کپوارہ کے شفا خانوں میں طبی سہولیات کا فقدان

۔ 3مہینو ں میں 4حاملہ خواتین نے سر راہ بچوں کو جنم دیا

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشرف چراغ
 کپوارہ//کپوارہ میں طبی سہولیات کا فقدان ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔مختلف نوعیت کے امراض میں مبتلا ء مریضوں کو علاج و معالجہ کے لئے سرینگر کے بڑے اسپتالو ں کو منتقل کرنا پڑتا ہے ۔اس دوران ضلع میں زچگی کا کوئی بھی اسپتال قائم نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں اکثر و بیشتر درد ذہ میں مبتلا خواتین کو لل دید اسپتال منتقل کیا جاتا ہے اور اس دوران دور دراز علاقوں میں گزشتہ3مہینو ں میں 4خواتین نے بچے کو سر راہ جنم دیا جن میں بروقت علاج و معالجہ نہ ملنے کی وجہ سے 2کی گو د اجڑ گئی ۔سرحدی ضلع کپوارہ کا شمار ان اضلاع میں کیا جاتا ہے جہا ں صحت کا شعبہ انتہائی بد ترین حالت میں پایا جاتا ہے اور اسی وجہ سے اس ضلع کی 60فی صدلوگ علاج و معالجہ کے لئے نجی اسپتالو ں کارخ کرتے ہیں ۔کپوارہ میں اس وقت ایک ضلع ،7سب ضلع اسپتالوں کے ساتھ ساتھ ایک درجن پرائمری اسپتال اور سینکڑوں سب سنٹر قائم کئے گئے ہیں تاکہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائے گی لیکن ایک سروے کے مطابق کپوارہ کا کوئی بھی اسپتال بہترین اسپتالو ں میں شامل نہیں ہے جہا ں مریضوں کو ہر قسم کی طبی سہولیات مسیر ہوتی اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کپوارہ ضلع میں صحت کے انفراسٹرکچر کی مایوس کن صورتحال کی بہت سی وجوہات ہیں ۔
ضلع میں ماہر ڈاکٹرو ں کی سخت کمی ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ یہا ں کے بڑے اسپتال سیاست کے شکار ہوئے ہیں اور یہی وجہ سے کی ان اسپتالو ں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔سب ضلع اسپتال کپوارہ آج تک بھی کوئی بڑا اسپتال نہ بن سکا ۔مذکورہ اسپتال میں ہر روز مریضوں کا رش حد سے تجاوز کر جاتا ہے اور لوگ دور دراز علاقوں سے امید لئے اسپتال میں اپنا علاج و معالجہ کے لئے آتے ہیں لیکن اسپتال میں بہتر طبی سہولیات بہم نہ ہونے کی وجہ سے مایوس ہوکر چلے جاتے ہیں ۔مذکورہ اسپتال میں ماہر امراض ڈاکٹر صرف ایک ہے لیکن یہا ں صرف نا رمل ڈیلوری ہوتی ہے اور اکثر و بیشتر درد ذہ میں مبتلا خواتین کو سرینگر منتقل کیا جاتا ہے ۔ضلع میں ایک درجن سے زائد پرائمری ہلتھ سنٹر قائم ہیں جن میں ترہگام ،ویلگام ،تارت پورہ ،چوگل ،لال پورہ ،کلاروس ،پنزگام ،کیرن ،ہرے ،نگری ملہ پورہ ،ماگام اور دیگر اسپتال شامل ہیں لیکن ہر اسپتال میں طبی سہولیات کا فقدان ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرو ں کی کمی ہے لیکن آج تک عوام کی جانب سے چنے گئے نمائندوں نے بھی یہا ں کے اسپتالو ں کی حالت زار کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اورکپوارہ کو ضلع درجہ دینے کے بعد اب تک صحت کی سرکار ی سطح پر سہولیات کے لئے نہ کوئی فارمولے پر عمل کیا گیا اور نہ ہی کوئی نیا فارمولہ سامنے لایا گیا جس سے یہا ں کا طبی شعبہ بہتر ہوسکے ۔
صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ3مہینو ں میں کپوارہ ضلع کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی حاملہ خواتین نے درد ذہ کی حالت میں بروقت طبی سہولیات نہ پہنچنے کی وجہ سے سر راہ بچو ں کو جنم دیا جن میں دو خواتین کی گود اجڑ گئی ۔رواں سال کے ماہ جنوری میں بھاری برف باری کے دوران کلاروس کے ایک دور دراز علاقہ سے تعلق رکھنے والی درد ذہ میں مبتلا خاتون ثریا کو جب چار پائی پر کلاروس پرائمری ہلتھ سنٹر لایا گیا تو ڈاکٹرو ں نے ابتدائی جانچ کر کے انہیں سب ضلع کپوارہ منتقل کیا لیکن وہا ں طبی سہولیات کا فقدان کے باعث  انہیں لل دی اسپتال منتقل کیا گیالیکن وہا ں پر بھی ڈاکٹرو ں نے یہ کہہ کر علاج کرنے سے انکار کیا کہ ابھی اس کو زچگی کا وقت نہیں ہے لیکن بعد میں اس خاتون نے بمنہ کے نزدیک سر راہ ایک بچے کو جنم دیا جو بعد میں بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے چل بسا ۔حد متارکہ پر واقع کیرن سے تعلق رکھنے والی درد ذہ میں مبتلا ایک خاتون کو اس لئے کپوارہ لے جانے کی صلاح دی گئی کیونکہ کیرن کے پرائمری ہلتھ سنٹر میں حاملہ خواتین کے لئے کوئی بھی سہولیات مسیر نہیں ہیں ۔لواحقین مذکورہ خاتون کو بھاری برف باری اور سڑک بند ہونے کی وجہ سے چار پائی پر لاد کر کپوارہ کی طرف چل پڑتے ہیں لیکن رات کی11بجے وہ فرکن پہنچ جاتے ہیں اور وہا ں پر ہی چلہ کلان کی یخ بستہ ہوائو ں میں بچے کو جنم دیتی اور بعد میں سب ضلع اسپتال کرالہ پورہ کی ٹیم وہا ں پہنچ جاتی اور بچہ اور زچہ کو بچالیا ۔کیر ن سے ایک اور درد ذہ میں مبتلا خاتون پروینہ زوجہ محمد اخلاص کو بھی بھاری برف باری کے دوران کرالہ پورہ منتقل کیا لیکن کرالہ پورہ پہنچنے سے قبل ہی مذکورہ خاتون نے بھاری برف میں بچے کو جنم دیا ۔دوروز قبل موری کلاروس سے تعلق رکھنے والی درد ذہ میں مبتلا خاتون فاطمہ کو جب پرائمری ہلتھ سٹر کلاروس پہنچایا تو وہا ں ڈاکٹرو ں نے جانچ کر کے مریضہ کو کپوارہ منتقل کیا لیکن ایمبولنس کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضہ کو سومو میں کپوارہ پہنچنے میں وقت لگا اور اس نے بچے کو راستہ میں ہی جنم دیا اور بچہ کو علاج کی سخت ضرورت تھی اور لواحقین نے انہیں دوبارہ کلاروس اسپتال پہنچایا لیکن ڈاکٹرو ں نے انہیں دوبارہ کپوارہ روانہ کیا لیکن کپوارہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی نو ازئد بچے نے دم تو ڑ دیا اور اس طرح اس خاتون کی گود بھی اجڑ گئی ۔کپوارہ کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ کپوارہ میں درد ذہ میں مبتلا خواتین کو سرینگر کے لل دید اسپتال منتقل کیا جاتا ہے اور آج تک درجنو ں خواتین راستے میں اپنی زندگی کی جنگ ہار گئی اور اگر ضلع میں ایک زنانہ اسپتال قائم ہو تا تو یہا ں تک نو بت نہیں پہنچ جاتی ہے ۔لوگو ں کا مزید کہنا ہے کہ ضلع کے اسپتالو ں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کپوارہ ضلع میں صحت کا شعبہ روبہ زوال ہونے سے بچ جائے گا ۔
 

تازہ ترین