تازہ ترین

لوک سبھا انتخابات

لیڈرشپ سے محروم مسلم ا قلیت!

24 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عابد انور
مسلم  قیادت پرآزادی کے بعد ہی بحث شروع ہوگئی تھی اور اس کی افادیت اور کمی پر غور و فکر شروع کردیا گیا کیوں کہ ایک بڑا طبقہ جوeliet  کہلاتا تھا خواہ علماء میں سے ہوں یا دانشور، اعلیٰ افسران، سیاست دان، دانشور ہوں یا ادیب و مفکر ہوں یا مصلح ہوں، پاکستان ہجرت کرگیا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کے ہرشعبے میں جو خلا پیدا ہوا تھا اس کی تلافی آج تک نہیں ہوسکی اور نہ ہی ہندوستانی مسلمان اس گہرے زخم سے اب تک نکل پائے ہیں اور مسلمانوں کو اس سانحہ کا حوالہ دے کر ان کے ساتھ غیر مساویانہ سلوک، نوکری و ملازمت میں تعصب اورملک کے دیگر شعبہ ہائے جات میں ان کے ساتھ امتیاز روا رکھا جاتا ہے۔ اس لئے ملک کی مسلم قیادت پر گزشتہ دو تین دہائی سے بحثیں ہوتی رہی ہیں خاص طور پر بابری مسجد کی شہادت کے بعد اس پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے اور جتنی شدت سے اس پر زور دیا گیا اسی شدت سے اس کی کمی محسوس کی گئی لیکن عملاً اس بارے میں کچھ نہیں کیا گیا اس وقت کے علماء اور سیاسی لیڈران درجنوں نوجوانوں کی تربیت کرسکتے تھے لیکن ان کی تربیت صرف اپنے جانشینوں تک رہی۔ سیدشہاب الدین،غلام محمود بنات والا، سلیمان سیٹھ اور ضیاء الدین انصاری، علماء کی صف میں مولانا سید منت اللہ رحمانی، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور مولانا سید اسعد مدنی وغیرہ اس وقت بقیدحیات تھے اور کسی نہ کسی حدت اس وقت یہ حضرات مسلمانوں کی قیادت کر رہے تھے لیکن بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلم لیڈروں کے تئیں مسلمانوں میں جو بدگمانی پیدا ہوئی اس کا ازالہ اب تک نہیں ہوسکا اور اس وقت اس میں شدت عروج پر ہے کیوں کہ اس کیلئے بہت حد تک علمائے کرام ہی ذمہ دار ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ ان کے اور ان کی تنظیم کے درمیان شفافیت کا فقدان ہے،باضابطہ حساب و کتاب کا کوئی نظام نہیں ہے اور اپنے حساب سے بیلنس شیٹ تیار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی قیادت عام طور پر سیاسی لیڈر کم علمائے کرام کے ارد گرد زیادہ رہی ہے کیوں کہ جتنا بڑا اجتماع علماء کرام کرلیتے ہیں مسلم سیاسی لیڈر نہیں کرپاتے۔اس کے علاوہ مسلمانوں کا رجحان دینی اجتماع میں زیادہ ہوتا ہے اور سیاسی اجتماع کو وہ وقت کا زیاں سمجھتے ہیں حالانکہ وہ خود اس میں ماہر ہوتے ہیں۔مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کا معاملہ بھی یہی سے شروع ہوتا ہے کیوں کہ جمہوری نظام خاص طور پر تکثیری جمہوری نظام میں سروں کی اہمیت بہت ہوتی ہے اور مسلمانوں کو جہاں سر دکھانا ہوتا ہے وہ وہاں سے غائب رہتے ہیں۔ جس طرح جمعیۃعلمائے ہنداور تبلیغی جماعت کے اجتماعات میں مسلمان فوج درفوج جمع ہوتے ہیں اگر اسی طرح اپنے سیاسی، معاشی، تعلیمی اور معاشرتی مسائل کے سلسلے میں جمع ہوجائیں تو وہ دن دور نہیں جب مسلمانوں کے مسائل حل ہوجائیں ۔ اس سے سیاسی قدر اور وزن بھی بڑھ جائے گا اور مسلم قیادت میں بڑا ویژن بھی پیدا ہوگا۔ مسلمانوں کی سیاسی حیثیت بھی بڑھ جائے گی اور وہ سیاسی بارگیننگ (سودے بازی) کی حالت میں ہوں گے۔
