دیوتا

کہانی

12 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مشتاق مہدی
اپنی تمام لگن،ہمت اور بہادری کے ساتھ پہاڑ کی ایک ایک چوٹی سر کرتا ہوا  وہ آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا تھا۔اُسکے ہاتھوں میں سات رنگوں کا ایک جھنڈا تھا۔یہ جھنڈا اسے پہاڑ کی سب  سے اونچی چوٹی پر گاڑنا تھا۔راستہ طویل اور مشکل ہونے کے باوجود  ارادہ پختہ اور مضبوط تھا۔۔۔۔آہستہ سے قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا۔ اب اُسکے سامنے آخری پڑائو تھا ۔
آخری چوٹی تھی۔۔۔اس چوٹی پر جھنڈا گاڑنے کے بعدہی ہر طرف سے لوگ آکر اُس کی عظمتوں کو سلام کریں گے اور وہ کہلائے گا ملنگ دیوتا۔۔۔اُسکی سانسوں میں کائنات کی سانس ہوگی۔ اپنے آنسووُں سے لوگوں کے خشک خالی پیالے بھر لے گا۔اپنی جھولی میںچھپائے قرمزی پھولوں سے ننگی عصمتوں کو سنبھالے گا۔اپنے نوانی پرتو سے تاریک جھونپڑیوں میں روشن آفتاب اُگائے گا اور بھٹکی ہوئی آدم کی اولاد کو ایک نئی سکون بخش سوچ سے متعارف کرائے گا اور اسکی ایک دیرینہ خواہش پوری ہوجائے گی ۔
خواہش کتنی معصوم تھی ۔ اور پڑائو کتنا کٹھن۔۔۔۔ایک کمزور دل انسان  کے لئے ناممکن بلکہ موت ۔۔۔جوں جوں وہ منزل کے قریب آتا گیا۔اُسکے چہرے پر جوش کی سرخی اور قدموں میں تیزی آگئی ۔اب صرف چند میٹروں کا فاصلہ رہ گیا تھا ۔
دس میٹر۔۔۔پانچ میٹر۔۔۔۔دو میٹر۔ منزل کے اس قدر قریب ہونے کی خوشی نے اُسکے جسم میں ہلکی سی کپکپاہٹ پیدا کی۔اس نے خود کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملی۔اچانک ہی  اُسکے ہاتھ سے جھنڈا چھوٹ گیا۔جھنڈا اٹھانے کے لئے جونہی وہ جھکا اُس کا پیر پھسل گیا۔اپنا توازن برقرار نہ  رکھ سکا۔دوسرے ہی لمحے نیچے پستیوں کی جانب ڈوبتا ہوا وہ ایک گہری کھائی میں گر گیا ۔
کھائی میں اندھیرا گہرا تھا ۔موت کی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔کچھ دیر بعد اُسے ہوش  آگیا اور اندھیروں سے آنکھیں کچھ مانوس ہوتے ہی اسکے منہ سے ایک چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ اُسکے چاروں طرف بے حد بھیانک اور خوفناک چہروں کے انسانی ہیولے تھے ۔جو عجیب سی نظروں سے اسے گھور رہے تھے ۔اسے لگا ۔۔۔وہ اسکا مذاق اُڑارہے تھے ۔خاموش قہقہے لگارہے تھے ۔پھر جب اس نے قہقہوں کا زہر اپنی رگوں میں سرائیت کرتا ہوا محسوس کیا تو شدت غصہ سے تلملا اٹھا۔اُس نے چیخ کر کچھ کہنا چاہا لیکن وہ اپنی زبان ہلا نہ سکاکہ اسکی زبان تالو سے چپک گئی تھی۔وہ ٹانگیں نہیں ہلا سکا کہ اُسکی ٹانگیں ٹوٹ چکی تھیں۔اُسکا سارا جسم مفلوج ہو چکا تھا ۔ وہ صرف دیکھ سکتا تھا۔۔۔بول نہیں سکتا۔۔۔اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا تھا ۔
