سمبل سانحہ:طلاب سراپا احتجاج

امر سنگھ کالج اور بمنہ میں پر تشددجھڑپیں، شمال و جنوب میں پر امن احتجاجی ریلیاں

15 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//سمبل میں معصوم بچی کے خلاف مبینہ جنسی زیادتی کے خلاف تیسرے روز بھی طلاب میں اُبال نظر آیا،جبکہ سرینگر سمیت کئی علاقوں میں فورسز اور طلاب کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔ جنوب و شمال میں تیسرے روز بھی مظاہرین  نے اس شرمناک فعل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔

تعلیمی ادارے

منگل کو  وادی کے مختلف حصوں میں تعلیمی اداروں سے وابستہ طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔ضلع انتظامیہ بارہمولہ نے پٹن تحصیل اور سنگھ پورہ میں تمام تعلیمی اداروںجبکہ ڈگری کالج بارہمولہ اور ہائر اسکینڈری اسکول بارہمولہ کے علاوہ سوپور ہائر اسکینڈری سکولوں کو بھی در تدریس کیلئے بند رکھنے کا اعلان کیا گیاتھا۔بانڈی پورہ کے سونا واری تحصیل میں کالج اور اسکول کے علاوہ ہائر اسکینڈری اسکول ،بائز و گرلزگاندربل بھی بند رہے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج و ہائر اسکینڈری اسکول اننت ناگ و بجبہاڑہ کے علاوہ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور گورنمنٹ ڈگری کالج شوپیان کو در س و تدریس کیلئے بند رکھا گیا تھا۔زنانہ کالج مولانا آزاد روڑ سرینگر میںمنگل کو اس سانحہ کیخلاف احتجاج ہوا۔ طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے کالج احاطے میں مجرم کیخلاف سخت سزا کا مطالبہ کیا۔امر سنگھ کالج میں منگل کی دوپہر طلبا و طالبات کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی انسانیت سوز واقعے کیخلاف جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ طلبا و طالبات نے اس موقعے پر ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اُٹھارکھے تھے ۔تاہم باہر موجود فورسز اہلکاروں نے طلاب کی کوشش ناکام بناتے ہوئے انہیںاندر دھکیلنے کی کوشش کی تاہم بعض طلبا کالج کی دیواروں کو پھلانگ کر سڑکوں پر آئے،جس کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔طلاب نے اس موقعے پر فورسز اہلکاروں پر پتھرائو کیا جس کے جواب میں کالج کے مین گیٹ پر موجود فورسزاہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے ۔ فورسز کارروائی کے نتیجے میں کالج کے اندر بھگدڑ کا ماحول مچااور کئی طالبات پر غشی طاری ہوئی۔ معلوم ہوا کہ احتجاج کی وجہ سے گوگجی باغ کے علاقے میں کئی گھنٹوں تک افرا تفری کاماحول رہاجس کے نتیجے میں یہاں دوکانات، کارورباری و تجارتی ادارے بند ہوئے۔کشمیر یونیورسٹی میں مسلسل دوسرے روز بھی طالب علموں کا احتجاج جاری رہا۔یہاں طالب علموں نے کشمیر یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے بینر تلے جمع ہوکر اپنا احتجاج درج کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسے بھیانک جرائم کیلئے کسی بھی مہذب سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ بمنہ ڈگری کالج میں زیر تعلیم طلبا و طالبات نے بھی اس واقعہ کے خلاف جم کر احتجاج کرتے ہوئے فورسز پر چہار سو سنگ باری کی۔ کالج میں زیر تعلیم طلاب نے کیمپس میں جمع ہوکر ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر لئے مین روڑ پر نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے مظاہرے کئے۔ اس دوران فورسز کی بڑی تعداد نے طلبا کو کالج کے اندر جانے کی اپیل کی تاہم احتجاج کررہے طلاب نے فورسز اہلکاروں کی ایک نہ مانی جس کے دوران بعض طلاب نے پولیس و فورسز اہلکاروں پر کئی اطراف سے پتھرائو کیا۔ادھرنامہ نگار غلام نبی رینہ کے مطابق ڈگری کالج کنگن میں زیر تعلیم طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا ۔طلبہ نے سمبل سانحہ کے خلاف ڈگری کالج سے مین بازار کنگن تک ایک جلوس نکالا۔بعد میں طلبہ نے پر امن طورمنتشر ہوئے۔ نامہ نگار فیاض بخاری کے مطابق بونیار اوڑی میں بھی طالب علموں نے احتجاجی مارچ کا اہتمام کرکے سمبل کی معصوم بچی کے حق میں انصاف کا مطالبہ کیا۔ نامہ نگار عارف بلوچ کے مطابق اننت ناگ میں حنفیہ ہائی اسکول کے بچوں نے خاموش احتجاج کرکے معصوم بچی کے حق میں انصاف کا مطالبہ کیا۔جنوبی قصبہ ترال میں کئی تعلیمی اداروں سے وابستہ طلاب نے پرامن احتجاجی مظاہرے کئے۔

