بیساکھی کے موقع پر مغل باغات میں سیاحوں کا رش

نشاط ،شالیمار، باغ گل لالہ اور دیگر باغات میں گہما گہمی

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نمائندہ عظمیٰ
 سرینگر // اتوار کو شہر کے معروف مغل باغات کو روایتی طور پر سیاحوں کیلئے کھول دیا گیا جس کے دوران ہزاروں میں مقامی وغیر مقامی سیاحوں نے اتوار کی چھٹی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے باغات کی سیر کی ۔علیٰ الصبح سے ہی مختلف علاقوں کے نوجوان ، طلاب چھوٹی بڑی گاڑیوں میں الگ الگ مغل باغات کی طرف جاتے ہوئے نظر آئے۔ ڈل جھیل کے کنارے واقع مشہور و تاریخی مغل باغات میں بھی سینکڑوں لوگ نظر آئے جبکہ اس حوالے سے ان باغات میں غیر معمولی بھیڑ نظر آئی۔سیاحوں کا کہنا ہے کہ اتوار کی چھٹی کو سیاحتی مراکز کی سیر و تفریح کا من بنا کر ان صحت افزا مقامات کی سیر کی۔ مغل باغات جن میں نشاط ، شالیمار ، چشمہ شاہی ، پری محل ، ہارون میں بھی سیاحوں کا ہجوم تھا جبکہ بادم واری کے علاوہ باغ گلہ لالہ اور باٹنیکل گارڈن میں بھی مقامی وغیر مقامی سیاحوں کا بھاری رش دیکھا گیا ۔بلیوارڈ روڑ پر ساحوں کا رش اور ٹریفک کی وجہ سے جام لگ گیا۔ حکام نے اس دوران اس سڑک پر جگہ جگہ ٹریفک اہلکاروں کی نفری کو تعینات کیا تاکہ مغل باغات کی سیر کوجانے والے سیاحوں کو آمد ورفت کے دوران مشکلات پیش نہ آئے ۔ محکمہ باغبانی کا کہنا ہے کہ موسم میں بہتری آنے کے ساتھ ہی مقامی وغیر مقامی سیلانی باغات میں پہنچ رہے ہیں ۔اس دوران بتایا جارہا ہے کہ کئی ایک باغات میں سیاحوں کیلئے روایتی طور پر بیساکھی کے دن میوزک کا پروگرام بھی رکھا گیا تھا جہاں پر فنکاروں نے نہ صرف کشمیر ی بلکہ پنجابی اور اُردو گیت گائے جنہیں سیاحوں نے خوب سراہا ۔معلوم رہے کہ محکمہ باغبانی نے ان باغات میں مختلف اقسام کے ہزاروں پودے لگائے ہیں جن پر رنگ برنگے پھول دیکھے جاسکتے ہیںجبکہ زبرون پہاڑوں کے دامن میں واقعہ باغ گلہ لالہ میں امسال نہ صرف سٹریٹ لائٹ لگائی گئی ہیں بلکہ باغ میں 12لاکھ کے قریب ٹولپ لگائے گئے ہیں جن پر مختلف اقسام کے 55پھول شامل ہیں ۔ پھولوں سے بھرے باغ گلہ لالہ کی سیر کو آنے والے یہاں سے نکلنے کا نام نہیں لیتے ہیں کیونکہ باغ ہر گزرتے دن کے ساتھ پھولوں سے مزید خوبصورت ہو رہا ہے ۔

تازہ ترین