نظمیں

7 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نظم
یہ آشیاں یہ گلستاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
ارض وطن ہندوستان تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
 
اس ملک کی تہذیب تو میری بھی ہے تیری بھی ہے
تاریخ میں نام و نشاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
 
یہ خون جو ہوتے ہیں اکثر تیرے میرے نام پر
یہ خون تو اے جانِ جاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
 
مذہب، سیاست، رنجشوں کی دوریوں کے باوجود
کوئی رشتہ درمیان تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
 
کس طرح سے قائم رہے امن و سکوں امن و اماں
اس دور میں یہ امتحاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے 
 
کے ڈی مینی
پونچھ،جموں وکشمیر
 موبائل نمبر؛8493881999
 
 
سامراجی طاقتیں
آدمیّت کُش ستمگر سامراجی طاقتیں
سینہ زور اور کینہ پرور سامراجی طاقتیں
امن کے ہر شہر میں کرتی ہیں پیدا روز و شب
 وحشت و دہشت کے منظر سامراجی طاقتیں
تشنہ قوموں کو دِکھاتی ہیں فُراتوں کے سراب
ہیں یزیدوں سے بھی بد تر سامراجی طاقتیں
آتشی رنگیں کھلونے اور غبارے بیچ کر
آگ پہنچاتی ہیں گھر گھر سامراجی طاقتیں
انکی شیریں بات میں زہرِ ہلاہل ہے بھرا
سانپ ہیں بچھو ہیں اجگر سامراجی طاقتیں
انکی آنکھوں میں کھٹکتے  ہیں پرندے امن کے
ہاتھ میں رکھتی ہیں پتھر سامراجی طاقتیں
ٹوٹ پڑتی ہیں غریبوں کے نوالے دیکھ کر
چھین لیتی ہیں مقدر سامراجی طاقتیں
لطف آتا کھیلنے میں خون کی ہولی انہیں
آستیں میں لے کے خنجر سامراجی طاقتیں
اِن سے دھرتی ماں نہیں محفوظ بھی اب دیکھنا
چھین لیں گی سر سے چادر سامراجی طاقتیں
کر رہی برپا ہیں ارضِ حق پہ یہ ناحق فساد
دشمنی کا درس دیکر سامراجی طاقتیں
آگ ہے اُنکی طبیعت اور دھواں اُنکا مزاج
جنگ کے پڑھتی ہیں منتر سامراجی طاقتیں
ان سے بُو آتی ہے اب بارود کی شیدؔاّ فقط
ہو گئیں اتنی مکدّر سامراجی طاقتیں
 
علی شیداؔ
(نجدہ ون) نپورہ اسلام آباد اننت ناگ کشمیر
موبائل نمبر؛9419045087
 
 

 

تازہ ترین