کھائی میں پڑے ہوئے آدمیوں کی حالت ایک سی تھی ۔سبھوں پر ایک سا جمود طاری تھا۔خاموشی کے ایک طویل وقفے کے بعد اُس نے اپنی آنکھوں کو حرکت دی۔
ـــ’’ـ  تم لوگ اس کھائی میں کب سے ہو  ‘‘
انکی بے نور آنکھوں نے مختصر جواب دیا۔
’’ معلوم نہیں کب سے ہیں ۔بے شمار موسم اوپر ہی اوپر آئے اور گزر گئے۔۔۔۔‘‘
’’ آئیندہ  کے لئے کیا سوچا ہے  ۔۔۔؟ ‘‘
اُن کے منہ سے ایک لمبی آہ نکلی۔
اِس بار اُس نے اپنی آنکھوں کو ایک خاص انداز سے گھمایا۔بات گئے کل کی تھی لیکن انکے حا ل سے جڑی۔۔۔’’ تم  لوگ زندہ کیسے ہو ۔۔۔؟ ‘‘
آنکھیں خاموش اپنے سوگ میں ڈوب گئیں ۔
’’مم۔۔میرا مطلب ہے۔تم لوگ کھاتے کیا ہو ۔پیتے کیا ہو ۔۔۔؟ ‘‘
گہرے سناٹے کے بعد ایک ہی جواب ملا
’’ جب پیاس لگتی ہے  تو اپنا خون پیتے ہیں۔اور جب بھوک ستاتی ہے تو اپنا جسم کاٹ کر کھاتے ہیں ۔اور۔۔سو جاتے ہیں ۔‘‘
اس نے غور سے  انکے جسموں پر نظر ڈال کر سوچا۔واقعی انکے لئے سو جانا ہی بہت ہے۔کہ انکی رگیں سوکھ گئی ہیں اور جسموں پر گوشت بھی کم ہی بچا ہے ۔ہڈیوں کے خشک خالی پنجر بن گئے ہیں ۔مزید سانسیں سنبھالنے کے لئے کھائیں گے کیا ۔۔۔۔پئیں گے کیا۔۔۔۔۔یہ لوگ زندہ ہیں بھی تو کیا۔۔۔۔۔کس لئے۔۔۔۔۔کیا یونہی سڑنے ، گھلنے اور تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے۔۔۔۔؟
یونہی نہ معلوم کتنا عرصہ گزر گیا۔
روشنی کے بعد تاریکی چھا جاتی ۔پھر نور کی چادرپھیل جاتی۔ پھر اندھیرے۔۔۔۔ پھر اجالے۔
لیکن انہیں آفتاب کے نکلنے اور ڈوبنے سے کوئی معاملہ نہ تھا ۔وہ تو اپنے اپنے حصاروں میں بند سوئے پڑے یا اونگھنے میں مصروف تھے ۔لیکن وہ جو نیا  تھا ابھی تک جاگ رہا تھا کہ اسکی رگوں کا خون تازہ اور گرم تھا ۔ابھی کچھ مقدار میں موجود تھا۔
اچانک ہی دور کہیں ڈھول پر ایک زور دار سی تھاپ پڑی۔پھر کچھ وقفہ بعد قدموں کی ہلکی سی چاپ سنائی دی۔وہ چونکتا ہوا اونچے پہاڑ کی ویران سی پکڈنڈی کو تکنے لگا۔کافی وقت گزرنے کے بعد اسے چار آدمیوں کی ایک ٹولی نظر آئی ۔جو بڑے  محتاط اندازمیں ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے پہاڑ کی  بلندیوں کی جانب بڑھتے دکھائی دئے ۔
