نظمیں

14 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

خواہش

دھوپ کچھ اونچے مکانوں پہ
آگئی ہے ابھی
یہ پرندے بھی گھونسلوں کی طرف
اُڑانیں بھرنے کو بے تاب نظر آتے ہیں
ہوائیں نیم کے پتوں سے چھن کے آتی ہیں
چاند کی پہلی کرن 
پھوٹنا چاہتی ہے ابھی
اُفق سے رنگ کوئی
دودھیا سا آناہے
شام کے چہرے پہ اُتر جانا ہے
پاس بیٹھو کہ ذرا پیار کی باتیں کر لیں
 
کتنے دن کتنے مہ و سال کے بعد 
آئے ہو یہاں
اب ذرا دیر سہی
رک جاؤ
کچھ تو بولو کہ 
خموشی کوئی باقی نہ رہے
درد بانٹو کہ مرے دل کو چین آجائے
 
یہ آبشار یہ کہسار
ناؤ یہ پتوار
تھکے تھکے سے یہ چرواہے
بکریوں کی قطار
نظر کے سامنے یہ کیسی وادئ گلنار
دھوپ پیڑوں پہ سرسراتی ہے
شام پانی میں مسکراتی ہے
تم جو آئے تو دریچے دل کے
نرم آہٹ سے وا ہونے لگے
آپ
آؤ کچھ دیر کو ہم
درد کا قصہ ہوجائیں
اپنی سانسوں کے زیر و بم میں رہیں
شام آئی ہے گزر جائے گی
پاس بیٹھو کہ ذرا پیار کی باتیں کرلیں
 
احمد کلیم فیض پوری موبائل نمبر؛ 8208111109
 
 
 
 

ڈیوٹی 

صبح اٹھ کر میں گھر سے دور جب ڈیوٹی پہ جاتا ہوں
بڑے پُر کیف گیتوں کی دھنوں پر جیسے گاتا ہوں
سفر میرا بڑا دلکش بڑا پرلطف ہوتا ہے
کبھی میں تیز چلتا ہوں، کبھی رک رک کے چلتا ہوں
بہت بیمار آتے ہیں مرض اپنا بتاتے ہیں
میں اپنے مسخرے پن سے بہت ان کو ہنساتا ہوں
اسی انداز میں دن بھر یوں ہی مشغول رہتا ہوں
کبھی میں شعر پڑھتا ہوں کبھی ان کو پڑھاتا ہوں
شکایت لے کے میں اکثر بڑے صاحب کو جاتا ہوں 
غرض ہر وقت ان کو میں رُلاتا ہوں ہنساتا ہوں
ملازم گر کسی چٹھی پر دستخط لینے آ جائے
کبھی کاغذ کو پھاڑوں میں، کبھی میں منہ بناتا ہوں
پر اپنا ورک کلچر دیکھ کر پھر مسکراتا ہوں
کبھی خود کو جگاتا ہوں کبھی دل کو لُبھاتا ہوں
کبھی کرفیو، کبھی ہڑتال، کبھی یہ کال کبھی وہ کال
میں جاتا ہوں، میں آتا ہوں، یوں ہی کرکے نبھاتا ہوں
وہاں جانا، یہاں آنا یہی معمول ہے میرا 
انہیں خوابوں خیالوں میں، میں خود کو بھول جاتا ہوں
سفر چلتا رہے گا یوں رفیقوں کی دعاؤں سے
اُسیۜاُمید میں اُلجھی ہوئی دنیا بساتا ہوں
 
ڈاکٹر محمد یونس ڈار
تجن پلوامہ، کشمیر،موبائل نمبر؛6005636407
 

تازہ ترین