’’بلاغتِ قرآنِ کریم‘‘

ڈاکٹر شمس کمال کا علمی تحفہ

19 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ہلال احمد سلفی ممبئی
قرآن کریم اللہ کے آخری نبی ورسول محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ آخری کتاب ہے۔ اللہ کایہ دستوررہا ہے کہ جس زمانہ میں کسی نبی یارسول کو مبعوث فرمایااور اس زمانے میں جو چیزیں رائج اولوقت اور زبان زدعام تھیں، بطور تحدی ومعجزہ انہی چیز وںکو اللہ کے فرستادوں دیا گیا،جیسے موسی علیہ السلام کے زمانے میں سحراور جادوگری عام تھی تو اس کو چیلنج کرنے کے لیے عصائے طوری عطا کی گئی حالانکہ یہ جادونہیں بلکہ معجزہ ربانیہ تھا ،عیسیٰ علیہ السلام کو شفائی کیمیاء عطا کیاگیاعلاوہ ازیں مختلف انبیاء ورسل ؑ کو علاقائی اعتبارات کا خیال کرتے ہوئے قوم کو حق قبولنے کے لیے معجزے عطا کیے گئے ، کچھ امتوں کے مطالبات پر بھی اس دور کے انبیائے کرام ؑ کو خدائی معجزہ عطا کیاگیا لیکن اس پر عدم تشکر کی پاداش میں انہیں ملیامیٹ کردیاگیا۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شعروشاعری اور عربی ادب پر خوب چرچے تھے، معلقات سبعہ اور مشہور شعراء کی عرب میں دھوم تھی، ایک دوسرے کو مسبوق دکھانے میں مقابلہ آرائی ہوتی رہتی تھی ،یہاں تک کہ پورا عرب معاشرہ ذاتی اور شخصیاتی گرفت میں جکڑ چکاتھا، لات ومنات کی پرستش اورمعبود حقیقی کے ساتھ شرک عام ہوچکاتھا غرض کہ پوری قوم جاہلیت کی پروردہ تھی، زمین خداکی پرستش سے خالی ہوچکی تھی۔ ایسے معاشرے میں اسی ضال و مضل قوم میں آخری رسولؐ بھیجا گیاجو عربی زبان میں قرآن کی آیتیں انہیں سناتا تاکہ شعروشاعری سے شغف رکھنے والی یہ قوم جلد خدائی پیغام کو قبول کرلے ،اورایسا ہی ہوا۔محض ۲۳؍برسوںمیں پوری عرب دنیامیں اسلام اور قرآن کادستور نافذالعمل ہوگیا اور اس کی تاثیر کا یہ عالم تھا کہ سخت دل انسان بھی موم ہوجاتاتھا۔ تاہم کچھ خودساختہ شعراء اورادباء نے جہلاء بن کر قرآن کی آیتوں کو شاعری کہا،کسی نے جادوگری سے تعبیرکیا،کسی نے پرانے قصے کہانیاں کہہ کر اس کی اہمیت گھٹانے کی ناکام کوشش کی ، لیکن جب قرآن نے انہیں ان کی ذہانت وفطانت کو چیلنچ اور کہاکہ قرآن کی آیتوں جیسی ایک چھوٹی سی مجمع الادب والبلاغۃ اور واحد مؤثر آیت ہی پیش کردو توپوری برادری مبہوت ہو کر رہ گئی اور بالآخر انہیں مانناپڑا کہ یہ انسانی کلام نہیں ہوسکتاہے۔
قرآن کریم ہدایت اور پیشوا،معجزہ اور تحدی رہتی دنیاتک ہے۔ قرآن کی زبان ہرزمان ومکان کے لیے آسان اور عام فہم ہے،ہرلفظ کو اس کے مناسب مقام پر اور ہرمناسب اسلوب کے ساتھ مناسب الفاظ کا استعمال کیاگیاہے،صاحب بصیرت وبصارت کے لیے روشن دلیل ہے ،نیز کفار ومشرکین کے لیے دھمکی اور وعید ہے۔قرآن کریم میں سماج ومعاشرہ کی فلاح وبہود کے لیے اورسیاسی وسماجی ، اصلاحی ومعاشرتی تمام پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے،اس کالفظ لفظ موتی جیسے معانی اور آیت آیت سونے اور ہیرے جیسے مفہوموں میں پروئی ہوئی ہے۔آپ غورکریں کہ جب قرآن کریم اہل مکہ سے خطاب کرتاہے توکس طرح کے الفاظ استعمال کرتالیکن جب اہل مدینہ اور نخلستانیوں سے خطاب کرتاہے تو کس طرح کالطیف اسلوب استعمال کرتاہے۔ بلاغت اور فصاحت اسی میں ہے کہ زمان و مکان کے اعتبار کاخیال کرتے ہوئے گفتگو کی جائے۔
