کنیہا بمقابلۂ گیری راج

اونٹ کس کروٹ بیٹھےگا؟

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

رُودادِ زماں شہاب مرزا
ایک   ایسے دور میں جب ہندوستان میں فرقہ پرستی، تعصب، مسلم اور دلت اقلیت کےساتھ جانوروں جیسا سلوک کر نا معمول کی بات بنی، ان حالات ست تنگ آکر ایک جواں سال دلت اسکالر روہت ویمولا نے  خود کشی کی ۔ اس سے جہاں بھاجپا حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا ،وہیں جے این یو، نئی دلی کے اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیاکمار کو میدان میں لا کھڑاکر دیا ۔کنہیا کمار نے4 فروری 2016 کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹ فرنٹ کے زیر اہتمام روہت ویمولہ کی خودکشی کے خلاف آوزاُٹھائی اور الزام لگایا کہ روہت نے حیدرآباد یونیورسٹی کی انتظامیہ اور اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے متعصبانہ رویوںکے خلاف آتم ہتھیا کا اقدام کیا ۔ چونکہ ر وہت کے حق میں کنہیاکمار نے Justice For Rohitتحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کے خلاف اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے فوراً جے این یو کے پروگرام  کے بارے میں جھوٹ پھیلایا کہ ا س میں ہندوستان کے ٹکڑے کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس پر بکاؤ الیکٹرانک میڈیا نے پروگرام کا فرضی ویڈیو جاری کر کے جے این یو طلبہ یونین کو ملک دشمن قرار دیا ، اس کے خلاف ملکی غدار اور پاکستانی ایجنٹ جیسے نام استعمال کئے گئے۔ حتیٰ کہ طلبہ یونین کو پاکستانی کے ساتھ خفیہ روابط ہونے اور پارسے فنڈنگ کی جھوٹی دستاویزات کو بطور ثبوت پیش کیا گیا۔ انہی الزامات کے تحت کنہیا کمار، عمر خالد، شہلارشید اور انربھیان بھٹاچاریہ پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیالیکن ان گرفتاریوں نے طلبہ کو ہراسان نہ کیا بلکہ الٹا حکومت کے خلاف اور زیادہ مشتعل کر دیا اور قومی سطح پرحکومت کے خلاف رائے عامہ اس قدر برہم ہوئی کہ 22 ؍دن کی عدالتی حراست کے دوران کنہیا کمار ایک بے باک طلبہ لیڈر کی شکل میں نکھر کر سامنے آگئے۔ جے این یو طلبا یونین نے یونیورسٹی نے سیاسی موضوعات پر لیکچر وںکا انعقاد کر کے ملک میں ذات پات کی تفریق ، سامراجیت کے نئے رنگ روپ ، ہندو مسلم فسادات ، جعلی قوم پرستی ا ور سرمایہ دارانہ استحصال سے لے کر پاکستان سے جنگ تک تمام موجودہ مسائل پر بحث و مباحثہ سے حکومت کے خلاف اپنی نظریاتی جنگ جاری رکھی۔ 
کنہیا کمار کا تعلق بہار کے بیگو سرائے ضلع کے ایک غریب کسان گھرانے سے ہے۔ اُن کی والدہ آنگن واڑی ٹیچر ہیں ۔ کنہیا کمار نئی دلی آئی اے ایس افسربننے کا خواب لئے آئے تھے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور ہے اور اب بیگوسراے لوک سبھا سیٹ سے انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ بیگوسراے سیٹ سے ان کا مقابلہ مرکزی وزیر گری راج سنگھ سے ہوگا ۔ الگ الگ وچار دھاراؤں سے تعلق رکھنے والے دونوں اُمیدوار شعلہ بیانی کے لئے مشہور ہیں  ۔ گری راج سنگھ کہہ رہاہے کہ اسے قوم دشمنوں سے مقابلہ ہے اور کنہیا نے غلط پالیسیوں، سچ اور جھوٹ ملک میں آزادی کے لئے لڑنے کی بات کر ر ہے۔بیگوسراے سیٹ پر آر جے ڈی نے تنویر حسن کو اُتارا ہے ۔اس حلقے میں دو لاکھ ساٹھ ہزار مسلم ووٹر ہیں۔ تنویر حسن 2014 میں بی جے پی اُمیدوار سےساٹھ ہزار ووٹوں کے فرق سے ہارے تھے۔ کنہیا کمار پر بھی سوال اٹھایا گیا کہ وہ مسلم اُمیدوار کا حق کیوں مار رہے ہیں۔اب یہ مسلمانوں کے فہم و فراست پر منحصر ہےکہ آیاوہ ایک ایسے قابل اور باصلاحیت قیادت کو موقع دیتے ہیں یا مذہب کے نام پر ووٹوں سے سیکولرازم کے علمبردار کو حاشیے پر ڈالتےہیں ۔ بہر صورت سب کی نظریں اس سیٹ پر مرکوز ہیں۔ 
فون نمبر9595024421
 

تازہ ترین