مودی نے ماضی میں خود کیا کیا؟: عمر

پی ڈی پی بھاجپا اتحاد نے ریاست کو برباد کردیا

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عارف بلوچ
 
اننت ناگ//نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مودی نے ماضی میں بھی مفتی اور شیخ خاندانوں کو ریاست سے باہرکرنے کے لئے ووٹ مانگا تھا لیکن پھر اسی مودی نے مفتی سعید اور محبوبہ مفتی کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا لہٰذا مودی کے کہنے اور کرنے میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔گڈول کوکرناگ میں انتخابی جلسے کے حاشیئے پر عمر نے کہا کہ مودی نے سال2014میں بھی ریاست کے دو خاندانوںکو کشمیر سے الگ کرنے کے نام پر ووٹ مانگا  تھا، بعد میں اسی شخص نے مفتی خاندان کے رہنمائوں کو ریاست کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے لئے راہ ہموار کی۔عمر نے سیاسی و مذہبی نظربندوں کو ریاست سے باہر لے جانے پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ہماری حکومت ہوگی تو وہ ایسے فیصلوں کی اجازت نہیں دے گی ۔ عمر نے کہا کہ وہ 53 کی پوزیشین کو بحال کرنے کے لئے پُر عزم ہے ۔عمر نے جسلے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی انتخابات کے 5سال گزرنے کے بعدپی ڈی پی سے رپورٹ کارڈ طلب کرنے کا وقت آگیا ہے۔پی ڈی پی وعدوں میں شامل  امن اور مفاہمت کہیں نہیں، روزگار کہیں نہیں، حریت سے بات چیت کہیں نہیں، ہند و پاک دوستی کہیں نہیں، بجلی پروجیکٹ کہیں نہیں، افسپا کی منسوخی کہیں نہیں۔عمر نے کہا کہ اپنے وعدوں کے عین برعکس پی ڈی پی نے بھاجپا کیساتھ مل کر ریاست کو تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یہ اتحاد تعمیر و ترقی کے لحاظ سے اوندھے منہ گر گیا، امن اور مفاہمت کی باتیں کرنے والوں نے یہاں کے لوگوں کو بے چینی اور غیر یقینیت کے بھنور میں دھکیل دیا۔ اُمیدواروں کیلئے SRO-202نافذ کیا گیا، حریت سے بات چیت کے بجائے مختلف کیسوں اور معاملوں میں پھنسایا گیا، پاکستان کیساتھ بات چیت تو دور کی بات، جنگ کے بادل بھی چھانے لگے ، بجلی پروجیکٹوں کی واپسی کے بجائے اپنے بجلی سیکٹر کو مزید پیچھے دھکیلا گیا، افسپا کی منسوخی اور فوجی انخلاء کے بجائے پوری وادی کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ۔عمر نے کہا کہ ’’پی ڈی پی بھاجپا کی عوام کش پالیسیوں کی بدولت ملی ٹنسی کی نئی شروعات ہوئی، ہمارے پڑھے لکھے نوجوان، جو بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پی ایچ ڈی اور دیگر ڈگریاں حاصل کررہے تھے، پچھلے 5سال میں اتنے پریشان اور ناراض ہوئے کہ انہوں نے بندوق کا راستہ اختیار کیا۔ ہمیں ریاست کو ان حالات سے نکالنا ہے، ہمیں نوجوانوں کی ناراضگی دور کرنی ہے۔محبوبہ مفتی نے خود تسلیم کیا کہ انہوں نے اپنی جماعت کو بچانے کیلئے بھاجپا کیساتھ اتحاد کیا۔ اس مطلب یہ ہے کہ موصوفہ نے دفعہ370کیلئے نہیں، دفعہ35اے کیلئے نہیں، ریاست کی خصوصی پوزیشن کے بچائو کیلئے نہیں، افسپا کی منسوخی کیلئے نہیں بلکہ اپنی جماعت کو بچانے کیلئے ریاست کا سودا کردیا۔عمر نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہمارے تشخص پر ہے ۔دفعہ370اور35اے صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، زبانی جمع خرچ نہیں ان دفعات کیساتھ ہمارا مستقبل اور ہماری پہنچان جڑی ہوئی ہے۔ 
 

تازہ ترین