غزلیات

17 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اُجلی صورت ہو کہ مَیلی صورت
کِس میں پِنہاں نہیں تیری صورت
اے سمندر تو ہے پانی صورت
پھِر بھی ہے کیوں تِری پیاسی صورت
ایک مسکان چھپا لیتی ہے
میری ہر بار ہی رونی صورت
لوگ پہچانیں مجھے چہرے سے
اور میری کوئی دوجی صورت
روح ہوتی ہے اگر لافانی
جِسم ہے ایک گھڑے کی صورت
اُس کو محسوس ہی کر سکتے ہیں
ہے خُدا بھی تو ہَوا کی صورت
مرض اپنا بھی نرالا ہے میاں
زہر لگتا ہے دوا کی صورت
آنکھ والے تو یہی کہتے ہیں
غم سے ملتی ہے خوشی کی صورت
وقت ذہنوں سے مٹا دیتا ہے
میٹھی یادیں ہوں کہ اچھی صورت
جسم ہے زرد ہوا سونے سا
اور سر ہو گیا چاندی صورت
دور ہونے کے بہت رستے ہیں
ایک ملنے کی بھی ہوتی صورت
 
دیپک آرسیؔ
203/A، جانی پور ،جموں، 9858667006
 
 
نمایاں کیا، پس منظر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی میں
حوادث کے نشانے پر اِدھر بھی میں اُدھر بھی میں
سرِ لشکر، سرِ محفل، سرِ منبر، سرِ بالیں
تلّون کیش بازی گر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی میں
مجھے انسان کہنے میں فلک کو ناز تھا کل تک
مگر اب حیف! دردِ سر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی میں
جہاں بھر میں مری ناعاقبت اندیشیاں جاری
نہ ہوں رُسوا سرِ محشر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی میں
بہک کر پھونک ڈالے امن کے ہیں آشیاں سارے
بھٹکتا پھر رہا بے گھر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی میں
کوئی منصف بنا بیٹھا، تو کوئی مدّعی ٹھہرا
ستم دیدہ، ستم پرور، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی میں
شبِ تاریک میں روشن چراغِ جاں لئے حاضر
اُجالوں میں سیاہ پتھر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی میں
تری یہ خود کلامی گر کبھی معلوم ہوجائے
اڑائوں گا اِسے بے پر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی میں
تخیل میں، تصور میں، ترنم میں، تغزل میں
سخن آرا، سخن گستر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی میں
کوئی حالات کے چلتے اگر مشہورؔ سے پوچھے
تو کہدے گا کہ خیروشر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی میں
 
محمد یوسف مشہورؔ
کپوارہ، کشمیر
موبائل نمبر؛9906624123
 
تدبیر نے کبھی نہ ملایا حبیب سے
ملتے ہیں دو دلوں کے ستارے نصیب سے
 
دہشت دلوں میں خوف نگاہوں میں کیوں یہاں
موجود آس پاس ہیں سائے عجیب سے
 
میں نے خدا کا نام لیا ہے اسی لئے
مجھ کو کسی نے بھی نہ اُتارا صلیب سے
 
ہوتے ہیں حادثات یہاں روز رونما
ہم دیکھتے ہیں موت کو اکثر قریب سے
 
گھر کا چراغ روز بجھاتی ہے یہ ہوا
ظالم کو کس قدر ہے عداوت غریب سے
 
اُس کو تلاش کون کرے گا جہان میں
ہر درد کا علاج اگر ہو طبیب سے
 
ہمدرد نے تو مجھ کو بہت درد دے دیئے
ناراض خواہ مخواہ میں ہوا تھا رقیب سے
 
حالات خوشگوار نہیں آج بھی وہاں
امید کس خبر کی کریں گے نقیب سے
 
جس کو بیان کر نہ سکے داستان گو
تحریر ہوسکے گا کہاں وہ ادیب سے
 
میری کتاب میں وہ مضامین چھَپ گئے
راحتؔ بیان جو نہ ہوئے تھے خطیب سے
 
رئوف راحتؔ
روز لین ایچ ایم ٹی ، سرینگر،9149830023
 
دِل کو چھُو کر جوانی گُزر جائے گی 
پالکی سے یہ دُلہن اُتر جائے گی 
 
جِسم میرا کِرائے کا گھر ہے، اِسے 
زِندگی ایک دِن چھوڑ کر جائے گی   
 
پھُول کے گُن ہیں اُس میں، ہے چندن بدن 
دِل کے جنگل کو خُوشبو سے بھر جائے گی 
 
راج نیتی کی اِک شرط پرواز ہے  
سر سے اُوپر اُڑو پَر کتر جائے گی 
 
برف کی وادیوں میں پلی وہ پَری  
دھوپ وی رےؔ کا گھر ہےکہ مر جائے گی
 
مقبول وی رے 
اسلام آباد، اننت ناگ
موبائل نمبر؛9797972444
 
سن رہا تھا جسے مثالوں میں
آج پایا اُسے کتابوں میں
وہ اشاروں میں کہہ گیا کیا کچھ؟
میں تو الجھا رہا سوالوں میں
وقتِ آخر سنور گئی قسمت 
موت آئی جو اُن کی بانہوں میں
اپنے دکھ درد بھول جاتا ہوں
چل دیا جب وفا کی راہوں میں
موسموں کا بھی کیا بھروسہ ہے
لُٹ گیا جب چمن بہاروں میں
کچھ نہیں چاہئے اب اور سعیدؔ
پائے اُنکے نشاں ہیں راہوں میں
 
