کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

10 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
س: -روزے کے متعلق جوعمومی مسائل کثیر الوقوع ہیں ، براہ کرم اپنے مفیدکالم میں خود ہی انتخاب کرکے ضرور شائع کریں ۔ مجھے بہت دُکھ ہوا کہ ایک نئے شادی شدہ جوڑے نے دن میں روزے کی حالت میں اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کی اور ان کویہ معلوم نہ تھاکہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہے اور گناہ بھی ہواہے ۔ اس لئے اہم مسائل ضرور لکھیں ۔ 
اعجاز احمد خان…بانڈی پورہ

روزے کے اہم مسائل 

ج: -روزہ ہرمسلمان مرد عورت پر فرض ہے، بشرطیکہ وہ بالغ ہو ۔ روزہ کو فرض تسلیم کرنااور اس کو خدا کا اس کے نبی کا لازم کردہ حکم اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے جو شخص رمضان کی یا روزے کی توہین کرے ، تو وہ شخص ایمان سے محروم ہوسکتاہے ۔ مثلاً کوئی یہ کہے ،ہم کو بھوکا پیاسا رکھنے سے اللہ کو کیا ملے گا ، یا روزہ اس وقت فرض تھا جب لوگوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ تھا،اس طرح کے جملے بول دینے سے مسلمان کا ایمان ختم ہوجاتاہے۔روزہ کے فرض ہونے کا عقیدہ رکھنا اور پھر اس کو ادا کرنا دونوں لازم ہیں۔یعنی عقیدہ عمل دو الگ الگ امور ہیں اور دونوں ضروری ہیں صرف ایک خاص صورت میں روزہ رکھنا منع ہے ۔ اور یہ کہ جب کوئی خاتون حیض یا نفاس کی حالت میں ہو تو اس کے لئے روزہ رکھنا منع ہے ۔ یعنی وہ روزہ رکھنا بھی چاہے تو اجازت نہیںاور اگر وہ رکھے گی تو گنہگار ہوگی ۔ حیض ونفاس کی وجہ سے جتنے روزے چھوٹ جائیں ان کی قضا وہ رمضان کے بعد کرے گی اور وقفہ وقفہ سے قضا کرنے کی اجازت ہے ۔ مریض ، مسافر ، حاملہ عورت ، دودھ پلانے والی خاتون ، اسی طرح جس شخص کو بار بار بے ہوشی ہوتی ہو ان افراد کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے جب مریض صحت یاب ہوجائے اور جب مسافر مقیم ہوجائے ۔اسی طرح حاملہ خاتون کا جب وضع حمل ہوجائے اور دودھ پلانے والی کا بچہ جب غذا کھانے لگے تو اب ان کو اس فوت شدہ روزوں کی قضا کرنا لازم ہوگا ۔ روزہ مؤخر کرنے کی رخصت ہے۔
