کرتارپور طرز پر ٹیٹوال مظفر آبادشاہراہ کھولنے کی مانگ

ٹنل کارڈی نیشن نے 16مارچ کو ٹنگڈار بند کی کال دی

15 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر // نستہ چھن گلی پر ٹنل کی تعمیر کے لئے کرناہ کے لوگوں نے تیسرے روز پریس کالونی میں زوردار احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مرکزی سرکارسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان سے بات چیت کر کے کرتارپور راہدری کی طرز پر ٹیٹوال مظفرآباد کے راستے کو کھول دے تاکہ سرما کے دوران لوگ علاج ومعالجہ اور دیگر اشیاء وہاں سے لاسکے ۔ادھر کرناہ میں ٹنل کارڈی نیشن کمیٹی نے 16مارچ کو ٹنگڈار بند کی کال دی ہے اور مرکز سے کہا ہے کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کریں ۔کرناہ کپوارہ شاہراہ کے مسلسل بند رہنے کے نتیجے میں درماندہ کرناہ کے لوگوں نے تیسرے روز بھی پریس کالونی لالچوک میں جمع ہوکر مظاہرے کئے اور ’جوڑ دو یا پھر چھوڑ دو ، خونی لیکر کو توڑ دو ‘‘، ’’ ہم کیا چاہتے ٹنل ٹنل ‘‘، ’’ہماری مانگیں پوری کرو‘‘کے نعرے لگائے ۔مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ٹنل کی تعمیر کے حق میں نعرے درج تھے ۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ کرناہ کپوارہ شاہراہ مقامی لوگوں کیلئے خونین ثابت ہو رہی ہے اور پچھلے کئی برسوں کے دوران شاہراہ پر 1ہزار سے زیادہ لوگ نہ صرف سڑک حادثات بلکہ برفانی تودوں کی زد میں آکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔مظاہرین نے کہاکہ اُن کا صرف یہی مطالبہ ہے کہ شاہراہ پر 6کلو میٹر ٹنل تعمیر کی جائے ۔احتجاج میں شامل ٹنل کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری محمد آصف میر نے کہا کہ ’لوگ پچھلے دو برسوں سے ٹنل کی تعمیر کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں اور مرکزی سرکار کی یقین دہانیوں کے باوجود بھی علاقے کی جانب کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی سرکار سادھنا پر ٹنل کی تعمیر کا کام ہاتھ میں نہیں لے سکتی اور راستہ کھولنے میں انہیں کوئی دقت ہے ،تو پھر کرناہ کے لوگوں کیلئے ٹیٹوال مظفرآباد شاہراہ کو کھول دیا جائے تاکہ لوگ اپنے لئے اشیائے ضروریہ وہاں سے لا سکیں ۔انہوں نے کہا ہم سرکار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کرتار پور کی طرز پر ماضی کی تجارتی منڈی ٹیٹوال کے راستے کو کھولنے کیلئے پاکستان سے بات کی جائے ۔کرناہ کے سابق زونل ایجوکیشن افسر محمد مقبول نے کہا کہ ’ہم برسوں سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ اُن کا رابطہ سال بھر وادی کے ساتھ بحال رکھنے کیلئے کوئی موثر اقدامات کئے جائیں لیکن سرکاریں صرف یقین دہانیاں ہی کراتی ہیں عملی طور پر کوئی کارگراقدامات نہیں کئے جاتے اور ٹیٹوال کا راستہ کھولنے کا مطالبہ کیا‘‘ ۔احتجاج میں شامل کرناہ کے سوشل ورکر اور سابق اُستاد عبدالرشید لون نے کہاکہ لوگ سالہا سال اس شاہراہ پر انسانی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں لیکن سرکار ٹس سے مس نہیں ہو رہی ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار نے ہم سے وعدے کئے لیکن اُن وعدوں کو بھی عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ۔محمد مشتاق خواجہ نامی ایک احتجاجی نے کہاکہ کرناہ کی حالت اس وقت ایسی ہے کہ وہاں دکانوں پر لوگوں کو اشیاء ضروریہ تک دستیاب نہیں ہو رہی ہے جبکہ مریضوں کی حالت بھی ہر گزرتے وقت کے ساتھ ابتر ہوتی جا رہی ہے ۔اُن کا کہنا تھا کہ وہاں قحط جیسی صورتحال ہے ،رسوئی گیس کا کہیں نام ونشان نہیں ،نوزائدہ بچوں کیلئے دودھ تک نہیں ملتا ،دکانوں پر ضروری ادویات ختم ہو چکی ہیں ۔
 

تازہ ترین