سعید احمد سعیدؔ
احمد نگر، سرینگر، 8082405102
 
 
 
 
رسولِؐ محترم کی نعت گوئی کا ثمر دیکھو
نظر والو سرِبامِ فلک میرا گُزر دیکھو!
نہ جائو میرے لفظوں پر نہ تم میرا ہُنر دیکھو
میرے بہتے ہوئے اشکوں کا بس خود پر اثر دیکھو
ستم کے عہد میں دن رات گائیں امن کے نغمے
یہ بے دل دیدہ ور دیکھو یہ بے حِس نغمہ گر دیکھو
یہ وادی سرخ پھولوں کی بنی بارود کی ڈھیری
لہو میں تر بدن دیکھو کہ یہ میرا کاشمر دیکھو
میری مجبوریوں نے بس یہی سیکھا ہے دنیا میں
اگر ہو تنگدستی تو نہ دستِ اہلِ زر دیکھو
نہ جانے حُسن کا یا میری نظروں کا تقاضہ ہے
جِسے اک بار یکھو پھر اُسی کو عمر بھر دیکھو
نظر آتا نہیں ہے وہ مگر موجود ہے ہرسُو
اگر ہو دیکھنا اُس کو تو اپنا حُسنِ تر دیکھو
جنوں میں بھی یہ ہشیاری تجھے کِس نے سکھا دی ہے
کہ جب سر پھوڑنا ٹھیرے اُسی کا سنگِ در دیکھو
مکافاتِ عمل نے کردیا بے خانماں تجھ کو
بس اب مشتاقؔ کشمیری کسی کا گھر نہ در دیکھو
 
مشتاق کاشمیری
سرینگر،موبائل نمبر؛9596167104
 
 
مار کر مجھے اس عشق کے قید خانے میں
تمہیںکیا ملے گامجھ کو ستانے میں
ان سے چہروں کے پیچھے چھپنا نہیںآتا
وگرنہ کیا تھا ذرا سا مسکرانے میں
یہ اس کی بزمِ فرقت کا ہی فیصلہ تھا 
کہ نمازبھی پڑھ لوں مگر میخانے میں
تو نے تو بچھائے ہیں راہِ اُمید پہ کانٹے
رکھا کیاہے یہ شمع ٔ محبت بُجھانے میں
خود سہا تو اسے آزاد کر اے مظہرؔ
تجھ سا سادہ لوح کوں ہے زمانے میں
 
حمزہ مظہر
دریش کدل ،سرینگر،موبائل نمبر؛8825054483
 
 
کون کرتا رہے انتظار آپ کا
'' آپ کی بات پر اعتبار آپ کا'' 
بے دلی کوئی ایسی بھی ہے بے دلی
جانے کس نے ہے چھینا قرار آپ کا
اب جگر میں نظر میں ہو بس آپ ہی
اب تو آنکھوں میں بھی ہے خمار آپ کا
ہیں زمان و مکاں آپ کے دم سے ہی 
زندگی ہے میری اختیار آپ کا
اب تو ہر شے یہاں آپ کے بس میں ہے
یعنی اب یہ گلی، یہ دیار آپ کا
ہوں میں بے بس بہت دو سہارا مجھے 
مر نہ جائے کہیں، بے قرار آپ کا
آپ کہتے تھے غم دور ہو جائیں گے
غم ہی آخر ہوا غمگسار آپ کا
ہے مناسب نہیں اتنا سود و زیاں 
کیا محبت کا ہے کاروبار آپ کا؟ 
اے عقیلؔ اپنی دھن میں ہی جیتے رہو
مار ڈالے نہ ہم کو یہ پیار آپ کا
 
عقیل فاروق
طالب علم شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی
شوپیان،موبائل نمبر؛8491994633
 
 
خسار تم بھی چاہو تو خسار۱ ہو نہیں سکتا
بھنور ہے یہ محبت کا کنارا ہو نہیں سکتا
کرو رسوا ءنہ تم ہم کو یہ محفل ہے رقیبوں کی
سمجھ لو رنگ چہرے کا اشارہ ہو نہیں سکتا
برسہا برس کوشش کی اُسے اپنا بنانے کی
ابھی تک جو نہ بن پایا، ہمارا ہو نہیں سکتا
چلو چلتے ہیں اپنے گائوں یاں قاتل ہیں چاروں اور
کہ شہروں میں ہمارا اب گزارا ہو نہیںسکتا
لُٹا دی جاں ضیائیؔ نے مگر پھر بھی وہ یہ بولے
کہ چُٹکی بھر محبت سے گزارا ہو نہیںسکتا
 
امتیاز احمد ضیائی
پونچھ، موبائل نمبر؛9697618435
 

 

تازہ ترین