واجپائی کافارمولہ ہی واحد راستہ | بھاجپا پی ڈی پی اتحاد مہا ملاوٹ تھا

کشمیر معاملے پر کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں:مودی

27 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر//وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر پر آگے بڑھنے کیلئے اٹل بہاری واجپائی کے فارمولہ کو واحد راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کا اتحاد ’ مہا ملاوٹ‘ تھا جو تیل اور پانی کا ملن تھا۔ایک نجی نیوز چینل کے ساتھ انٹریو میں وزیراعظم مودی نے  اس بات کو دہرایا ’’ کشمیر مسلے پر مودی کو کسی کے مشورہ کی ضرورت نہیں ہے، میں ماضی میں ریاست کے کئی حصوں گیا ہوں اور بہتر طریقے سے ریاست کو سمجھتا ہوں‘‘۔واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی نے امر سنگھ کرکٹ سٹیڈیم میں عوامی جلسہ کے دوران 2015میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی سٹیج پر ہی بری حالت کی تھی جب مودی نے مفتی کی تقریر کے جواب میں کہا تھا’’ مودی کو کشمیر پر کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔انٹر ویو میںمودی نے کہا’’مٹھی بھر خاندانوں نے جموں کشمیر کو بلیک میل کرنے کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے،  جب مفتی صاحب تھے تو ہمیں امید تھی کہ ہم اس سے باہر آئیں گے لیکن وہ ہماری مہا ملاوٹ تھی، تیل اور پانی کاملن تھا‘‘۔انہوں نے کہا ’’ متضاد نظریات رکھنے کے باوجوددونوں جماعتیں اس بات پر راضی ہوگئیں کہ ساتھ چلیں گی،عوام نے منڈیٹ ہی ایسا دیا تھا، کہ ہمیں اتحاد کرنا ہی پڑا‘‘۔ان کا کہنا تھا ’’تاہم ہم نے جمہورت کیلئے ا تحاد چھوڑا، ہم چاہتے تھے کہ پنچایتی انتخابات ہوں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مسائل سے نمٹنے کیلئے واجپائی کے انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے فارمولے کے ذریعے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ مودی کا کہنا تھا کہ ہمارا پہلے سے ہی ماننا ہے کہ واجپائی کے نعرے سے کشمیر میں کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کے لئے ضروری نہیں تھا کہ ہم جموں وکشمیر میں حکومت سازی میں شامل ہوتے۔ مودی کے مطابق ’’میں کشمیرکے ہر ضلع کا دورہ کرچکا ہوں، میں وہاں بہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں، لہٰذا اس کے لیے ضروری نہیں تھا کہ ہم وہاں حکومت سازی میں شامل رہتے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ میں وہاں سنگٹھن (تنظیم) کا کام کرتا تھا، میں وہاں کی تما م باریکیوں کو جانتا ہوں، اس لئے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر خاندان جو کشمیر میں ایک زبان بولتے ہیں اور دلی آکر دوسری زبان بولتے ہیں، یہ دوغلا پن اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور میں ابھی وہ کررہا ہوں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ان خاندانوں میں ہمت ہونی چاہئے کہ وہ جو بات کشمیر میں کرتے ہیں وہی بات انہیں دلی میں آ کر بولنی چاہئے۔
 

تازہ ترین