احتجاج جاری

 سرینگر میں جے وی سی کالج بمنہ میں معصوم بچی کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف معالیجین اور دیگر عملہ نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملوث مجرموں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ سرینگر کی پریس کالونی میں لاء کالج کے طلاب نے بھی احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ نامہ نگار عارف بلوچ کے مطابق جنوبی کشمیر کے ڈورو شاہ آباد میں شاہ آباد ڈیولپمنٹ فورم کے بینر تلے ایک احتجاجی جلوس بر آمد ہوا۔جلوس میں وکلاء،تاجر و دیگر افراد نے شرکت کی۔ریلی ڈورو بازار سے گذر کر ایس ڈی ایم آفس میں پر امن طور اختتام کو پہنچی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ملزم کو پھانسی اور متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کے الفاظ درج تھے۔ویری ناگ میں بھی شرمناک واقعہ کے خلاف احتجاج ہوا۔گریٹر ویری ناگ فورم کے اہتمام سے نکالی گئی ریلی میں واقع کی سخت مذمت کی گئی۔گاندربل سے نمائندے ارشاد احمد کے مطابق سمبل سوناواری میں پیش آئے شرمناک واقعہ پر ٹریڈرس فیڈریشن اور سیول سوسائٹی گاندربل کی جانب سے بی ہامہ چوک میں احتجاج کیا گیا۔ انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر اس شرمناک واقعہ کیخلاف صدائے احتجاج بلندکیا۔ اس موقعہ پر ٹریڈرس فیڈریشن کے صدر اور سیول سوسائٹی گاندربل کے زعمائوں نے سمبل سوناواری سانحہ میں ملوث ملزم کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔سمبل سانحہ کے خلاف دراس کرگل میں لوگوں نے احتجاج کیا جس دوران دوکانیں بند رہیں۔ لوگوں نے مین بازار دراس تک ایک جلوس نکالا، احتجاجیوں کے ہاتھوں میں پلے کارڑاٹھا رکھے تھے۔بعد میں وہ پر امن طور پرمنتشر ہوئے ۔
 
 

قصوروارکو قرار واقعی  سزا دی جائیگی:وجے کمار

    سرینگر//گورنر کے مشیر کے وِجے کمار نے سمبل میں پیش آئے دلدوز واقعہ کی فوری تحقیقات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ قصور وار کو قانون کے تحت قرار واقعی سز ا دی جائے گی۔مشیر موصوف نے کہا کہ موجود ہ معاملے میں ایک خصوصی میڈیکل ٹیم قصور وار کی عمر کا پتہ لگائے گی۔اُنہوں نے کہا کہ حقائق کی رو سے دیگر مشیر وں و متعلقین سے تفصیلی تبادلہ خیال کرنے کے بعد ایسے معاملات میں قصور وار کی عمر 16برس تک کم کرنے کے معاملے میں فیصلہ لیا جائے گا۔بعدمیں یہ معاملہ گورنر کے ساتھ اُٹھایا جائے گا اورضرورت پڑنے کی صورت میں قانون کی ترمیم کے لئے مرکز کو باقاعد ہ سفارش بھیجی جائے گی۔
 

تازہ ترین