این سی کی کرتوتوں کا وائٹ پیپر جاری ہوگا

فاروق عبداللہ نے چوری کے نئے پیمانے مقرر کئے :سجاد لون

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 سرینگر// پیپلز کانفرنس چیئرمین سجاد غنی لون نے ایک بار پھر عمر عبداللہ سے اس بات کی وضاحت کرنے کو کہا ہے کہ کیا وہ 2014اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت سازی پر تبادلہ خیال کیلئے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت سے نہیں ملے۔سجاد غنی لون نے کہا’’وقت آچکا ہے کہ آپ صاف صاف جواب دیں۔آپ نے کشمیری عوام کو بی جے پی سے بچانے کیلئے اپنے آپ کو واحد سپاہی کے طور پیش کیا ہے لیکن اگر آپ نے حکومت سازی کیلئے ان سے مذاکرات کئے تو آپ کو باہر آکر قوم کو بتانا پڑے گا کہ آ پ اب تک صرف جھوٹ بول رہے تھے اور آپ بی جے پی کے پروردہ آدمی ہیں،ماضی میں بھی ان سے اتحاد کیا ہے اور مستقبل میں بھی ان سے اتحادکرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیںکرینگے‘‘۔انہوںنے کہا کہ عمر عبداللہ کی جانب سے رچایا جارہا یہ ڈرامہ ختم ہونا چاہئے۔سجاد نے کہا’’آپ اپنے آپ کو ایک نئے نظریاتی محافظ کے طور پروجیکٹ کرنا چاہتے ہیں۔آپ وہ رول نہیں نبھا سکتے کیونکہ آپ کے پاس کوئی نظریہ ہیں اور آپ نظریاتی طور بانجھ پن کا شکار ہیں کیونکہ اقتدار کی ہوس کسی نظریہ میں سمو نہیں پاتی ہے۔ہم آپ کو بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کے معاملہ پر کرنے والی خفیہ مذاکرات کی یاد دلاتے رہیں گے۔ہم نے آپ کوپہلے بھی یاد دلایا اورہم آپ کو دوبارہ بھی یاد دلاتے رہیں گے‘‘۔سجاد لون نے کہاکہ فاروق عبداللہ نے بارہا بی جے پی۔آر ایس ایس سے رشتے استوار کرنے کیلئے تمام حدیں پار کردی ہیں۔اْن کا کہناتھا’’آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب پر ’بھارت ماتا کی جئے ‘کا نعرہ لگانے کا واحد مقصد آر ایس ایس کو خوش رکھنا تھا۔رام مندر کی تعمیر شروع کرنے کی خواہش ظاہر کرنے کا فاروق عبداللہ کا واحد مقصد انہیں خوش رکھنا تھا‘‘۔فاروق عبداللہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے ردعمل میں سجاد نے کہا کہ روئے زمین پر اخلاقیات کی درس دینے والاآخری آدمی ڈاکٹر فاروق عبداللہ ہی ہوسکتے ہیں اور انہیں اخلاقیات کا درس دینے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا ہے۔پی سی چیئرمین نے کہا’’جموں کشمیر کرکٹ ایسو سی ایشن میں120کروڑ روپے کا گھوٹالہ کرنے کی پاداش میں سی بی آئی کی جانب سے چارج شیٹ ہونے کے بعد ضمانت پررہائی حاصل کرنے والااب شہر میں مالی اخلاقیات کانیا درس دینے والا پیدا ہواہے۔اگر فاروق صاحب کو کسی چیزکا کریڈٹ جاتا ہے،تو وہ چوری اور سرقت میں نئے پیمانے مقرر کرنا ہے ۔ڈاکٹر فاروق صاحب ہزاروں کروڑ روپے کے مالک ہیں اور ان کے آمدن کے معلوم ذرائع اور جمع پونجی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔میں یقین دلاتا ہوں کہ عوامی عدالت میں کھلے عام معافی مانگوں گا اگر آپ جمع شدہ دولت اور آمدنی کے درمیان کوئی مطابقت پیداکرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔آپ کے لوٹ کھسوٹ کو ضبط تحریر میں لانے کیلئے ایک مکمل کتاب کی ضرورت ہے۔عمر عبداللہ کے دور حکومت میں ایک غیر ریاستی دوست کو جموں وکشمیر بنک میں ڈائریکٹر بنایا گیاجنہوں نے بعد میں کارپوریٹ دلال کی ڈگری حاصل کی۔بلیک لسٹ کی جاچکی یا جو دیوالیہ ہونے کی کگار پر غیر ریاستی کمپنیاں تھیں ،انہیں سینکڑوں کروڑ روپے کے قرضوں سے نوازا گیا اور اس ضمن میں بہت جلد ساری تصاصیل ایک وائٹ پیپر کی صورت میں عوام کے سامنے رکھیں گے‘‘۔
 

تازہ ترین