پلوامہ نے بھاری منڈیٹ دیا:عمر عبداللہ

بدلے میں پیلٹ، گرفتاریاں، گولیاں اور کریک ڈائون ملے

2 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شاہد ٹاک
پلوامہ// نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ پلوامہ کو اسی پارٹی نے تباہ و برباد کیا، جس نے یہاں سے 2014میں بھاری منڈیٹ حاصل کیا۔انہوں نے کہا ’’میں لوگوں کا غم و غصہ، مایوسی اور نا امیدی اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں، یہاں کے عوام کو گذشتہ ساڑھے 4 سال کے دوران دھوکہ، فریب، خون خرابہ، مارپیٹ، ظلم و تشدد، جبر و استبداد، دکھ درد اور سختی کے علاوہ کچھ نہیں ملا‘‘۔پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ آپ کا قصور کیا تھا؟کیا آپ نے 2014 میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا؟ کیا آپ لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالے ؟ فرق اتنا ہی ہے کہ جن لوگوں کو آپ نے منڈیٹ دیا انہوں نے آپ کے ووٹوں کا استعمال  اپنا اقتدار اور کرسی بچانے کے لئے کیا اور عوام کو حالات کے رحم ر کرم پر چھوڑ دیا، آپ نے پی ایس اے  کیلئے ووٹ نہیں ڈالے تھے ، پیلٹ گن کیلئے نہیں ڈالے تھے ،  ٹیئر گیس اور گولیوں کیلئے بھی ووٹ نہیں ڈالے تھے ، آپ نے ووٹ اس لئے نہیں ڈالے تھے کہ آپ کے اُستاد کو سرینگر لے جاکر زیر حراست ہلاک کیا جائے ‘‘۔عمر نے کہا کہ پلوامہ کے ساتھ گذشتہ 4سال کے دوران جو ہوا اُسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں ہر طرف مایوس نظر آرہی ہے اور ایسا محسوس ہورہاہے کہ یہاں کے لوگوں کا اس الیکشن کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں، لیکن یہ بہت بڑی ناانصافی ہوگی اگر یہاں کے لوگ نے ووٹ کا استعمال کرکے اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کریں گے ۔انہوں نے پلوامہ کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ناراضگی کا اظہار اپنے ووٹ کے ذریعے کریں۔تاکہ دلی کو یہ پیغام جاسکے کہ گذشتہ ساڑھے 4سال کے دوران جو ظلم یہاں ہوا وہ ہمیں برداشت نہیں۔عمر نے کہا 'جو رات کو کریک ڈائون ہوتے ہیں، جو گرفتاریاں ہوتی ہیں، جو یہاں نوجوانوں پر پی ایس اے عائد کیا جاتا ہے ، جو ہمارے نوجوانوں کا انٹروگیشن ہوتا ہے ،ان چیزوں کا کہیں نہ کہیں سے تو جواب حاصل کرنا ہوگا'۔عمرنے کہا کہ اب اور نہیں، یہ ظلم، یہ سختی، یہ کریک ڈائون، یہ کرفیو، یہ پیلٹ گن، یہ گولیاں، یہ گرفتاریاں، یہ پی ایس اے اور یہ حراستی ہلاکتیں بند کیجئے '۔نائب صدر نے کہا کہ پلوامہ ایک ایسا علاقہ ہے جس نے کبھی فرقہ پرستی میں یقین نہیں رکھا، جب 2016کے نامساعد حالات میں یاتریوں کی ایک گاڑی کو حادثہ پیش آیا تو یہاں کے نوجوانوں نے نہ صرف بچائوکارروائی کی بلکہ ان یاتریوں کو ہسپتال پہنچایا اور خون کا عطیہ بھی فراہم کیا۔ پلوامہ کے لوگوں نے اپنے پنڈت بھائیوں کو مندر کی تعمیر نو میں بھر پور مدد و اعانت کرکے صدیوں کے بھائی چارے کی علم کو فروزاں رکھا۔ لیکن 2015میں پی ڈی پی نے جونہی بھاجپا کیساتھ اتحاد کیا اس علاقے پر جیسے آفت ٹوٹ پڑی۔ اُس دن سے لیکر آج تک مصائب اور مشکلات اس علاقہ سے جانے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ پی ڈی پی کو منڈیٹ دینا یہاں کے لوگوں کو زبردست مہنگا ثابت ہوا۔ 

تازہ ترین