شاہراہ پر 12کلو میٹر علاقہ وبالِ جان بن گیا

بھاری پسیاں گر آئیں، 3000گاڑیاں در ماندہ،300مسافر گاڑیاں بھی پھنس گئیں

15 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد تسکین
 بانہال //جموں سرینگر شاہراہ منگل کے روز بھی بند رہی جس کے نتیجہ میں کم از کم 3000گاڑیاں درماندہ ہو کر رہ گئیں۔ ڈگڈول کے مقام پر وقفے وقفے سے گرتے پتھروں اور پسیوں کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت مجموعی طور معطل رہی۔ اگر چہ صبح5 بجے سے شام6 بجے تک شاہراہ کو کئی بار بحال کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اسے پوری طرح ٹریفک کے آمد و رفت کے قابل نہیں بنایا جا سکا۔ ٹریفک حکام نے  کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ منگل کی صبح ڈگڈول کے مقام پر گر آئی پسی کو صاف کرکے قابل آمدورفت بنایا گیا اور چند سو گاڑیوں کو نکالنے کے بعد دوپہر بعد ڈیڑھ بجے ایک اور بھاری پسی گر آئی جس کی وجہ سے شاہراہ مکمل طور بند ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ گرتے پتھروں کے بیچ شام پانچ بجے شاہراہ کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش ناکام ہوئی۔درماندہ گاڑیوں میں 300چھوٹی مسافر بردار گاڑیاں بھی شامل ہیں جو رام بن کے 20کلو میٹر علاقے میں پھنسی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ اشیائے ضروریہ سے لدے ہوئے ہزاروں ٹرک پھنسے ہوئے ہیں، جن میں اشیائے خوردنی اور لائیو اسٹاک کے خراب ہونے کا خدشہ ہے ۔ شاہراہ کے بند ہونے کی وجہ سے مسافروں کے علاوہ بانہال ، کھڑی، اکڑال ، پوگل پرستان، رامسو مگر کوٹ ، ڈگڈول ، بیٹری چشمہ ، سیری ، رام بن ، کرول اور چندرکوٹ کے ہزاروں مقامی لوگوں کی زندگی شاہراہ کی خرابی اور ٹریفک جام کی وجہ سے روزانہ کی بنیادوں پر مشکلات سے گر گئی ہے ۔مقامی لوگوںکا کہنا ہے کہ جہاں ان کے بچے اسکولوں تک وقت پر نہیں پہنچ پا رہے ہیں، بزرگوں اور مریضوں کو ہسپتال پہنچانا بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہراہ ، بالخصوص ڈگڈول علاقہ کی فور لیننگ کی کٹائی میں ضوابط کو درکنار کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہلکی سی بارش سے بھی چٹانیں اور ملبہ کھسکنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو آخر کار شاہراہ کے بند ہونے پر ختم ہوتا ہے ۔ 
 

تازہ ترین