 قرآن کریم کے انہی پہلوؤں کو اُجاگرکر نے والی کتاب’’ بلاغتِ قرآنِ کریم‘‘کا اردوترجمہڈاکٹرشمس کمال انجم صاحب نے کیا ہے ۔یہ اصلاً عربی زبان میں لکھی گئی ہے جس کا اُردو ترجمہ کر کے فاضل مترجم نے ایک بڑی ضرورت پوری کردی ہے ۔ عربی مین اس کتاب کا اصل نام ’’اسئلۃ بیانیہ فی القرآن الکریم ‘‘ہے، کتاب کے مؤلف ڈاکٹر فاضل صالح سامرائی ہیں،جوشارجہ میںان کے قیام کے دوران شارجہ ٹی وی شو پر کیے گئے سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب کی ترجمہ شدہ کتاب’’بلاغتِ قرآنِ کریم‘‘339 ؍صفحات پر محتوی ہے۔ کتاب کاسرورق جاذب نظر اور نہایت عمدہ ہے اور اندرونی صفحات میں نفیس کاغذات کا استعمال کیاگیا ہے جس کی مارکیٹ قیمت350؍روپے رکھی گئی ہے۔کتاب روشان پرنٹرس ،دہلی 6کی جانب سے فروری 2018؁ء میں طبع ہوئی ہے ۔اس علمی شاہ کار کوایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی6-نے شائع کیا ہے۔
یہ کتاب چھوٹے بڑے ۱۰۰؍نکات پر مشتمل تفسیراور ادب وبلاغت سے تعلق رکھنے والے معلمین اور متعلمین کے لیے بے حدمفیدہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر ابراراحمداجراوی صاحب نے لکھاہے جس سے کتاب کی ندرت میںچارچاند لگ گئے ہیں، انہوں نے بہترین انداز میں قرآن کریم کے فصیح وبلیغ ہونے کی بات کہی ہے اجراوی صاحب نے لکھاہے’’قرآن کریم عربی زبان کے چند پرشکوہ الفاظ کا نام نہیں ،وہ معانی ومطالب کاگنجینہ بھی ہے، سارے علوم و فنون کے سوتے یہیں سے پھوٹے ہیں،قرآن کریم کااسلوب و انداز بھی نرالہ ہے اور اس کے الفاظ و حروف بھی منفرد ہیں، حراسے جونسخہ ٔ کیمیا نبی کریم ﷺ لے کر امت محمدیہ کی طرف آئے اس میں عالم انسانیت کے لیے صرف رشد وہدایت کی ہی تعلیمات نہیں ،بلکہ وہ ادب وبلاغت اور زبان وبیان کابھی اعلی ترین نمونہ ہے۔فصاحت وبلاغت کا ایسا نمونہ جس کی نہ ہمسری کی جاسکتی ہے اورنہ اس کی مشابہت ومجانست کادعوی کیا جاسکتاہے‘‘۔کسی کتاب کامقدمہ اس کتاب کااصل مأخد ہوتاہے اب یہ بات مقدمہ نویس پر منحصر ہے کہ اپنے قلم سے کس چیز کی شہادت دے رہا ہے اور اپنی عرق ریزی سے کیا چیز تحریر فرمارہاہے۔اس کے بعد مترجم ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب نے ’’عرض مترجم‘‘کے حوالے سے کتاب کے ترجمہ کے اغراض و مقاصد اور اصول کونہایت عمدہ اور پُر از معلومات بنایاہے ، اور قرآنیات کے موضوع پر اس گراں قدر اضافے کو موصوف نے خون جگر سے تحریرکیا ہے۔انہوںنے ایام نزول میںقرآن کی تکذیب اور امامان عصر کوقرآن کی تحدی کاذکرکیاہے۔کذاب ومدعیان نبوت ،کفار مکہ کاقرآن کے سلسلے میں آپسی چہ مہ گوئیوں کاتذکرہ کیاہے۔ پھر قرآن کی فصاحت وبلاغت اور اعجاز کی تردیدکرنے والے معتزلیوں کی گمراہ کن عقائداور جاحظ کی نظم القرآن اور حجج النبوۃ کاذکرکرکے میزان معتدل کردیاہے۔ مترجم نے اپنی بات کو سلسلہ وار مختلف ادوار اورصدی کے اعتبار سے ذکرکرتے ہوئے چوتھی صدی میں اعجاز قرآن پر شعراء کے کلام اورپھرپانچویں،چھٹی ،ساتویں،آٹھویں ،نویں،دسویں، گیارہویں صدی ہجری کے اعتبار سے قرآن کریم کی فصاحت وبلاغت پر لکھی گئی کتابوں اورتفاسیر کا تذکرہ کیاہے۔ اس کے بعدمعاصر مفسرین ، علوم قرآن اور اعجاز قرآن پرلکھنے والوں کا تذکرہ کیاہے اوراخیر میں صاحب کتاب ڈاکٹر فاضل صالح سامرّائی پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے علمی ذوق اور ان کی مصنفات پر اجمالاًزریں تبصرہ کیا ہے ۔
