظام ہماراہے ۔ حالانکہ طہارت کا مرحلہ تو پیشاب کے بعد ہی آتاہے ۔تو پہلے پیشاب خانے کا انتظام کریں ،یہ ضروری ہے ۔
مساجد میں پیشاب خانے نہ ہونے کا ایک بُرا نقصان یہ ہوتاہے کہ کچھ لوگ مساجد کے باہر نالیوں میں پیشاب کرنے پر مجبورہوتے ہیں اور کچھ لوگ مساجد کے غسل خانوں میں پیشاب کرنے کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں پاتے۔اس لئے ہر مسجد کی منتظمہ فی الفور مساجد میں اس کاانتظام کرنا اپنا فریضہ سمجھیں ۔ اگر غسل خانے میں پیشاب کیا گیا اور پھر اس کو اچھی طرح پاک نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ وضو یا غسل میں اس کی چھینٹیں اگر کسی کو لگ گئیں تو وہ ناپاک ہوجائے گا اور اسے پتہ بھی نہ چل پائے گا ۔
اگر کوئی شخص غسل خانے میں پیشاب کرنے پر مجبور ہوگیایا طہارت کرتے ہوئے قطرے نکل گئے تو اُس پر لازم ہے کہ وہ غسل خانے کواچھی طرح پاک صاف کرے تاکہ خود اسے یا بعد میںکسی اور آنے والے کوپیشاب کی ناپاک چھینٹ نہ لگے ۔
س: - قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا اور وہ سراسر معجزہ ہے ۔ جو لوگ عربی زبان سے ناآشنا ہیں ان کے لئے قرآن کریم کیسے معجزہ ہوسکتاہے ۔ اسی طرح غیر مسلم کے لئے قرآن کریم کیسے معجز ہو سکتاہے ؟
سوال:-نمازوں کے اوقات میں کافی وسعت ہے۔ اس وسیع وقت میں ہم اوّل وقت میں بھی نمازیں پڑھ سکتے ہیں اور درمیانی وقت میں بھی اور آخری وقت میں بھی ۔
اب سوال یہ ہے کہ افضل کیا ہے ۔ کون سی نماز اوّل وقت پڑھنا افضل ہے اور کون سی نماز دیر سے یعنی نمازکی تعجیل وتاخیر کے متعلق اسلام کا حکم کیاہے ؟
ماسٹر محمد یوسف شیخ 
قرآن کریم   :سراسر معجزہ
جواب:-قرآن کریم صرف زبان کے اعتباسے ہی معجزہ نہیں بلکہ دوسرے مختلف ومتنوع پہلو ہیں جن کے اعتبار سے یہ معجزہ ہے ۔ چند پہلو یہ ہیں :
۱-اللہ کی ذات ،صفات ، اس کی ربوبیت وحکمت اور اس کی قدرت ومشیت کا مکمل ، جامع اور افراط وتفریظ سے محفوظ تعارف قرآن کے علاوہ کوئی اور کتاب نہیں کراسکتی۔  اس لئے کہ کسی کے پاس اللہ کی ذات کا براہِ راست علم ہی نہیں ہے۔یہ صرف قرآن کا اعجازہے۔
۲-موت کے بعد کی دائمی زندگی ایک پختہ حقیقت ہے مگر اُس زندگی کی تمام تر تفصیلات صرف قرآن نے بیان کی۔دُنیا کی اور کوئی کتاب یا کوئی شخصیت اس زندگی بعد الموت کا مکمل تعارف اور تفصیلات اس طرح بیان نہیں کرسکی ہے ۔یہ بھی قرآن کا معجزہ ہے ۔
۳-قرآن نہ تاریخ کی کتاب ہے ، نہ قانون کی ، نہ سائنس کی، نہ سماجیات کی ، نہ نفسیات کی ، نہ فلکیات نہ ارضیات کی۔ نہ بحریات کی نہ حیوانیات کی ۔ یہ کتاب ہدایت ہے ۔مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن میں تاریخ بھی ہے ۔ سائنس بھی ، قانونی بھی ہے اور فلسفہ بھی۔اس سائنسی علوم کے موضوعات مثلاً فلکیات ، بحریات ، موسم اور دن رات کے تغیرات ،ارضیات بھی اورنفسیات بھی ۔ دنیا کی اور کوئی کتاب ایسی نہیں ہے کہ جس میں یہ سارے علوم ہوں ۔خصوصاً وہ علوم جو نزول قرآن کے صدیوں بعد انسانی تحقیقات سے سامنے آئے ۔ اُن کے متعلق قرآن نے پہلے ہی قطعی حقائق پر مشتمل اشارے کردیئے تھے ۔ مثلاً علم الجنین وغیرہ ۔