اسکے چہرے کی رگیں اچانک تن گئیں۔جیسے وہ انہیں اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتا تھا۔جیسے وہ نہیں چاہتا تھاکہ کسی دوسرے کا حشر بھی اُس جیسا ہو۔جیسے وہ کہنا چاہتا تھا۔۔۔دوستو آگے بڑھنا ہے تو سنبھل سنبھل کر بڑھو۔۔۔ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بڑھو۔۔۔۔۔اور حوصلوں اور ارادوں کو مضبوطی سے قایم رکھو۔۔۔
دور وہ قافلہ اپنی دھن میں مست آگے بڑھتا رہا۔اُن میںسے وہ، جس کے چہرے پر گھنی داڑھی تھی۔
ان کا معلّم تھا اور وہی سب سے آگے بھی تھا۔اسکی نظر اچانک ہی گرد میں لت پت سات رنگوں کے  جھنڈے پرپڑی ۔اُس کی آنکھوں میںایک چمک سی پیدا ہوئی ۔دائیں طرف جھُک کر جھنڈا ہاتھ سے اٹھایا  اور اسکی کی گرد جھاڑنے لگا۔تینوں ساتھی قریب آکر جھنڈے کو غور سے دیکھنے لگے ۔
’’ استاد۔۔۔۔۔‘‘ ایک ساتھی نے لب کشائی کی  ’’ اس پر کچھ لکھا بھی ہے ‘‘
معلّم کسی گہری سوچ سے ابھر کر بولا۔
’’ ہاں۔۔۔آ۔۔ما۔۔۔نا۔۔‘‘
دوسرے ساتھی نے سوال کیا ۔
’’ آ۔۔۔ما۔۔۔نا ۔۔۔کے معنی کیا ہیں معلّم ۔۔۔؟ ‘‘
’’ بتاوئں گا ۔۔۔۔‘‘کچھ سوچتے ہو ئے معلّم نے قطعی لہجے میں کہا ۔’’ لیکن چوٹی پریہ جھنڈا لہرانے کے بعد ‘‘
تینوں ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔معلّم کا دھیان کہیں اور تھا ۔کچھ دیر تک  دور چمکتی ہوئی  چوٹی کو دیکھتا رہا۔پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنے ساتھیوں کوکچھ سمجھادیا۔جھنڈا سنبھالا اور بڑی ہوشیاری سے آگے بڑھنے لگا ۔
فاصلہ لمحہ بہ لمحہ کم ہوتا جا رہا تھا ۔
دس قدم۔۔۔۔پانچ قدم۔۔۔۔۔تین قدم۔۔۔ وہ  اب چوٹی کے بالکل قریب پنہچ گئے تھے۔خوشی و مسرت سے اُنکے چہرے دھمک رہے تھے۔پھر معلّم نے جونہی چوٹی پر جھنڈا لہرانے کی کوشش کی تو فضا میں اچانک ارتعاش سا پیدا ہوگیا۔دوسرے ہی لمحے چوٹی خود بخود اپنی جگہ سے لڑھک گئی۔اور چھوٹی بڑی کئی چوٹیوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر لڑکھڑاتی ہوئی اُسی کھائی میں گر گئی۔جہاں جھنڈے کا حقیقی مالک اپنی ڈوبتی کانپتی آنکھوں سے یہ منظر دیکھنے میں محو تھا۔
جھنڈا فضا میں معلق لہراتا رہا ۔
شہر والے جوق در جوق جھنڈے کو دیکھنے کے لئے آگئے ۔جب وہ جی بھرکر جھنڈے کو دیکھ چکے  تو انہیں جھنڈے کے مالک کا خیال آگیا ۔پھر وہ دیوانوں کی طرح عظیم دیوتا کی تلاش میں چیختے چلاتے چاروں طرف پھیل گئے  ۔
���
مدینہ کالونی۔ مَلہ باغ ۔حضرت بل
سرینگر کشمیر۔ 190006 
موبائل  نمبر;9419072053
 

تازہ ترین