تازہ ترین

محمد یاسین ملک کیساتھ اظہار یکجہتی

مزاحمتی قیادت کی آج ہڑتال کی اپیل

23 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور لبریشن فرنٹ نے آج ایک روزہ احتجاجی ہڑتال کی کال دی ہے۔بیان کے مطابق یہ ہڑتال لبریشن فرنٹ کے محبوس و علیل چیئرمین محمد یاسین ملک کے ساتھ دہلی میں این آئی اے کے غیر قانونی اور ہتک آمیز سلوک، این آئی اے اور ای ڈی کی جانب سے کشمیری قائدین ،ان کے اہل و عیال اور بچوں ،سرکردہ کشمیری تاجروں ، ٹریڈ یونین قائدین اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات سے متعلق افراد کو تنگ طلب کرنے کے خلاف کی جارہی ہے ۔  بیان کے مطابق یاسین ملک پچھلے12 روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور رام منوہر لوہیا ہسپتال میں انکی حالت لگاتار خراب ہورہی ہے۔مزاحمتی قیادت نے کہا کہ ہے کہ2017 کے اوائل سے ہی بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں سے طاقت کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار پربدلہ لینے کا سلسلہ شروع کیا اور اس کام کیلئے این آئی اے اور ای ڈی کو بطور ہتھیار استعمال میں لایاجانے لگا۔ایک بے بنیاد ، من گھڑت اور جھوٹا کیس بناکرکئی مزاحمتی قائدین، اراکین ،سرکردہ تاجروں اور صحافیوں کو جیل کے اندر ڈال دیا گیا ۔ قائد میرواعظ محمد عمر فاروق کو بار بار دہلی طلب کیا گیا جبکہ بزرگ قائد سید علی شاہ گیلانی کے دونوں بیٹوں ڈاکٹر نعیم گیلانی اور ڈاکٹر نسیم گیلانی کو بھی بار بار دہلی بلاکر تنگ طلب کرنے کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے۔اس کے علاوہ پوری قیادت بلکہ کشمیریوں کی مزاحمت کے خلاف میڈیا ٹرائل اور نفرت انگیز پروپیگنڈا مہم بھی شروع کردی گئی ہے۔ایسے ہی ذلیل اور تحقیر آمیز مظالم اور سلوک کے خلاف قائد محمد یاسین ملک نے احتجاج کیا اور دہلی میں این آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پر بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کردیا جو آج بارہویں روز بھی جاری ہے۔
 

 حکومت ہند قیدیوں کے تئیں غیر سنجیدہ:محبوبہ مفتی

اشفاق سعید
 
سرینگر// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے لبریشن فرنٹ  چیئرمین محمد یاسین ملک کی تہاڑ جیل میں علالت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند قیدیوں کی حالت زار کے تئیں غیر سنجیدہ ہے۔محبوبہ مفتی نے سماجی رابطہ گاہ پرٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’’تہاڑ جیل میں یاسین ملک کی بگڑتی صحت کے بارے میں اُن کے اہل خانہ کے تحفظات حق بجانب ہیں، حکومت ہند قیدیوں کی حالت زار کے تئیں غیر سنجیدہ ہے، وہ اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے پرگیہ سادھوی جیسے معتصب شخص کو ضمانت دے سکتے ہیں، ‘‘۔ محبوبہ مفتی نے پیر کے روز ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کو بتایا 'مجھے افسوس ہے کہ یاسین ملک کی طبیعت بہت خراب ہے۔ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو صحت کی وجوہات کی بناء پر جیل سے باہر نکالا گیا اور اس کو الیکشن میں اتارا گیا ، اب وہ پھر سے ہر جگہ زہر اگل رہی ہے، اُس کو تو آپ نے چھوڑ دیا لیکن یاسین ملک جو بہت علیل ہیں، جن کی جان کو خطرہ ہے ان کو جیل میں بند رکھا گیا ہے، میری سرکار سے اپیل ہوگی کہ ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ ان کا علاج ہو اور خدانخواستہ ان کی موت ہوگئی تو حکومت ہندوستان کو اس کا بھاری خمگیازہ بھگتنا پڑے گا'۔پی ڈی پی صدر نے یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کے بیان کہ وہ اور ان کی بچی یاسین ملک سے ملنا چاہتے ہیں، پر کہا 'ان کو ملنے دیا جانا چاہیے۔ جس وقت افضل گورو کو پھانسی دی گئی تو ان کے بیوی بچوں کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا۔ آج یاسین ملک بیمار ہیں، اس وقت حکومت ہندوستان کا انسانیت کے ناطے فرض بنتا ہے کہ اس کی بیوی اور بچوں کو ان سے ملنے دیا جائے'۔دریں اثنا محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ جنگجوئوں کے اہل خانہ کو ہراساں کرکے انہیں پشت بہ دیوار کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا 'کل یہاں واری پورہ نور آباد میں ایک واقعہ پیش آیا۔ ایک ملی ٹینٹ جو اس دنیا سے جاچکا ہے اس کے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس کے بھائیوں کو پولیس نے گرفتار کیا۔ جب یہ جیل سے باہر آئیں گے تو کیا کریں گے؟ ہم انہیں پشست بہ دیوار کررہے ہیں۔ اس قسم کی سختی اور توڑ پھوڑ سے یہاں کا جوان بددل ہوجاتا ہے اور بندوق اٹھانے پر مجبور ہوجاتا ہے'۔محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پر مشتہر ہوئی خبروں کہ 'اگر میں نے پندرہ سال قبل سیاست میں شمولیت نہ کی ہوتی تو کشمیری آج بھی بھیک مانگ رہے ہوتے' کو مسترد کیا ہے۔محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا 'وٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ایک بے بنیاد اور جعلی خبر کو شیئر کیا جارہا ہے، یہ خبر بے بنیاد ہے اور زرد صحافت کی ایک مثال ہے، لوگ مجھے ہمیشہ باجی کے نام سے پکارتے ہیں اور میں اس اعتماد پر کبھی آنچ نہیں آنے دوں گی'۔
 