مسلم لیڈروں پر عام طور پر مسلمانوں کے لئے کام نہ کرنے کا الزام عائد ہوتا رہا ہے اور اس میں بہت حد تک سچائی بھی ہے لیکن یہ صرف ایک پہلو ہے سکے کا ایک رُخ ہے۔ دوسرا رُخ مسلمان بھی ہیں۔ کیا وہ اپنے لیڈروں کا اسی شدت سے ساتھ دیتے ہیں جس طرح کانشی رام اور مایاوتی کو ان کی کمیونٹی کے لوگوں نے دیا۔ اسلام میں ہے کہ دو چار لوگ کہیں نکلتے ہیں تو ان میں بھی ایک کو امیر چننے پر زور دیاگیا ہے لیکن کیا اتنی بڑی آبادی کی قیادت کے لئے کسی کو ہم نے منتخب کیا ہے؟ ہماری بدقستمی ہے کہ ہم کسی کو فلو نہیں کرتے۔ کیا مسلمانوں نے کبھی اپنے معاشرے سے کبھی کسی مسلمان کو لیڈر پیدا کیا؟ جب لیڈر پارٹی سے پیدا ہوں گے تو پارٹی کے لئے سوچیں گے، پارٹی کی رہنما ہدایات پر عمل کریں گے، پارٹی اعلیٰ کمان کی ہدایت اور اشارے پر رقص کریں گے،تو پھر وہ مسلمانوں کی قیادت کیسے کرسکتے ہیں؟ ان کو پارٹی کی ہدایت ہوتی ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کا ووٹ کیسے حاصل کرسکتا ہے، اس بارے میں سوچے۔ کانگریس پارٹی کے مسلمانوں کا حال تو سب سے زیادہ دگرگوں ہے ۔ وہاں ان کو مسلمانوں کے حق میں بولنے کا حق نہیں ہوتا ہے بلکہ بہت سے ہندو لیڈر کہتے ہیں کہ تم مسلمان کے لئے مت بولو، مسلمان کے بارے میں ہم بولیں گے۔اس لئے کہ ہندوستان کو مسلمانوں کے لئے یہاں کی سیاسی پارٹیوں اور جمہوریت کے چاروں ستونوں نے عملی طور پر بند گلی بنادیا ہے۔ اس کے پاس متبادل کا فقدان ہے۔مسلمانوں سے متعلق فلاح و بہبودکو منہ بھرائی کا نام دیا جاتا ہے اور جمہوریت کے چاروں ستون خاموش رہتے ہیں۔ ایسے میں مسلم لیڈر شپ کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے جو مسلمانوں کو ایک جھنڈے کے تلے جمع کرسکے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ممکن ہے۔ جی ہاں بالکل ممکن ہے ، مسلمان اپنے اندر سے مسلم لیڈر پیدا کرسکتے ہیں جو پارٹی کا علمبردار ہونے کے بجائے مسلمانوں کا بوجھ اٹھانے والا ہوسکتا ہے لیکن مسلمانوں کو اپنے روشوں میں تبدیلی کرنا ہوگی اور لیڈر میں فرشتہ صفت اور صحابہؓ کا لیڈر ڈھونڈنے کے بجائے خود پہلے فرشتہ صف اورصحابہؓ کے معیار کا نہیں تو کم از کم اس کے پیر کے دھول کی طرح زندگی اور معاشرہ بنانا ہوگا۔ہم اپنے اندر سے مسلم لیڈر شپ پیدا کرسکتے ہیں ، دس پندرہ برسوں میں مسلم لیڈر کی ایک کھیپ پیدا کرسکتے ہیں جو پنچایت کی سطح سے لے کر اراکین پارلیمنٹ تک بن سکتے ہیں ،بس مسلمانوں کو سیاسی سرمایہ کاری کی طرف توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔مشکل یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ شیطان صفت ہے اور ہم نکلتے ہیں لیڈورں میں صحابہ جیسیؓ صفات ڈھونڈنے۔
