جُمّہ لیڈر

طنزومزاح

14 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر ریاض تو حیدیؔ
جدید دور کے علمی دھماکوں نے اگر چہ سماجی زندگی کے بہت سارے شعبوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے تاہم یہ دھماکے قدیم دور کے سیاسی سانپ کی خصلت کو بدلنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔یہ ایسی سخت جان مخلوق ہیں جو ماحول کے مطابق اپنی مکاری کی کینچلی بدلتی رہتی ہیں اور اپنا لالچی پیٹ بھرنے کے لئے کسی بھی برتن سے دودھ چرانے کو سیاسی کرتب سمجھتی ہیں۔میرے ایک دوست کا نام کچھ اور تھا لیکن سیاسی بھوت سر پر سوار ہوتے ہی جمہ لیڈر کے نام سے مشہور ہوا۔ میں نے کئی بار  جُمّہ لیڈرکو سمجھایا کہ سیاست کے اکھاڑے میں اترنے کے لئے کرتب بازی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے اس اکھاڑے میں مت کودو کیونکہ نہ تم مداری کا فن جانتے ہو اور نہ ہی سازش رچانے کا ہنر رکھتے ہو۔ سیاست کا کام سیاسی طور طریقوں سے ہی چلتا ہے۔ اس میں چالاکی کے ساتھ مکاری اور ایمانداری کے ساتھ بے ایمانی کے حربوں سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ بقول شاعر   ؎
سیاست سازشوں کاایک ایسا کھیل ہے جسمیں
کئی چالوں کو خود سے بھی چھپا کر چلنا پڑتا ہے
لیکن وہ کب ماننے والا تھا ۔اُس کے دماغ میںتو اپنی پولٹیکل سائنس کی ڈگری کا فتور جوش مار رہا تھا ۔میرے سمجھانے پر وہ ہمیشہ لمبی تقریر جھاڑتے رہتا کہ سیاسی میدان میں کودنے کا تومزہ ہی کچھ اور ہے ۔ہماری سیاست کی سانسیں جمہوریت کے آ کسیجن پر چلتی ہیں ۔کوئی بڑا ڈان جب رات کے اندھیرے میں عوام کو لوٹنے سے دستبردار ہو جاتا ہے تو وہ جمہوریت کا جھنڈا تھام کر سیاسی میدان میں کود پڑتاہے اور اپنے اپاہج قانون کی شہ رگ پر پائوں رکھ کر دن کے اُجالے میں عوامی خزانے کو دو دو ہاتھوںلوٹنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔یہ سب دیکھتے ہوئے بھی ہے کس کی مجال کہ وہ اس کے ددتو کیا ایک ہاتھ کو بھی روک سکے۔
جُمّہ لیڈر پوسٹ گریجویٹ تھا۔ سر کاری نوکری پانے کے لئے سرکاری محکموں کی خا ک چھاننے کے بعد جب وہ خاک پر بیٹھ گیا توہی اُس کے ذہن میں الیکشن لڑنے کا خیال آیا تھا۔ایک دن وہ صبح سویرے میرے گھر پر آدھمکا اور اپنے چند ناتوان اور چاپلوس ہمنواؤںکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ ابھی تو شرو عات ہے ‘آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ میں اس کے کہنے کے مقصد کو بھانپ گیا اور دل ہی دل میں ہنس کر سوچنے لگا کہ ان چاپلوسوں کو تو کوئی ادنیٰ سا لیڈر بھی اپنے پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتا ہے۔یہ موقع پرست سیاسی چمچے اپنے مطلب کے لئے گدھے کو بھی باپ بنا لیتے ہیں یعنی مطلب ختم ان کی چاپلوسی ختم۔ میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک بڑا چاپلوس کمرے میں ہی نعرہ لگانے لگا کہ جیتے گا بھئی جیتے گا ‘جُمّہ لیڈرجیتے گا۔جُمّہ لیڈر خوش ہوکرمجھے اپنی سیاسی بصیرت دکھانے کے لئے تقریر کرنے لگاکہ آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ کتنے ہی مڈل پاس اوران پڑھ سیاسی لیڈر بڑے بڑے تعلیم یافتہ افسروں کو اپنی انگلیوں پر نچاتے رہتے ہیں ۔یہ کہتے ہوئے اُس نے اپنا ایک واقع سُنایا کہ اُس نے جب پولٹیکل سائنس میں M.A. کیا تو وہ ایک مڈل پاس منسٹر کے پاس سرکاری نوکری مانگنے کے لئے چلا گیا ۔منسٹر نے جب اُسے تعلیم کے بارے میں پوچھا تو اُس نے بڑے فخر کے ساتھ M.A.کیا ۔منسٹر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اپنے سامنے بیٹھے لوگوں سے ہنستے ہوئے بول پڑا کہ دیکھو بھائیو! یہ نو جوان صرف M.A کرنے کے بعد ہی نوکری ڈھو نڈ رہا ہے ۔میرے علاقے میںابھی کتنےB.A  بے کار بیٹھے ہیں‘جاؤ بیٹا جاؤ ! پہلے اور پڑھو‘ تب نوکری ڈھونڈو۔ یہ سُن کر بہت سارے لوگ مجھ پر ہنسنے لگے اور میں اپنا سر پیٹتے ہوئے وہاں سے بھاگ آیا ۔اصل میں وہ ان پڑھ منسٹر M.A سننے کے بعد سوچنے لگا کہ پہلے Bآتا ہے اس کے بعد M آتا ہے اس لئے مجھے اور پڑھنے کی فائدہ مند مشورہ دے گیا ۔یہ واقع سُنا کر جُمّہ لیڈر بڑے جوش میںکہنے لگا کہ’’ جب وہ اَن پڑھ لیڈرمنسٹری تک پہنچا ہے ‘میںکیوں نہیں منسٹر بن سکتا ہوں ‘میںنے تو سیاست میں ڈگری بھی کی ہے ۔‘‘یہ سنتے ہی اُس کے حواری نعرہ دینے لگے ـــــــــــــ۔ ’’جُمّہ لیڈرقدم بڑھائو ۔۔۔ہم تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘یہ ـمنظر دیکھ کر میں خود سے کہنے لگا کہ ہاں جُمّہ ! تم نادانی کا قدم اٹھاؤ یہ لوگ تمہیں تمہاری ڈگری کے ساتھ کسی اندھے کنویں میں پھینک کر ہی دم لینگے۔
جُمّہ لیڈر انھیں چُپ کراتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا کہ اب بتاؤ میرا یہ قدم صحیح ہے کہ غلط ؟ اُس کی اس خوش فہمی کو دورکرتے ہوئے میں اُسے سمجھانے لگا کہ دیکھو جُمّہ! تم جن ان پڑھ سیاست دانوں کی بات کر رہے ہو ان کے پیچھے پارٹی کا سپورٹ بھی ہوتا ہے اور دھن دولت کی قوت بھی۔ تم ان چاپلوس لوگوں کی نعرہ بازی پر زیادہ اچھلنے کی کوشش مت کرو ۔ میرا اتنا ہی کہنا تھا کہ ان لوگوں میں سے ایک چاپلوس جذبا تی انداز میں بول پڑا کہ میں اس کو جتوا نے کے لئے اپنی جان تک دے سکتا ہوں ۔میں نے کہا کہ اے مریل ! تم تو اپنی بیوی کی غنڈہ گردی کے سامنے بیگی بلّی بن جاتا ہے ۔ وہ  توتجھے روز جاڑو سے مارتی رہتی ہے اورتو بڑے بڑے سیاسی مگر مچھوں کی غنڈہ گردی کا مقابلہ کرنے کی بات کرتا ہے ۔جُمّہ لیڈر اپنے ووٹر کو چُپ کراتے ہوئے بول پڑا ۔"