ایسا بوڑھا شخص یا اتنا کمزور فرد جس کے صحت یاب اور روزے کے قابل ہونے کی اب کوئی امید ہی نہ ہو اور با یقین ہے کہ بقیہ ایام حیات اسی حالت میں گذاریں گے جس کو فقہ کی اصلاح میں شیخ فانی کہتے ہیں تو اسے اس کی اجازت ہے کہ روزہ چھوڑ دے اور ہر روزے کے عوض میں ایک صدقہ فطر کے بقدر رقم صدقہ کردے ۔ یہ رقم یکمشت دینا بھی درست ہے ۔
رمضان کے روزے کے لئے ہر روزے کی الگ الگ نیت کرنا ضروری ہے ۔ نیت کے لئے دل میں ارادہ کرنا یا سحری کھانا بھی کافی ہے ۔ اگرزبان سے نیت کے الفاظ پڑھے تو یہ بھی بہتر اور افضل ہے ۔ اگر کسی نے نیت نہ کی یعنی روزہ کھنے کا ارادہ نہ کیا اور پورے دن بغیر کھائے پئے رہا تو روزہ ادا نہیں ہوا۔ صبح سحری میں نیت کے بعد بھی کھانے پینے کی اجازت ہے ۔سحری کے وقت ختم ہونے کے بعد ہرگز کچھ کھانا پینا درست نہیں ۔ اگر ختم سحری کو ایک دومنٹ ہوچکے ہوں تو کوئی ایک لقمہ یا قطرہ پانی ہی پی لے تو روزہ ادا نہ ہوگا ۔ 
سحر کھانا روز ے کے لئے لازم نہیں ۔ اگر کسی نے جان بوجھ کر یا وقت نہ ہونے کی وجہ سے سحری نہ کھائی تو بھی روزہ کی نیت کرے ،اس کا روزہ درست ہوگا ۔ سحری کھانے کی احادیث میں بڑی فضیلت ہے اس لئے بلا عذر کے سحری کو ترک کرنے سے پرہیز کرے۔ چاہے سحری کی نیت سے تھوڑا سا پانی ، دودھ ، چائے ، کھجور ، کوئی پھل یا چند لقمہ ہی کھالے تو سحری کی فضیلت حاصل ہو جائے گی ۔
کوئی ایسی حالت میں صبح اٹھا کہ اس پر غسل لازم تھا تو اب وہ غسل کرے پھر سحری کھائے ۔ تاکہ روزہ بھی ادا ہو اور نماز بھی ۔ اگر وقت کم تھا تو سحری کی نیت سے پانی، دودھ پی لے اور غسل کرے تاکہ نماز وروزہ دونوں ادا ہوسکیں ۔ اگر سحری کھا کر غسل کرنا مشکل ہومثلاً بیمار ہونے کاخدشہ ہو تو پھر پہلے غسل کرے ۔ اگر یہ نہ ہو سکے تو کم سے کم کوئی چیز کھالے یا پی لے اور پھر غسل کرے ۔ اگر پیٹ بھر سحری کھالی اور اب غسل نہ کیا، تو کم از کم طلوع آفتاب سے پہلے پہلے غسل کرکے نمازِ فجر اداکرے ۔ ورنہ اب اس کے بعد غسل کرے گا تو فجر کی نماز سے محروم ہو جائے گا ۔ غسل میں اگر گرم پانی استعمال کیا تو اُمید ہے کہ کوئی خرابی نہ ہوگی ۔ 
جوشخص یہ کہے کہ ایسی حالت میں سحری کھاکر تیمم کرکے نماز پڑھے ،وہ غلط ہے ۔
دن میں روزہ کی حالت میں کھانا پینا ، بیوی سے جماع کرنا روزے کو ختم کردے گا ۔جس شخص نے ایسا کیا اس کو روزے کی قضاء بھی لازم ہے اور دو مہینے کے مسلسل روزے بطور کفارہ کے لازم ہیں ۔یہ حدیث میںصراحتاً موجود ہے ۔