واضح رہے کہ یہ کتاب متعدد سوالوں کاعربی میں جواب ہے ،جس کاترجمہ ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب مدنی؍صدرشعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں وکشمیر نے بڑی عرق ریزی سے کیاہے۔ موصوف نے جس سلاست، لطافت اور روانی سے ترجمہ کیا ہے ،اس بات کا احساس کتاب کے اندر کہیں بھی نہیں ہوتاکہ آیا یہ اصل کتاب ہے یا ترجمہ شدہ تخلیق ۔اگرٹائٹل کور پر مترجم نہ لکھاگیا ہوتا تواس بات کاقوی امکان ہے کہ لوگ اسے مترجم کی خودنوشتہ کتاب ہی شمار کرتے۔ ترجمہ نگاری کا یہ اسلوب اور نادر انداز خدائی تحفہ ہے جو ڈاکٹر شمس صاحب میں ودیعت ہے،وہ شمس ہیں اور چہاردانگ عالم میں اپنی روشنی پیر پنچال کے کوہساروں سے بکھیر رہے ہیں،آپ اردوعربی کے صاحب طرز ادیب اور بلا کے شاعر ہیں،شاعری میں بھی آپ بحیثیت استاد پہچانے جانے لگے ہیں۔ کتاب کا اردو ترجمہ ان کی محنت اور عربی اردو دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انہوںنے کس جانفشانی سے کام کیا ہے،پوری کتاب الف سے یاء تک پڑھ ڈالئے کہیں بھی خشک عبارت آرائی کا احساس نہیں ہوگا۔اللہ کرے زور قلم اورزیادہ۔ ڈاکٹر شمس کمال انجم ؔصاحب کی متعدد ترجمہ شدہ کتابیں اس سے پہلے قبولیت عام حاصل کرچکی ہیں، انہوں نے ترجمہ کے میدان میں کافی عمدہ کام کیا ہے اور عرب دنیامیں موجود نادر ونایاب کتابوں سے اردو داں طبقہ کو متعارف کرایا ہے ۔ ویسے اردو پڑھنے والے اس کے ہمیشہ محتاج رہے ہیں کہ انہیں عربی اور انگلش کی ترجمہ شدہ کتابیں میسر ہوں۔ ایک مشہور قول ہے کہ ’’انگریزی کی سوسال قدیم اور عربی کی پچاس سال قدیم کتابیں اردوداں طبقہ کو ملتی ہیں‘‘ یعنی ہم بہت پیچھے ہیں۔ اللہ کا فضل ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے قرآن کریم سے متعلق اس نادر کتاب کا ترجمہ کرکے اردووالوں کو ایک روشنی دکھائی ہے۔
بلاغتِ قرآنِ کریم سے تفسیر پڑھانے والے اساتذہ اور پڑھنے والے طلباء کو ان شاء اللہ کافی رہنمائی ملے گی کیونکہ سورتوں کی ترتیب کے اعتبار سے صاحب کتاب نے بحث کو تیار کیا ہے اورایسی نادر باتیں ان بحثوں میں آگئی ہیں کہ مطالعہ کے بعد ہی اس کاکشف ممکن ہے۔قرآن کے ادبی اسرار ورموز  پریہ کتاب ان شاء اللہ کافی عمدہ ثابت ہوگی ۔ مترجم نے اپنے ترجمہ میںمعتدل،عام فہم اور سہل زبان کااستعمال کیا ہے جس سے اس کتاب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔اس کتاب کی سب سے اہم اور بڑی خصوصیت یہ ہے کہ نحوی وصرفی قواعد واصول، الفاظ کالغوی و محاورتی معنی،کسی آیت یالفظ پربحث کے دوران مختلف آیتوں الفاظ اور لغوی بحوث سے استدلال،مفسرین کے اقوال اور برمحل حوالہ جات سے مزین ہے۔کسی لفظ کو قرآن کریم میںالگ الگ یا ملا کر لکھنے کی وجہ اور اس پر دوسری آیتوں سے بحث مثلاًلکی لا اور لکیلا،الأیداور بأیید۔(ملاحظہ ہو صفحہ نمبر195اور268)اسی طرح لفظ ملائکۃ کو قرآن کریم میں کبھی تذکیر اورکبھی تانیث استعمال کرنے کی حکمت وبلاغت کیا ہے۔