جب انگریز ملکوں میں تعلیم یافتہ لوگ لیڈربنتے ہیں تو کیا ہم تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔‘‘میں نے سر سے پیر تک اس پر ایک نظر ڈالی اور اس کو بڑی سنجیدگی سے سمجھانے لگا کہ پولٹیکل سائنس میں تم نے ضرور انگریزوں کے خیالات پڑ ھے ہیں لیکن تم دماغوں کے معیار بھی سمجھنے کی کوشش کرو۔وہاں پر ووٹ دینے کے لئے عقل استعمال کی جاتی ہے اور یہاں پر ووٹ لینے کے لئے ہاتھ استعمال کیا جاتاہے اور حسب موقع ڈنڈا بھی کام آتاہے۔ وہاں پر دانشوروں کو اپنا نمائندہ بنایا جاتا ہے اور یہاں کن کن لوگوںکی جے جے کار کی جاتی ہے ‘یہ تو تم جانتے ہی ہو۔وہاں کے لیڈر ملکی سرمائے کو عوام کی امانت سمجھتے ہیں اور یہاں کے لیڈر ملکی سرمائے کو ذاتی جائیداد سمجھتے ہیں ۔ میری ان باتوں سے نہ تو اُس نے اتفاق کا اظہار کیا اور نہ اختلاف کا لفظ منھ سے نکالا بلکہ مجھ سے ووٹ مانگتے ہوئے وہاں سے چل پڑا ۔
الیکشن کا بگل بجتے ہی اُس نے کاغذات نامزدگی داخل کئے ۔دوسرے لیڈروں کی طرح اُس نے بھی ووٹ حاصل کرنے کے لئے لوگوں کے دروازے کھٹکھٹائے۔ پشتنی زمین نیلام کرکے جلسے جلوس نکلوائے ۔ ایک جلسے کے دوران اُس نے جب الیکشن لڑنے کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر آپ لوگوں نے مجھے ووٹ دے کر کامیاب بنا دیا تو میں آپ لوگوں کے پڑھے لکھے بچوں کو نوکریوں سے نوازوں گا۔جلسے میں ایک دل جلے بے روزگار نوجوان نے زور زور سے ہنستے ہوئے کہا ’’گھر میں دیکھو چھلنی نہ چھاج، باہر میاں تیر انداز۔‘‘
بہر حال الیکشن میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصّہ لینا تو بچوں کا کھیل نہیں ہوتا ہے‘ اس لئے جُمّہ لیڈرکے پاس جتنا بھی گھر کا اثاثہ تھا وہ سب الیکشن مہم چلانے کے دوران داؤ پر لگ گیا۔ الیکشن کے دن جب وہ پولنگ بوتھوں کا دورہ کر کے مقامی پولنگ بوتھ پر پہنچا تو الیکشن عملہ نے اُسے بتایا کہ اس کا کوئی ایجنٹ اُس بوتھ پر موجود نہیں ہے۔ وہ یہ سُن کر آگ بگولہ ہو کر اُس مریل چاپلوس پر برس پڑا کہ تو تو میرا چیف ایجنٹ ہے ۔وہ مریل آنکھ ٹکرا کر بولا کہ میں تیرا نہیں بلکہ بڑی پارٹی کا ایجنٹ ہوں۔ ۔اتنا سننا تھا کہ جُمّہ لیڈر آپے سے باہر ہوگیا اور اس پر جھپٹ پڑا۔اس گُتھم گتھائی کے دوران بڑی پارٹی کا امیدواربھی اپنے غنڈوں سمت وہاں پرپہنچ گیا ۔غنڈوں نے جم کر جُمّہ لیڈرکی پیٹائی کر ڈالی اور پولیس اُسے پولنگ بوتھ پر زور زبردستی کے الزام میں ڈنڈے مار مار کر پولیس اسٹیشن کی طرف لے گئی۔بہرحال‘ الیکشن کا بخار ختم ہوتے ہی جب جمہ سرکاری مہمان خانے سے ہڈیوں کے ڈھانچہ بن کر میرے پاس آیا تو میں گنگناتے ہوئے اسے دلاسہ دینے لگا:
   ’’بہارو پھول برساؤمیرا محبوب(جمہ) آیا ہے‘‘۔
���
رابطہ؛وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر
موبائل نمبر؛7006544358

تازہ ترین