ہاں اگر کسی نے بھول کر کچھ کھایا پا پیا یعنی اپنے روزے دار ہونے کاخیال نہ رہا تو اس کو نہ روزہ ٹوٹا ، نہ قضا لازم ہوگی نہ کفارہ لازم ہوگا ۔ روزہ کی حالت میں مسواک کرنا ، انجکشن لگوانا ، دانت نکلوانا ، خون نکلوانا درست ہے ۔ اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ روزے کی حالت میں احتلام ہو جائے ، خود بخود قے ہو جائے، کان میں پانی چلا جائے ، منہ میں بلا اختیار دھواں یا کچھ اور چلا جائے تو روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ اسی طرح بُرے شہوانی جذبات سے مذی نکل جائے ، اس طرح منہ میں لعاب جمع ہوکر معدہ میں چلا جائے تو بھی روزہ درست ہے ۔یا ناک کو سٹرک لیا(ناک کا بلغم اوپر کو کھینچ لیا)اور وہ معدہ میں چلی جائے تو روزہ پر کوئی اثر نہ پڑے گا ۔ روزہ میں تیل ، سرمہ ،عطر ، پائوڈر استعمال کرنا درست ہے ۔
رزوہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کرنے سے روزہ مکروہ ہو جاتاہے ۔ بیوی سے اس طرح بوس وکنا رکرنا شہوانیت سے مغلوب ہو نے کا خدشہ ہو ،یہ مکروہ ہے ۔ اگر انزال ہوگیا تو پھر قضا(صرف ایک دن)لازم ہوگی ، کفارہ نہیں۔ اگر بوس وکنار میں جماع کرلیا تو پھر قضا ایک دن اور کفارہ ساٹھ دن بلاناغہ تسلسل کے ساتھ لازم ہوگا ۔ ایسی صورتحال میں بہتر ہے کہ دن میں زوجہ سے دور رہیں ۔ خصوصاًسحری کے بعد یا دوپہر کو ایک بستر پر ہرگز نہ لیٹیں۔ روزہ کی حالت میں نامحرم کو دیکھنا ،ننگے فوٹو دیکھا ، گانے سننا ، ٹی وی دیکھنا ، گانے گانا ، گالی گلوچ کرنا، غیبت کرنا ، نماز نہ پڑھنا ، رشوت لینا ، آوارہ پھرنا ، نامحرم کو بلا ضرورت فون کرنا ،فحش باتیں کرنا ،فاحشانہ لباس پہننا ،جس سے دیکھنے والوں میں فحش جذبات اُبھر جائیں ۔ خواتین کا بے پردہ ہوکر باہر پھرنا ، یہ تمام کام حرام ہیں ۔ ساتھ ہی روزے کے اثرات فوائد اور مقصد کو ختم کردیتے ہیں ۔
اسی طرح حرام کمائی سے سحری یا افطار کرنا حرام تو ہے ہی مگر ساتھ ہی روزہ کی روح اور اس کی افادیت کو ختم کرنے والی چیز ہے ۔    lRl
س: -۱:  سحری و افطار کے لئے جو وقت متعین ہے کیا ایک دو منٹ کم زیادہ ہونے سے روزے میں کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں ایک دو منٹ آگے پیچھے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتااور ابھی چند دن پہلے ایک مفصل مضمون آیا جس میں کچھ ایسی ہی بات لکھی تھی۔ اس لئے رہنمائی فرمائیں 
عبد العزیز…شوپیان

