سمبل واقعہ انسانیت پر بدنما داغ،سیاسی ،مزاحمتی اور مذہبی جماعتوں کا اظہار افسوس،مجرم کو قرارِواقعی سزا دینے کا مطالبہ

انسانیت شرمسار،کشمیری سماج کیلئے لمحہ فکریہ:مزاحمتی خیمہ | مظاہرین پر پولیس کارروائیوں کی مذمت

14 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//حریت (ع)،فریڈم پارٹی،انجمن شرعی شیعیان، اتحاد المسلمین،محازآزادی،مسلم لیگ اور پیروان ولایت نے ترگام سمبل میں ایک کمسن بچی کے ساتھ پیش آئے المناک اور دلخراش سانحہ پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس شرمناک واقعہ میں ملوث شخص کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔حریت (ع)نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سے قبل بھی خطہ جموں میں گزشتہ سال اسی طرح ایک کمسن کو بھی درندگی کا نشانہ بنا کر اسے بے دردی سے قتل کیا گیا اور اب سمبل علاقے میں ایک اور کمسن بچی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا جوبے راہ روی کے بڑھتے ہوئے رحجان کو ظاہر کرتی ہے جو کشمیری سماج کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔بیان میں اس سانحہ کی غیر جانبدارانہ اورجنگی بنیادوں پر تحقیقات کرکے ملوث شخص کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ فرقہ وارانہ اور مسلکی ہم آہنگی کے ماحول کو ہر قیمت پر برقرار رکھتے ہوئے ایسے موقع پرست اور شرپسند عناصر کو اس بات کا موقعہ نہ دیں کہ اس طرح کی نازک صورتحال کی آڑ میں یہاں کے اتحاد و اتفاق اور روایتی بھائی چارے کے ماحول کو وہ زک پہنچانے کی کوشش کریں۔بیان میں اس سانحہ پر متاثرہ کنبے کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا گیاکہ اس سانحہ میں پوری کشمیری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ہر ممکن کوشش بروئے کار لائی جائیں گی۔اس دوران سمبل سانحہ کی وجہ سے پیدا شدہ سنگین صورتحال پر غور کرنے کیلئے منگلوار کو شیعہ سنی کارڈی نیشن کمیٹی کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔ ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسے جرائم میں ملوث مجرموں کو ماضی میں سخت سزا سنائی گئی ہوتی تو شاید سمبل جیسا واقعہ پیش نہیں آتا اور مجرم اپنا جرم انجام دینے سے قبل کئی بار سوچنے پر مجبور ہوجاتا۔ کٹھوعہ سانحہ کی مثال پیش کرتے ہوئے فریڈم پارٹی نے کہا کہ اگر ملوث افراد کیخلاف سزا سنائی گئی ہوتی تو مجرموں کے ہوش وحواس اُڑ جاتے اور اسکے اثرات زمینی سطح پر محسوس کئے جاتے اور سمبل کا مجرم اپنا غیر انسانی جرم سرزد کرنے سے قبل ضرور سوچنے پر مجبور ہوجاتا ۔ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ جو کچھ سمبل میں ہوا ،وہ ہم سب کیلئے شرم سے ڈوبنے کیلئے کافی ہے۔ہمیں سر جوڑ کر سوچنا چاہئے کہ ان سنگین جرائم کو کیسے روکیں ، مجرموں کی لگام کیسے کس لیں جو بار بار ہماری روح و قلب کو مجروح کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو لیکر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور آئندہ کی حکمت عملی وضع کریں۔ انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی نے احتجاجی مظاہرین پر پولیس کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک معصوم بچی کے ساتھ اس طرح کی درندگی کا واقعہ پوری انسانیت کی توہین و تذلیل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے بڑا کوئی جرم اور ظلم عظیم ہو نہیں سکتا جس پر خاموشی اختیار کرنا انسانی غیرت و شرافت کے بیخ کنی کے مترادف ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ اس طرح کے سانحات کے خلاف عوامی ردعمل ایک فطری امر ہے اور عوام کا غم و غصہ برحق اور با جواز ہے۔ انہوںنے کہا کہ پولیس نے احتجاجی مظاہرین پر طاقت کی انتہا کردی حالانکہ حصول انصاف کے لئے پر امن احتجاج ایک جمہوری حق ہے لیکن ریاستی انتظامیہ کو ایک معصوم بچی کے حق میں انصاف خواہ آواز کا بلند ہونا گوارا نہیں ۔آغا حسن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اخلاقی قدروں اور احترام انسانیت ،اخوت و اتحاد ملی کے تقاضوں کا خاص خیال رکھیں۔ دریں اثنا صوبائی کمشنر کشمیر نے آغا سید حسن سے ملک پورہ سانحہ سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور یقین دلایا کہ اس معاملے میں متاثرہ بچی کو مکمل انصاف دلایا جائے گا  ۔ اتحاد المسلمین نے اہلیان وادی کومکمل ہڑتال اور احتجاج کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔ تنظیم کے صدر و سینئر حریت رہنماء مولانا مسرور عباس انصاری نے سوپور، پٹن، ماگام، بڈگام، پلوامہ اور سرینگر کے مختلف علاقوں میں پولیس کی جانب سے طاقت کے بیجا استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انصاف مانگنے والوں پر انتظامیہ کی زیادتیاں جمہوری اور انسانی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔دریں اثنا اتحاد المسلمین کے زیر اہتمام پریس کالونی سرینگر میں ہزاروں لوگوں نے پرامن دھرنا دیا اور معصوم بچی کی عصمت ریزی کے خلاف احتجاج کیا گیا اور اس معصوم بچی کو انصاف دلانے اور مجرم کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ دہرایا گیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مسرور انصاری، آغا سید اعجاز رضوی، آغا سید یوسف رضوی، مولانا حاتم علی، نثار حسین راتھراور دیگر مقررین نے سماج میں پھیلے ہوئے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں علماء اور دینی شخصیات کا ایک موثر کردار بنتا ہے اور انہیں سماجی برائیوں کی اصلاح کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ محازآزادی کے ترجمان خواجہ محمد یوسف گلکار نے ملک پورہ ترگام سمبل میں پیش آئے واقعہ پر افسوس کا اظہارِ کرتے ہوئے کہا کہ درندہ صفت نوجوان نے تین سالہ بچی کے ساتھ جوجنسی زیادتی کی ہے وہ ایک ناقابل معاف جرم ہے ۔مسلم لیگ نے اس دلخراش واقعہ کو کشمیری سماج کے ماتھے پر بدنما داغ سے تعبیر کرتے ہوئے اس بدترین واقعہ میں ملوث انسان نما درندے کو فوری طور قرار واقعی سزا دینے کی اپیل کی ہے تاکہ انسانیت کو شرمسار کرنے والے یہ واقعات دوبارہ جنم نہ لے سکیں۔پیروان ولایت کے سربراہ مولانا سبط محمد شبیر قمی نے سمبل واقعہ کو دلخراش قرار دیتے ہوئے اتحادو اتفاق برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
 
