نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے، متعدد ہلاکتوں کا خدشہ

15 مارچ 2019 (04 : 11 AM)   
(      )

عظمیِ نیوز ڈیسک

سرینگر/نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک مسجد پر جمعہ کی نماز کے اجتماع پر فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق اب تک چار افراد، جن میں ایک عورت بھی شامل ہے، کوحراست میں لیا جا چکا ہے۔

وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن نے اسے نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے۔

پولیس کمیشنر مائیک بش کے مطابق ڈین ایوینیو اور لِن ووڈ ایوینیو کی مساجد سے ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ جائے وقوع کے قریبی علاقوں سے دور رہیں، جبکہ اردگرد کے تمام سکول اور ہسپتال بند کر دیے گئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے جمعہ کے نماز کے دوران کیا گیا اور وہ حملہ آوروں سے اپنی جان بچا کر بھاگے۔

ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

کرائسٹ چرچ کی مسجد النور میں موجود عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے مسجد کی عمارت کے باہر زخمی لوگوں کو زمین پر لیٹا دیکھا ، لیکن پولیس یا مقامی انتظامیہ نے اس خبر کی ابھی تک تصدیق نہیں کی۔

مسجد النور کرائسٹچرچ کے ہیگلی پارک کے قریب ڈین ایونیو پر واقع ہے

پولیس نے نزدیکی کیتھیڈرل سکوائر بھی خالی کروا لیا ہے، جہاں پر ہزاروں بچے موسمیاتی تبدیلی کے سلسلے میں ریلی نکال رہے تھے۔

پولیس کمشنر مائیک بش کا کہنا ہے اس وقت کرائسٹ چرچ میں ایک حملہ آور موجود ہے جس کی وجہ سے حالات سنگین ہیں اور ان میں تبدیلی آ رہی ہے۔

پولیس حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ جوابی کارروائی کر رہی ہے، لیکن خدشات اب بھی بہت زیادہ ہے۔

پولیس نے ہدایات دی ہیں کہ کرائسٹ چرچ کے رہائشی تا حکم ثانی اپنے اپنے گھروں کے اندر رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اسی طرح شہر کے سکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے دورہ پر آئی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پوری ٹیم جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔

ٹیم کی کورریج کرنے والے ایک رپورٹر نے ٹویٹ کی کہ ٹیم کے ارکان ہیگلی پارک کے قریب واقع اس مسجد سے بچ کر نکلے ہیں جہاں پر حملہ آور موجود ہیں۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلال یونس کا کہنا ہے کہ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بس کے ذریعے سے مسجد گئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر جانے والے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔

 

تازہ ترین