اوقات ِسحری  و افطار میں تقدیم و تاخیر

ج: -۱: سحری کھانے کا آخری وقت صبح صادق کا طلوع ہے اور یہ طلوع فجر کہلاتا ہے۔ اس وقت کے ہو جانے پر کھانا پینا بند کرنا لازمی ہے۔صبح صادق کا یہ وقت اختتام سحر، اختتام تہجد، آغاز روزہ اور آغازِ نماز فجر کا وقت ہے۔ اس سلسلے میں یہ امر ملحوظ رہے کہ سحری کے لئے اصل وقت کون سا ہے۔ اس کے لئے محققین جن میں خاص طور پر علامہ تقی الدین ابن دقیق العید ہیں، نے یہ لکھا ہے کہ پوری رات کے غروب آفتاب سے طلوع صبح صادق تک کے پورے وقفہ شب کے چھ برابر حصے کئے جائیں۔ ان میں اٰخری چھٹا حصہ، جو تقریباً دو گھنٹے ہوں گے یہی دوگھنٹے تہجد کا وقت ہے اور یہی سحری کا بھی وقت ہے۔ اب اس پورے وقت میں کبھی بھی سحری کھاسکتے ہیں۔ اس وقت کا اختتام جس منٹ پر ہوگا یعنی جس منٹ پر صبح صادق کا طلوع ہوگا۔ اُس منٹ سے پہلے ہی سحری سے فارغ ہونا ضروری ہے۔ اگر اس اختتامی لمحہ سے آگے سلسلۂ اکل و شرب باقی رکھاگیا تو وہ روزہ درست نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں حدیث ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، تم کو بلال کی اذان سحری کھانے سے نہیں روکنی چاہئے۔ اس لئے کہ وہ رات میں ہی اذان دیتے ہیں یعنی حضرت بلال کی اذان اس غرض سے ہوتی تھی تاکہ سوئے ہوئے افراد بیدار ہو جائیں اور جو تہجد میں مشغول ہوں وہ سحری کھانے کے لئے نماز کا اختتام کریں۔بہرحال اذانِ بلال اختتام سحری کے لئے ہوتی ہی نہیں تھی۔ اسی لئے اسی حدیث میں آگے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ عبد اللہ ابن ام مکتوم کی اذان پر سحری ختم کرو۔ اس لئے بہرحال ختم سحری کا جو وقت درج ہے اُس سے ایک منٹ بھی آگے کھانے پینے کا سلسلہ جاری رکھنا درست نہیں ہے۔ وہ تو پورے وقفۂ سحری کا اختتامیہ ہے۔اس میں مزید توسع کیسے ہوسکتا ہے۔ اس لئے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ چند منٹ آگے پیچھے ہونے سے کچھ نہیں ہوتا وہ غلط کہتے ہیں، اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اذان صبح کے بعد بھی کھا سکتے ہیں وہ غلط کہتے ہیں۔اس سے یقینا روزہ خراب ہوگا۔چنانچہ تمام فقہاء نے روزے کے مسائل میں لکھا ہے کہ اگر صبح صادق کے بعد یا غروب آفتاب سے پہلے کسی نے کچھ کھالیا تو اُس کا روزہ درست نہ ہوگا۔
دیکھئے نور الایضاع، عالمگیری، درمختار، الجرالرائق، مجمع الاہز،ملتقی الابحر،فتاویٰ  تاتا رخانیہ، فتاویٰ قاضی خان، خلاصتہ الفتاوی اور یہی بات تمام شارحین حدیث نے لکھی۔ ملاحظہ ہو فتح الباری شرح بخاری، عمدۃ القاری شرح بخاری،فتح اللہم شرح مسلم ،بذل المجہودشرح ابودائود۔ مرقات شرح مشکوٰۃ وغیرہ۔
 
س: -میں ایک خاتون ہوں ۔ میری طرح بہت ساری خواتین کو کچھ نجی قسم کے شرعی مسائل پوچھنے ہوتے ہیں مگر شرم کی وجہ سے پوچھ نہیں پاتی ۔ اب آپ ’’کشمیرعظمیٰ‘‘ میں ہی خواتین کے متعلق روزوں کے مخصوص مسائل بیان کریں ، مہربانی ہوگی ۔ ایک خاتون …سرینگر 