قانون سب کیلئے برابر:عمرعبداللہ

ملک کومیڈیکل انسٹی چیوٹ میں داخل کیا جائے

سرینگر // نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ یاسین ملک کی حالت غیر ہونے کا معاملہ باعث تشویش ہے۔انہوں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا’ قانون سب کے برابر ہونا چاہیے،وہ بنیادی طبی سہولیت کے حقدار ہیں،جبکہ قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے‘‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کو چاہیے کہ یاسین ملک کو فوری طور پر آل انڈیا میڈیکل انسٹی چیوٹ میں داخل کرنا چاہیے تاکہ ڈاکٹر انکی صحت کر بہتر بنا سکیں۔انہوں نے کہا کہ انکا کیس بھلے ہی این آئی اے کے زیر تحقیقات ہے لیکن اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ انکے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کرنے کی اجازت نہ دی جائے، اگر دہشت گردی کے واقعہ میں ملوث پرگیہ ٹھاکر کر طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہا کر کے انکے لئے الیکشن میں حصہ لینے کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے تو یاسین ملک کو کیسے الگ طرح  سے دیکھا جاسکتاہے؟۔
 

 پاکستان کو شدید تشویش

نیوز ڈیسک
 
اسلام آباد //پاکستان نے مستقل حراست محمدیٰسین ملک کی صحت خراب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔دفتر خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ حریت رہنما کی دوران حراست صحت خراب ہونے کے باوجود ان کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جبکہ حریت رہنما کی بیماری کو ان کے اہل خانہ سے کئی روز تک چھپایا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ماضی میں بھارت کی حکومت کی جانب سے حریت رہنماؤں کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کو مد نظر رکھتے ہوئے، جن میں ان پر تشدد اور غیر قانونی گرفتاریاں بھی شامل ہیں، یٰسین ملک کے اہل خانہ کا ان کی زندگی اور صحت سے متعلق خدشات کا اظہار بلکل درست ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ حریت رہنما یٰسین ملک کی حراست خود بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے خلاف بھارتی کارروائیوں کی آئینہ دار ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے کالے قوانین، جس میں پبلک سیفٹی ایکٹ بھی شامل ہے، انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے جبکہ قابض بھارتی فورسز کی جانب سے بغیر کسی ٹرائل کے کشمیریوں کو حراست میں رکھنے پر انسانی حقوق کے ہائی کمشنر اور برطانیہ کی آل پارٹیز پارلیمنٹیری کشمیر گروپ نے تنقید کی ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ قابض بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف بے دریغ طاقت کے استعمال اور ان کے حق خود ارادیت کو دبانے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں سے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت ختم نہیں ہوسکتی بلکہ یہ صورت حال کو مزید خراب کردے گی۔جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان، بھارت کی حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ یٰسین ملک کو صحت کی تمام بہتر سہولیات فراہم کرے گی۔