لوک سبھا کے موجودہ انتخابات میں مسلم لیڈر شپ کی کمی کی شدت سے احساس ہورہا ہے۔ کئی اہم پارٹیوں نے مسلم لیڈروں کے ٹکٹ کاٹ دئے۔ ذرا اس بات پر غور کیجئے کہ کیا وہ صحیح معنوں میں مسلم لیڈر تھے بھی ؟حقیقی معنوں میں دیکھاجائے تو وہ صرف پارٹی لیڈر تھے، یہ الگ بات ہے کہ وہ مذہباً مسلمان تھے۔ یہ صحیح معنوں میں وہ مسلمانوں کے لیڈر ہوتے تھے یا انہوں نے مسلمانوں کے لئے بھلائی کا کام کیا ہوتا تھا ، ان کے پیچھے مسلمانوں کی بھیڑ کھڑی ہوتی اور پارٹی کو مجبور ہوکر انہیں ٹکٹ دینا پڑتا ہے۔ کیوں کہ پارٹی کو ان لیڈروں کی اوقات معلوم ہے کہ وہ بلبلے کی مانند ابل سکتے ہیں اور جھاگ کی طرح چھا سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔ جب ان سے ان کے کام کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو پرسنل کام علاوہ اجتماعی کوئی کام نظر نہیں آتا۔ زمینی سطح پر ان کا کوئی ایسا کوئی کام نہیں ہوتا کہ مسلمان ان کے پیچھے دیوانوں کی لٹو ہوجائیں۔ یہ وقت ایسے لیڈروں کے لئے احتساب کا وقت ہے اور ان نوجوان نسل کے لئے سبق ہے جو سیاست کے میدان میں آنا چاہتے ہیں۔ سیاست میں آنا ہے اور سکہ جمانا ہے تو اپنے پیچھے پہلے ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کی بھیڑ پیدا کرنی ہوگی اور فلوورس کی بڑی جماعت تشکیل دینی ہوگی جس کی وجہ سے ان میں ویژن اور وزن پیدا ہو۔ اس وقت بہت مسلم لیڈر انتخابی میدان میں ہیں جو بہترین مقرر بھی ہیں، بہترین سوچ بھی رکھتے ہیں، جذبہ بھی ہے، کام کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں، بس انہیں آپ کی حمایت کی ضرورت ہے اور اآپ کی بے لوث حمایت سے وہ پارلیمنٹ کا منہ دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں جہاں بھی مسلم لیڈرکھڑے ہیں جن میں تھوڑا بہت بھی لیڈر شپ کوالٹی ہے، انہیں ضرور کامیاب بنائیے۔ آپ کی تھوڑی سی عقل مندی ، سمجھ داری اوراتحاد کے ساتھ حق رائے دہی کا استعمال آپ کو بہت ساری مصیتوں سے بچا سکتاہے۔ ورنہ آئندہ پانچ سال کتنے بھیانک ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت صورت حال نہایت تشویش ناک ہے کیوں کہ مسلم اکثریتی سیٹ پر متعدد مسلمان کھڑے ہیں ،جس کی وجہ سے حالات بہت دگرگوں ہیں اور مسلمان پس و پیش اور مخمصے میں مبتلا ہیں کہ کس کو ووٹ دیں اور کس نہ دیں۔دوسری اکثریتی طبقہ ہزاروں اختلافات کے باوجودمتحد ہیں اور وہ یک طرف ووٹ ڈالیں گے۔مسلمانوں اور خاص طور پر اہل علم، اہل ثروت، اہل رسوخ،علماء، صلحاء اور تمام اہل فکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سمت میں ایک ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کریں اور خاموشی کے ساتھ کریں تاکہ مسلمانوں کو پیغام جائے کہ کیا کرنا ہے اور کس سمت میں جانا ہے۔ورنہ آنے والی نسل ان لوگوں کو معاف نہیں کرے گی کیوں کہ ذاتی اغراض و مقاصد کیلئے ملت کو انتشار میں مبتلا رکھنا، مسائل کا حل نہ نکالنا اور انتشار کو ختم کرنے لئے کوئی لائحہ عمل تیار نہ کرنا اور اتحاد کے لئے قربانی نہ دینا انہیں اُن کی نظروں میں ذلیل و خوار کریں گے۔ 
�����