خواتین کے روزہ کے مخصوص مسائل

جوابات:
۱-حیض ونفاس میں روزہ رکھنا منع ہے۔ اگر روزہ رکھنے کی خواہش بھی ہوتو بھی منع ہے ۔
۲-حالت حمل اور حالت شیرخوارگی میں روزہ چھوڑ دینے کی اجازت ہے ۔ اگر روزہ رکھ سکیں تو بہت بہتر ہے ، نہ رکھ سکیں تو بعد میں قضاء کریں ۔ 
۳-روزہ کی حالت میں سحری سے افطار تک شوہر سے جماع کرنا سخت جرم ہے ۔ اگر شوہر و بیوی نے رضامندی سے ایسا کیا تو دونوں کا روزہ ختم ہوگیا ۔ اب ان دونوں کو ایک روزہ بطور قضا بھی لازم ہے اور ساٹھ روزے بطور کفارہ کے لازم ہیں ۔ یہ ساٹھ روزے مسلسل رکھنا لازمی ہے ۔ 
اگرشوہر نے جماع کے لئے زبردستی کی تو عورت کو حق ہے کووہ روک دے ۔ وہ اُٹھ کر دوسری جگہ چلی جائے اور سختی سے منع کرے ۔ اگر پھر بھی شوہر جماع کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اب شوہر پر قضا وکفارہ دونوں (اکسٹھ دن)لازم ہونگے ۔ اور عورت پر صرف ایک دن کی قضاء لازم ہوگی اگر عورت کو معلوم ہے کہ اس کا شوہر قابویافتہ نہیںتو دن میں دور رہنا ہی بہتر ہے ۔
۴-اگر کسی خاتون نے مقام ستر میں اندر کوئی دوا ڈالی تو روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ 
۵-اگر لیڈی ڈاکٹر نے کسی بیماری کے ملاحظہ کے لئے یا حمل کے متعلق کسی بات کے معلوم کرنے کے لئے خشک ہاتھ شرمگاہ کے اندر ڈالا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ اگر تر انگلی یا دوا لگائی ہوئی انگلی ڈالی گئی تو روزہ ٹوٹ جائے گا ۔
۶-اگر کوئی عورت صبح صاد ق سے پہلے حیض سے پاک ہوگئی تو اب اسے روزہ رکھنا لازم ہے ۔ چاہے وہ صبح صادق سے پہلے غسل نہ بھی کرسکے ۔ 
۷- اگر صبح صاد ق کے بعد وہ حیض سے پاک ہوئی تو اب روزہ نہیں رکھ سکتی مگر اس دن کچھ کھانا پینا بھی اس کے لئے منع ہے اور اس روز کی بھی بعد میںقضا کرے ۔ 
۸-تراویح کی نماز جس طرح مردوں کے لئے سنت ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی سنت ہے اور جیسے مردوں کے بیس رکعت سنت ہیں اسی طرح عورتوں کے لئے بھی بیس رکعات سنت ہیں اور جیسے مردوں کے لئے نماز میں قیام لازم ہے اسی طرح عورتوں کے لئے لازم ہے ۔
۹- روزے کی حالت میں شوہر سے بوس وکنار کرنا جس سے شوہر کے بے قابو ہونے کا خطرہ ہویا اسے منی خارج ہونے کا خطرہ ہو،مکروہ ہے ۔اسی طرح ایسی باتیں کرنا جن سے شہوانی جذبات اُبھرجاتے ہیں ، یہ بھی مکروہ ہیں ۔ عورت کو لازم ہے کہ وہ خود بھی بچے اور شوہر کو بھی اس کے لئے روک دے ۔
۱۰- حیض ونفاس کی وجہ سے روزہ چھوڑنا لازم ہے مگر دن میں کھلے عام کھانا ، یا گھر میں بچوں کی موجودگی میں اس طرح کھانا پینا کہ ان کے دل میں رمضان کی عظمت اور روزہ کی ہیت ختم ہونے لگے ، یہ ہرگز درست نہیں۔ اس طرح چھپ کر کھایا جائے کہ گھر کے کسی فرد حتیٰ کہ نابالغ بچوں کو بھی پتہ نہ چلے ۔ اگریہ نہ ہوسکے تو بار بار بچوں کو یہ بتایا جائے کہ روزہ رکھنا ضروری ہے مگر میں بیمار ہوں اس لئے شرمندہ ہوکر مجبور ہوکر کھانا پڑرہاہے ۔
۱۱- حیض کی وجہ سے روزہ ،نماز،تلاوت منع ہے ۔ تسبیح، ذکر ، دعا کی اجازت ہے ۔ اس لئے وضو کرکے صفائی ستھرائی کے ساتھ صاف کپڑے پہن کر جائے نماز پر بیٹھ کر تسبیح ، وظیفہ ، درود شریف اور دعائیں کرنا بہت بہتر ہے اور رمضان کے برکات حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ تسبیح میں کلمہ طیبہ ، کلمہ شہادت، کلمہ تمجید، کلمہ توحید پڑھ سکتی ہیں یا کوئی ذکر ہو وہ بھی کرسکتی ہیں۔ درود استغفار بھی درست ہے ۔
۱۲-وہ مسائل جن کا معلوم کرنا ضروری ہے مگر حیاء کی وجہ سے کسی اجنبی نامحرم  سے نہ پوچھ سکیں ۔ وہ اپنے شوہر کے ذریعہ پوچھنے چاہئیںیا بلانام کے تحریر بھیج کر کسی قابل اعتماد مستند عالم سے پوچھ سکتی ہیں ۔    lRlR

تازہ ترین