تازہ ترین

معاملہ اسمبلی انتخابات کے انعقادکا، مبصرین کی ٹیم سرینگر وارد

نیشنل کانفرنس اور کئی چھوٹی پارٹیوں کا بائیکاٹ، پی ڈی پی، کانگریس اور پیپلز کانفرنس کے نمائندے ملاقی

15 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 
سرینگر//مرکزی انتخابی کمیشن کی سہ رکنی ٹیم کے ریاستی دورے کے دوران علاقائی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس،سی پی آئی ایم،پی ڈی ایف اور ڈی پی این نے بائیکاٹ کیا،جبکہ دیگر جماعتوں نے فوری اسمبلی انتخابات کی وکالت کی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے منتخب‘‘خصوصی مبصرین‘‘ کی سہ رکنی ٹیم ریاست میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کیلئے جمعرات کو’’زمینی صورتحال کا احاطہ کرنے‘‘ کیلئے سرینگر اپنے دورے پر پہنچ گئی۔ ان خصوصی مبصرین میں سابق آئی ائے ایس افسران ونود زتشی،نور محمد اور سابق آئی پی ایس افسر ائے ایس گل شامل تھے،جنہیں ریاست میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کیلئے مجموعی صورتحال کا احاطہ کرنے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ تبادلہ خیال کی کمان سانپی گئی ہے۔ اس دوران مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے مرکزی انتخابی کمیشن کے وفد کے ساتھ میٹنگ میں ملا جلا ردعمل پیش کیا،جبکہ کئی علاقائی سیاسی جماعتوں نے میٹنگ سے دوری اختیار کی،تاہم جو سیاسی جماعتیں مبصرین نے ملاقی ہوئیں،انہوں نے ریاست میں فوری طور پر اسمبلی انتخابات منعقد کرنے کا مشورہ دیا۔ نیشنل کانفرنس کے علاوہ سی پی آئی ایم،پی ڈی ایف اور ڈی پی این نے مبصرین سے ملاقات نہیں کی،جبکہ پی ڈی پی،کانگریس اور پنتھرس پارٹی کے نمائندوں نے مرکزی انتخابی کمیشن کے اس وفد سے ملاقات کی،اور وفد کو زمینی صورتحال کے بارے میں اپنے نقطہ نگاہ سے واقف کیا۔
کانگریس کی جانب سے سینئر لیڈر تاج محی الدین اور ایم ایل اے بانڈی پورہ عثمان مجید کی سربراہی میں وفد نے مبصرین کے ساتھ ملاقات کی جبکہ پی ڈی پی کے وفد جس کی قیادت سابق ایم ایل اے سونہ وار محمد اشرف میر،محمد رفیع میر اور عبدالحمید کوشین کررہے تھے نے بھی الیکشن کمیشن آف انڈیا کے وفد کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے انہیں اپنی رائے سے آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق پیپلز کانفرنس کے وفد جس میں عبدالغنی وکیل اور جنید عظیم متو شامل تھے ،نے وفد کو ریاست میں لوک سبھا کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات کو بھی فوری طور پر منعقد کرائے جانے کا مطالبہ کیا۔عبدالغنی وکیل نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ وفد سے کہا گیا’’  انتخابات سے قبل اعتماد سازی کے اقدامات کئے جائیں،گرفتاریوں کو بند کیا جائے،اور سیاسی کارکنوں کی رہائی عمل میں لائی جائے۔‘‘
ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی کے اعلیٰ سطحی وفد جس میں آصف مسعودی اور ایم ایم وار شامل تھے ،نے بھی کمیشن کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے انہیں ریاست کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے یہاں لوک سبھا اوراسمبلی انتخابات کو ایک ساتھ منعقد کرانے پر زور دیا۔ پی ڈی پی لیڈر محمد اشرف میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پارٹی کا ایک وفد الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہوا جس دوران انہیں اسمبلی الیکشن کو فوری طور پر منعقد کرانے پر زور دیا گیا۔  اس دوران سابق مخلوط حکومت میں ساجھے دار جماعت بھاجپا  نے بتایا کہ بی جے پی نے اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر اسمبلی الیکشن کو منعقد کرانے پر زور دیا ۔ پنتھرس پارٹی کے چار سینئر لیڈروں منظور احمد نائک، صوبائی صدر فاروق احمد ڈار، سینئر ضلعی صدر حکیم عارف علی اور عبدالرشید گنائی شامل تھے نے ملاقات کی۔پنتھرس پارٹی کے وفد نے الیکشن کمیشن کے وفد سے ریاست میں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات ایک ساتھ کرانے کی پرزور مانگ کی۔وفد نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے لیکن پنتھرس پارٹی کے کسی بھی لیڈر یا آفس عہدیدار کو سیکورٹی فراہم نہیں کرائی گئی ہے۔پیپلز کانفرنس کا ایک وفد زیر قیادت پارٹی کے سنیئر نائب صدر عبدا لغنی وکیل الیکشن کمیشن کی طرف سے نا مزدہ مبصروں سے ملاقات کی جس دوران انہوں نے مبصرین پر زور دیا کہ ریاست جموں کشمیر میں انتخابات سے قبل اعتماد سازی کے اقدامات بحال کئے جائیں ۔ موصولہ بیان کے مطابق عبد الغنی وکیل کی سربراہی میں وفد میں لوگوں کی بھاری تعداد کے علاوہ پیپلز کانفرنس کے چیف ترجمان جنید متو بھی شامل تھے ۔ ملاقات کے دوران وفد نے مبصرین پر زور دیا کہ وہ ریاست جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرانے سے پہلے اعتماد سازی کے اقدامات اٹھائیں جس میں گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جانا چاہئے اور گرفتار کئے گئے سیاسی کارکنوں کو رہا کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے مبصروں پر زور دیا کہ ریاست جموں کشمیر میں انتخابات تب تک لا حاصل ہے جب تک نہ لوگوں کی بھاری شرکت کو یقینی بنایا جا سکے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی سرکار وادی میں دھونس اور دبائو پالیسی بند کرے تاکہ عوام خود کو غیر محفوظ نہ سمجھیں اور انتخابات میں بھاری شرکت یقینی ہو سکے ۔
 

اسمبلی انتخابات کا انعقاد امرناتھ یاترا سے قبل متوقع

سرینگر//ریاست جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کا انعقاد یکم جولائی سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاترا سے قبل منعقد ہونے کی توقع ہے ۔سرکاری ذرائع نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے کہاہے کہ ریاست میں سیاسی پارٹیوں کے مطالبے کو مد نظر رکھتے ہوئے رواں برس ہی اسمبلی انتخابات منعقد کئے جائیں گے اور اس کیلئے حتمی تاریخوں کے حوالے سے  غور کیا جارہا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ سالانہ امرناتھ یاترا سے قبل مناسب سیکورٹی تعیناتی کے دوران ہی اسمبلی انتخابات منعقد کرائے جاسکتے ہیں ۔اس حوالے سے مرکز ی الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کئے گئے سہ رکنی مبصرین کی ٹیم ریاست کے دورے پر سرینگر وارد ہوچکی ہے جہاں اس نے کئی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ملاقاتوں کا آغاز کیا ہے ۔مذکورہ ٹیم ضلعی الیکشن افسران کے علاوہ ریاستی چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سے ملاقات کرے گی ۔مبصرین اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں حتمی رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کرے گی جس کے بعد ہی حتمی اعلان سامنے آئے گا۔