ساتھ ہی مؤلف نے کتاب میں ایک بہت لطیف نکتہ یہ بیا ن کیاہے کہ بحث کے دوران آیا ہوا لفظ کس صورت میں کتنی بار استعمال ہوا ہے مثلاً لفظ عقاب کہاں کہاں اور کتنی بار استعمال ہوا۔ درمیان میںمذکورآیتوںکا ڈاکٹر شمس صاحب نے عمدہ اور سلیس ترجمہ کیاہے۔قارئین کتاب کی 75؍ویں بحث ضرور پڑھیں اور بار بار پڑھیں کہ یہ کافی دلچسپ ہے۔اسی طرح نوراور ضیاء میں فرق ،اس کو مختلف آیتوں ،ماہرین لغت کے اقوال سے واضح کیا ہے ،یہ بحث بھی تمام بحثوں کی طرح کافی دلچسپ اور معلومات افزاء ہے۔انبیائے کرام ؑ کے ناموں میں ترتیب کی کیا حکمت وبلاغت ہے اور مختلف انبیاء کے درمیان رشتہ ،تعلقات اور مماثلت کو بہترین پیرائے میں بیان کیاہے ۔طلاق اوروفات کے درمیان نمازوں کی حفاظت والی آیتوں کے ذکر میں کیا حکمت اور راز پوشیدہ ہے اس کو بہت بلیغ اور لطیف انداز میں مؤلف نے بیان کیا ہے۔ کتاب میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کون سالفظ قرآن میں کہاں کیسے لکھاگیا ہے،لفظ کو گھٹا بڑھاکرکیوں پیش کیاگیاہے۔ ان تمام چیزوںکاذکر خوبصورت اورلطیف اندازمیں کیا گیاہے۔الفاظ کی تکرار سے اجتناب کرتے ہوئے پوائنٹ ٹو پوائنٹ نکات بیان کیے گئے ہیں ، کسی بحث کو مزید پختہ بنانے کے لیے اس کو کئی اہم نکات میں تقسیم کرکے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ بہت ساری خوبیاں ہیں اس کتاب میں جو قرآن کی اعجاز،ایجاز اورتفصیل پر گفتگو کرتی ہے۔مؤلف نے بہت ہی عمدہ پیرائے میں ساری باتوں کو قلمبند کیا ہے جوکہ تفسیرکے قاری کے لیے نہایت مفید اور کارگر ثابت ہوں گی ۔ جوشخص قرآن کی فصاحت وبلاغت ،اعجاز اورایجاز،اسرارورموزسے واقف ہونا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرے ۔ کتاب کے اخیر میں ۱۷؍صفحات پر مشتمل ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب کی مختلف کتابوں پر مشاہیر کی وقیع اورقیمتی آراء و تاثرات کوپیش کیاگیا ہے۔ 
ہمارے سامنے جو کتاب ’’بلاغتِ قرآنِ کریم ‘‘کے نام سے علمی کارنامہ موجود ہے، وہ بہت ساری خوبیوں کا  خزانہ ہونے کے ساتھ ساتھ بشری تقاضوں کے تحت کچھ لفظی یا املائی خامیوں کی نشاندہی کر تی ہے ۔ انسان ہونے کے ناطے جانے انجانے غلطیوں کے صدورکاامکان بہرحال  رہتاہے۔ محبت و اخوت کاتقاضہ یہ ہے کہ ہم براہ راست ان تسامحات کی نشاندہی کریں تا کہ ان شاء اللہ آئندہ ایڈیشن میں ان کی تصحیح کردی جائے۔ ایک بات جو مجھے کھٹکتی ہے وہ یہ ہے کہ فاضل مؤلف نے بحث نمبر93؍کے بعد سورتوںکی ترتیب کا خیال نہیں رکھا ہے ۔ سردست یہ کتاب اپنی تمام مشمولات کے ساتھ کافی دلچسپ ،معلومات افزاء اور قابل مطالعہ ہے اور اس کی بھر پور قدردانی اور پذیرائی کرنا علمی ذوق رکھنے والوں پرو اجب ہے ۔ڈاکٹر شمس کمال انجمؔ صاحب نے اپنی ضیاء بار قلم سے اس علمی اثاثے میں چارچاند لگادئے ہیں۔ اردوداں طبقے خاص کر تفسیرقرآن سے شغف رکھنے والے طلباء ومحققین کے لئے یہ تصنیف کافی فائدہ بخش ہے اور واقعی یہ کتاب اردوزبان وادب اور بلاغت قرآن کے باب میں ایک گراںقدر اضافہ ہے۔امید کہ قارئین وشائقین  اس کتاب کو پسند فرمائیں گے۔  
hilalhidait@gmail.com
 

تازہ ترین