تازہ ترین

یادوں کے جھروکے سے (5)

منظر منظرنقش نظر میںدل میں چہرہ چہرہ ہے

23 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نذیر جہانگیر
سرینگر  رپورٹر۔۔زمانے کی انقلاب انگیز تبدیلیوں کے باوجود کشمیر پولیس اپنے مظلوم بھائیوں کو غیر قانونی طور پر مارنے، پیٹنے، ان پر جبروظلم کرنے اور انہیں گالیاں دینے سے ذرا بھر نہیں ہچکچاتی اور اپنی اس روایت کو بڑی پابندی سے نبھا رہی ہے جو 1947ء کے بعد کشمیریوں کی تقدیر بن گئی ہے۔ کل بھی مائسمہ چوکی کے کچھ سپاہیوں نے ایک بے گناہ شہری کو پکڑ کر بلاوجہ مارا پیٹا، اس کے کپڑے اُتارےاور اسے لہولہان کردیا۔ اسے گالیاں بھی دی گئیں۔ ایسا کسی وحشی ملک ہی  میں ہوتا ہے ورنہ ملک کے دوسرے حصوں میں اگر پولیس کسی ملزم کو بھی پکڑتی ہے تو قانونی طور پر پولیس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اسے پکڑتے ہی مارے پیٹے اور گالیاں دےاور اس دور میں کچھ زیادہ ہی ’’گٹہ کار‘‘( اندھیارہ ) ہے جس دور کی حکومت کے سربراہ کشمیریوں پر مغلوں، پٹھانوں اور سکھوں کے جبرواستبداد کی پچھلی نصف صدی سے دہائی دیتے آئے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اسی ریاست میں بانہال پار پولیس والے کا ہاتھ اپنے بھائیوں پر اس طرح نہیں اٹھتا جس طرح یہاں اٹھتا ہے ،بلکہ وہاں پولیس عوام سے ڈرتی ہے اور حکومت کے چھوٹے بڑے اہل کار وہاں کے لوگوں کے شہری حقوق کو مقدس سمجھ کر ان کی پاسداری کرتی ہے۔ شاید اس لئے کہ وہاں انسان رہتے ہیں اور یہاں صرف بھیڑ بکریاں اور مال مویشی۔‘‘
میں اس صورت حال سے بے خبر تھا۔ شام کو جب میں گھر آیا تو دیکھا میرا بھائی زخمی حالت میں بستر پر پڑا ہے اور گھر کا کوئی فرد مجھ سے بات نہیں کررہا ہے۔ پہلے مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ اس بے گناہ کو میری وجہ سے مار کھانی پڑی ہے حالانکہ میں نے کوئی بندوق نہیں اٹھائی تھی، محض اپنی کتابیں جلادی تھیں اور چوک کی اس جگہ پر جلادی تھیں جہاں کسی کی آمدورفت میں بالکل کوئی روکاوٹ نہیں پڑی تھی، اور ان دنوں پولیس چوکی اس جگہ سے محض تیس چالیس گز کے فاصلے پر تھی۔سچ پوچھئے توآج مجھے بڑا افسوس ہورہا ہے کہ میں نے ایسا قدم کیوں اٹھایا تھا۔ اچھا ہی تھا اگر یہ کشمیری ڈپارٹمنٹ اس وقت بند کیا گیا ہوتا۔ ہماری قربانیوں کا فائدہ ان لوگوں نے لیا جو اس کے اہل نہیں تھے۔ جن کے لئے قربانیاں دی گئیں وہ جب اعلیٰ عہدوں پر پہنچے تو ان لوگوں کو ہی ذلیل کرنا اپنا شیوہ بنا لیا جن کی قربانیوں کے صلے میں انہیں عہدے ملے تھے۔
 2002ء میں میری ایک کتاب "Life, Hadith And Mysticism" چھپ کر آئی۔ ایک دن میں اس کتاب کی کچھ کاپیوں کی خریداری کے لئے ریاستی اسمبلی میں اس وقت کے سیکریٹری سے ملا تاکہ اسمبلی کی لائبریری کے لئے کچھ آرڈر ملے۔ وہاں میرے ساتھ اُس کا برتاؤ نہایت ہی توہین آمیز تھا اور کشمیری اور کشمیری زبان کے حوالے سے اس نے زہریلے کلمات متعفن قے کی طرح انڈیل دئے۔ مجھے کوئی غصہ نہیںآیا بلکہ عربی کا یہ مقولہ ذہن میں آیا:۔’’یترشح من الاناء ما فیہ ‘‘یعنی برتن میں جو ہوتا ہے وہی ٹپکتا ہے۔ ایسا ہی ایک اور واقعہ مجھے یاد آرہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد میرے پیسے جو میرے محکمے کے پاس واجب الاداتھے، وہ مجھے نہیں دئے جارہے تھے (ابھی تک نہیں دئے جارہے ہیں)۔ میں اسی سلسلے میں سیکریٹریٹ گیا تھا۔ مجید عاصمی صاحب ساتھ تھے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ایک افسر سے ملے۔ وہاں کوئی اور صاحب بھی بیٹھے تھے۔ بعد میں سنا کہ وہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ نیشنل کانفرنس والوں سے بھی رشتہ داری تھی اور پی ڈی پی والوں سے بھی یارانہ گانٹھ لیا تھا۔ بہرحال عاصمی صاحب نے وزیراعلیٰ کے دفتر کے ایک افسر سے باتوں باتوں میں میرا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ رائیٹر ہیں اور اس نے اتنی کتابیں لکھی ہیں۔ یہ سننا تھا کہ وہ ایکسائز والا افسر یوں غصے میں بپھر گیا جیسے کسی نے اُسے گالی دی تھی اور رائٹروں کے حوالے سے ایسی بکواس کرنے لگا کہ میں ہی کمرے سے باہر آیا۔ میں بکواس سے بہت عاجز آجاتا ہوں۔ پھر یونیورسٹی کا کشمیری ڈپارٹمنٹ ہو یا کلچرل اکیڈمی، وہاں کا منصب زیادہ تر انہی لوگوں نے سنبھال لیا جنہوں نے زہر ہی اُگلا اور اپنی کرسیوں سے اپنے ذاتی مفادات کی پیروی اور آبیاری کی۔ 2006ء کی بات ہےمیں نے امرسنگھ کالج کی پرنسپل صاحبہ سے کچھ کشمیری کتابیں خریدنے کی درخواست کی تو وہ اس طرح چلّا اٹھی جیسے میں نے اسے کوئی غلط کلمہ کہا تھا۔ وہ تو مجھ پر یوں برس پڑی کہ اللہ کی پناہ۔ ایسا ہی برتاؤ وومنز کالج اور اسلامیہ کالج اور دیگر کالجوں کے پرنسپلوں کا تھا۔ ڈائریکٹریٹ آف سکول ایجوکیشن نے آج تک میری ایک بھی کتاب نہیں خریدی حالانکہ ان میں کئی تحقیقی نوعیت کی کتابیں شامل ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ایجوکیشن محکمہ پر عام طور جاہلوں کا احاطہ رہا ہے۔ میری کبھی یہ تمنا نہیں رہی ہے کہ یہاں کے محکموں میں جو لائبریریاں قائم ہیں، ان کے سربراہ مجھ سے میری کتابیں خریدیں، میں اس معاملے میں کبھی سنجیدہ نہیں تھا بلکہ میں ان لوگوں کا تماشا دیکھنے جاتا تھا جو جب اونچی کرسیوں پر بیٹھتے ہیں اور اپنی ہی قوم کو لتاڑتے ہیں اور ذلیل ورسواکرتے ہیں    ؎
بنا کر فقیروں  کا  ہم  بھیس  غالبؔ
تماشائے   اہل   کرم   دیکھتے   ہیں
اور یہی لوگ جب سبکدوش ہوجاتے ہیں تو کشمیریوں کے بڑے غم خوار ہونے کا تماشا کرتے ہیں اور کچھ کچھ ستم گر تو مسجدوں میں متولی بھی بن جاتے ہیں   ؎
عمر تو ساری کٹی عشق ِبتاں  میں مومنؔ 
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
 مگر بے چارے نہیں جانتے کہ جن کا دل ودماغ ’’حرام ہریسہ‘‘ سے پرورش پایا ہو، وہی اس قوم کے سانپ بچھو ہیں اور یہ ہمیشہ ہمیں ڈستے رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کشمیر کی مٹی پلید کردی ورنہ کشمیر تو وہ مٹی ہے جس نے اسے بصارت کے بجائے بصیرت سے دیکھا تو بے ساختہ کہا    ؎
جو لوگ ہیں کشمیر کے دیدار سے محروم
کیا جلوۂ فطرت کی حقیقت انہیں معلوم
جنت کا  تصور  ہے اگر حسن کی تفسیر
آئینہ فردوس بھی ہے خطہ ٔ  کشمیر
موضوع کے اعتبار سے اپنا ایک کشمیری شعر عرض کرنا چاہوں گا   ؎
یا خدا!   میزان    ڈولک     مرتبس
قلم وولک ڈورکش کس منصبس
{یعنی آج کے دور میں رتبوں کا میزان ہی بگاڑ دیا گیا ہے۔ اسے کیا کہئے گا کہ اب قلم کو 'ازار بند بندی کے منصب پر اتارا گیا ہےیعنی اسے اب ناڑا ڈالنے والے معمولی شئے کے طور استعمال کیا جاتا ہے}