 
 
ترگام جیسے واقعات روکنا ہم سب کی ذمہ دار:ساگر
نیشنل کانفرنس کے اجلاس میں واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت
سرینگر//نیشنل کانفرنس ،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی،پردیش کانگریس کمیٹی،بھارتیہ جنتا پارٹی اور سی پی( آئی) ایم کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے سمبل واقعہ کو انسانیت سوز اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحیثیت سماج ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں جارہے ہیں؟ ہم کیسا سماج بنا رہے ہیں اور ہم اپنی آنے والی نسل کیلئے کیا چھوڑ رہے ہیں؟ کیونکہ مہذب اور شائستہ سماج میں ترگام جیسے واقعات کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک اجلاس میں ترگام سوناواری میں واقعہ کی مذمت کی اور شرکاء نے مطالبہ کیا کہ اس وحشیانہ فعل کے مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اجلاس میں پارٹی کے سینئر لیڈران محمد اکبر لون، شریف الدین شارق، میر سیف اللہ، عرفان احمد شاہ، محمد سعید آخون، پیر آفاق احمد، جاوید احمد ڈار، عمران نبی ڈار، محمد شفیع شاہ، فاروق احمد شاہ، ریاض بیدار، غلام نبی تیل بلی کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔  ساگرنے ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک پر زور دیا کہ وہ واقعہ کا سنجیدہ نوٹس لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرم کیخلاف سخت ترین کیس مرتب کرنے کی ہدایت دیں اور ساتھ ہی اُن افراد کیخلاف بھی کارروائی کی جائے جو مجرم کو بچانے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ تحقیقات کے نتائج کو منظر عام پر لایا جانا چاہے،مجرم کو سخت سزا دی جانی چاہئے اور یہ سزا دیگر لوگوں کے عبرتناک ہونی چاہے۔ ساگر نے عوام سے امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شرپسند اور موقعہ پرست عناصر ایسے واقعات سے اپنے حقیر مفادات کی خاطر آگ میں تیل چھڑکنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے سماج کی داغ بیل ڈالنی ہے جس میں ہماری مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کو انصاف اور تحفظ کا احساس ملے۔ نیشنل کانفرنس کے شمالی زون صدر و سابق اسمبلی سپیکر محمد اکبر لون نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث درندہ صفت شخص کو عبرتناک سزا دینے کی مانگ کی ہے۔ پی ڈی پی کے نائب صدر عبدالرحمان ویری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مجرم کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ویری نے واقعہ کو انسانیت سوز قرار دیتے کہا ہے کہ اگر اس واقعہ میں بھی مجرموں کو سزا نہیں دی جائے گی تو وہو وقت قریب ہے جب کشمیر میں خواتین اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ لیں گی۔انہوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ مذخورہ بچی کو انصاف مل سکے۔پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر جی این مونگا نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سماج کے سبھی طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد کو اس طرح کے واقعات کے خلاف متحد ہونا چاہئے ۔بھاجپا کے ریاستی جنرل سیکریٹری اشوک کول نے واقعہ کی نسبت فوری طور ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی اور اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے گورنر سے اپیل کی کہ اس واقعہ کی مقررہ معیاد کے اند راندر تحقیقات کی جائے اور ملوثین کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔سی پی (آئی)ایم کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیر کے سماج پر ایک طمانچہ ہے۔انہوں نے کہا ’’امید ہے کہ گورنر انتظامیہ جنگی بنیادوں پر اس افسوسناک واقعہ کی تحقیقات کروائے گی تاکہ معصوم بچی کو انصاف مل سکے۔
 
 
 
چیمبر کا اظہار افسوس
سرینگر//کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کو سماج کی اخلاقی گراوٹ سے تعبیر کیا ہے۔چیمبر کے صدر شیخ اشفاق احمد نے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو چشم کشا قرار دیا۔ انہوں نے کہ کچھ مفاد پرست عناصر اس واقعہ کو مسلکی رنگت دینا چاہتے ہیں جس سے خبردار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے گورنر سے اپیل کی کہ اس سلسلے میں ایک فاسٹ ٹریک کورٹ کا اعلان کیا جائے تاکہ مجرم کو جلد سے جلد سزا دی جاسکے۔
 

تازہ ترین