اس جیسے دوسرے مختلف پہلوئوں کے اعتبار سے قرآن معجزہ ہے ۔ لہٰذا تمام وہ انسان جوعربی زبان سے نابلد ہوں جیسے غیر مسلم یا عربی زبان پرصرف پڑھنے کی قدرت رکھتے ہوں مگر اس کے ادبی حلاوت فصاحت وبلاغت کے رموز سے ناواقف ہو جیسے عام مسلمااُن کے قرآنی معجزہ ہے اور ان مختلف وجوہات کے اعتبار سے معجزہ ہے ۔
نماز میں تعجیل وتاخیر 
جواب:-نماز کے اوقات کاوقت آغاز اور وقت اختتام دونوں کی تفصیل وتعین احادیث میں وضاحت سے بیان ہوئی ہے ۔ اوقات نماز میںچونکہ وسعت ہے کہ اوّل وقت سے لے کر آخر تک اتنا وقت ہوتاہے کہ ادائیگی نماز کے باوجود کافی وقت باقی رہتاہے ۔ اس لئے سوال پیدا ہوتاہے کہ اوّل وقت میں نماز پڑھنا افضل ہے یا درمیانِ وقت میں یا آخری وقت میں ۔اس سلسلے میں بھی احادیث میں پوری تفصیل موجود ہے ۔ اس کا اجمالی بیان یہ ہے ۔
نماز فجر کی ادائیگی کا افضل وقت کیاہے ؟ اگر اکثر نمازی اذانِ فجر کے وقت یا اُس کے متصل بعد مسجد میں موجود ہوں تونمازِ فجر اوّل وقت میں اداکرنا افضل ہے ۔ حضرت نبی کریم علیہ السلام غلس(اندھیرے)میں ہی فجر کی نماز ادا فرماتے تھے ۔ (بخاری عن جابر)۔ اور بخاری ومسلم میں یہ بھی ہے کہ اذان فجر کے بعد حضرت نبی علیہ السلام اتنے وقفے کے بعد فجر کی جماعت کھڑی فرماتے تھے کہ جس وفقہ میں ساٹھ سے سو آیات قرآنی کی تلاوت ہوسکے ۔ یہ وقفہ دس پندرہ منٹ کا ہوتا ہے ۔ عہد نبویؐ میں چونکہ حضرات صحابہ تہجد کی ادائیگی کے بعد اذان سے پہلے یا اُس کے متصل بعد مسجد میں حاضٗر ہوتے تھے ۔اس لئے اول وقت یعنی غلس میںنمازِ فجر اداہوتی تھی ۔ آج بھی اگر اکثر نمازی مسجد میں موجود ہوں تو افضل یہی ہے کہ اوّل وقت فجر اداکی جائے ۔ چنانچہ رمضان المبارک میں چونکہ اکثر نمازی سحری کھانے کے بعد اذان کے بعد ہی مسجدوں میں موجود ہوتے او ربقیہ بھی اول وقت جماعت میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے افضل یہ ہے کہ اوّل وقت نمازِ فجر ادا کی جائے لیکن اگراکثر نمازی اول وقت میں حاضر نہ ہوں اور اول وقت جماعت کھڑی کرنے کی بناء پر اکثر نمازیوں کی جماعت فوت ہونے کا خدشہ ہوجیساکہ آج کی عمومی صورتحال یہی ہے کہ اذانِ فجرکے فوراً بعد جماعت کھڑی کی جائے تو اکثر نمازی جماعت سے محروم ہوجاتے ہیں حالانکہ جماعت کی نماز تنہا کی نماز سے ستائیس درجہ زیادہ اجر کا سبب ہوتی ہے۔(ترمذی)
اس صورت میں تاخیر سے نماز فجراداکرنا افضل ہے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فجر کی نماز خوب روشنی آنے کے بعد(اسفار)ادا کرو۔ اجرو ثواب زیادہ پائوگے ۔ یہ حدیث ترمذی وغیرہ میں ہے او رصحیح حدیث ہے ۔ ایک حدیث میں ہے نمازفجرکومنّور کرو۔ یعنی خوب روشنی آنے کے بعد اداکرو۔ تو گویا عام دنوں میں نماز کی جماعت اوّلِ وقت کے بجائے اخروقت میں اداکرناافضل ہوگا اور اس کی وجہیں دو ہیں ایک تو حدیثِ نبویؐ جو اوپر نقل ہوئی ۔ دوسرے تکثیر جماعت جو شرعاً مطلوب اور باعث زیادتی اجرہے ۔اب سوال یہ ہے کہ تاخیر کی حد کیا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ طلوع آفتاب سے پچیس تیس منٹ پہلے جماعت کھڑی کی جائے۔ مسنون قرأت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے بعد دس پندرہ منٹ طلوع آفتاب کو باقی رہیں گے ۔اس طرح اُن احادیث کامصداق بھی واضح ہواجن میں اول وقت فجر کی ادائیگی کا حکم ہے اور ان احادیث کا موقع عمل بھی متعین ہوا جن میں خوب روشنی یعنی تاخیر کے نماز اداکرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ خلاصہ یہ کہ صبح صادق سے طلوع آفتاب تک کے وقت کے اگردوحصے کئے جائیں تو پہلے حصہ کوغلس اور دوسرے حصہ کو اسفار کہتے ہیں۔ اسفار میں جماعت اداکرنے کی احادیث ترمذی ،ابودائود ، نسائی ، ابن ماجہ ، مصنف ابن ابی شبیہ اور مسند احمد ہیں اور وجہ فضیلت تکثیر جماعت اور نمازیوں کو جماعت سے محروم ہونے سے بچانا بھی ہے اور ان احادیث پر عمل کرنا بھی جن اسفار یعنی اچھی طرح روشنی آنے کے بعد نماز پڑھنے کا حکم ہے۔نماز ظہر سردیوں میں اوّل وقت ، اور گرمیوں میں تاخیر سے پڑھنا افضل ہے ۔ چنانچہ بخاری ، مسلم ،ترمذی ،ابودائود وغیرہ تقریباً تمام حدیث کی کتابوں میں ہے کہ حضرت نبی علیہ السلام نے فرمایا جب گرمی سخت ہوتو نمازظہر اُس وقت پڑھو جب ٹھنڈک آچکی ہو۔ یہ متعدد احادیث متعدد صحابہؓ سے مروی ہیں ۔ اس لئے افضل یہ ہے کہ گرمیوں میں ظہر کی نماز دو بجے کے بعد ہی پڑھی جائے تاکہ ان تما م احادیث پر عمل ہوسکے ۔ نماز عشاء کے متعلق افضل یہ ہے کہ جب رات کا تہائی حصہ گزر جائے تو نماز عشاء پڑھی جائے ۔چنانچہ حضرت نبی علیہ السلام نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں حکم دیتاکہ نمازعشاء ثلت لیل (ایک تہائی) رات گزرنے کے بعد پڑھیں تو افضل یہی ہے مگر آج کے عہد میں اتنی تاخیر سے نمازِ عشاء کا وقت رکھا جائے تو اکثر نمازیوں کے لئے یہ مشکل ہوگا ۔ اس لئے نماز عشاء غروب شفق کے بعد پڑھی جائے ۔شفق کوجغرافیہ کی اصطلاح میں Twilight کہتے ہیں ۔ اس غروب شفق کاوقت کسی بھی مستند اوقات نماز کے ٹائم ٹیبل سے معلوم ہوسکتاہے کہ یہ کب ہوگا۔ چاہے میقات الصلوٰۃ ہو یا اوقات الصلوٰۃ ہو یا ڈیجیٹل ٹائم ٹیبل ہو یا الفجر والعصر گھڑیاں ہوں ۔ ان سب میں عشاء کا جووقت دکھایا گیا ہے وہ اذان کا وقت ہے ۔بس اس وقت پر اذان پڑھی جائے پھر دس پندرہ منٹ کے بعد جماعت کھڑی کی جائے اور اگر سارے نمازی مطمئن ہوں اور موجود ہوں تو اذان کے متصل بعد بھی جماعت کھڑی کرسکتے ہیں ۔
سوال:۔  قضاء عمری نمازوں کو کب اور کس تعداد سے ادا کرینگے؟
مشتاق احمد 
 
قضاء عمر ی ادا کرنے کا طریقہ
جواب: بالغ ہونے کے بعد جتنی نمازیں چھوٹ گئی ہوں اُن کا تخمینی حساب کر لیا جائے جو مقدار قضا کی طے ہو جائے اُس کو اپنی کسی کاپی پر درج کر لیاجائے کہ فجر نمازیں قضا شدہ کتنی ، ظہر کتنی، ہر ہر نماز کا حساب الگ الگ لکھ لیا جائے۔ پھر ان قضا شدہ نمازوں کو پڑھنا شروع کیا جائے۔ کم سے کم ادائیگی اس طرح ہوسکتی ہے ہر فرض نماز کے ساتھ ایک قضا نماز پڑھی جائے۔ اور حساب کاپی میں پڑھی ہوئی نمازوں کی تعداد لکھئے جائیں آج کی فجر کے ساتھ ایک قضا شدہ فجر اور آج ہی کے ظہر کے ساتھ ایک سابقہ ظہر پڑھتے ہیں۔ طلوع آفتاب اور زوال کے وقت کے علاوہ ہر وقت قضا نمازیں پڑھنا درست ہے۔
قارئین نوٹ فرمائیں!
سوال ارسال کرنے والے حضرات اپنا نام ومکمل پتہ اور فون نمبر تحریر کیا کریں ۔ ان کا نام وپتہ ، اگر ان کی خواہش ہو ، پوشیدہ بھی رکھا جا سکتا ہے ، تاہم ادارہ کے پاس مکمل نام و پتہ ہونا لازمی ہے ۔ ترکہ اور وراثت کے معاملات میں ، جو حضرات استفسار کرنے کے خواہاں ہوں ، وہ اپنے شناختی کارڈ کا فوٹو سٹیٹ خط کے ساتھ ضرور رکھیں ۔ بصورت دیگر ادارہ سوال کی اشاعت کا مکلف نہیں ہوگا۔    (ادارہ)
 

تازہ ترین