تازہ ترین

بھدرواہ میں چوتھے روز بھی کرفیو نافذ | مجسٹرئیل تحقیقات کا حکم ،15گرفتار

فوج کو قصبہ سے ہٹادیاگیا،انٹرنیٹ خدمات بدستور معطل

20 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

طاہر ندیم خان
بھدرواہ //بھدرواہ کے نالٹھی علاقے میں 50سالہ شہری نعیم شاہ کی ہلاکت پر چوتھے روز بھی کرفیو جاری رہا جبکہ پولیس کی طرف سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ایک روز بعد واقعہ کی مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے گزشتہ روز ایس ایس پی ڈوڈہ شبیر احمد ملک نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تاہم اتوار کو ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ ساغر ڈوئیفوڈنے واقعہ اوراس کے بعد رونما ہونے والے پرتشدد واقعات پر عدالتی تحقیقات کاحکم جاری کیاہے ۔ایس ڈی ایم ٹھاٹھری محمد انور بانڈے کو انکوائری کیلئے مجسٹریٹ نامزد کیاگیاہے جو ایک تو ہلاکت اور ساتھ ہی اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات پر بھی رپورٹ پیش کریں گے ۔ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ نے بتایاکہ ایس ڈی ایم ٹھاٹھری کو تحقیقاتی افسر نامزد کیاگیاہے اور وہ ہلاکت کے واقعہ اوراس کی وجہ و پتھرائو کے واقعات پر رپورٹ پیش کریں گے کیونکہ انتظامیہ کا یہ خیال ہے کہ سنگ بازی کے واقعات منظم انداز میں ہوئے لہٰذا اس کی جامع تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ معیاد بند انکوائری ہوگی اور انہوں نے مجسٹریٹ کو 7 د ن کا وقت دیاہے لیکن شواہد کی بنیاد پر وہ تفصیلات زیاد ہ سے زیادہ15دنوں میں جمع کرسکتے ہیں ۔انہوں نے مزید کیاکہ کرفیو میں ڈھیل زیر غور ہے اور اس میں کچھ گھنٹوں کی چھوٹ دی جاسکتی ہے جبکہ انٹرنیٹ خدمات بھدرواہ میں معطل رہیں گی اور ڈوڈہ میں اسے بحال کردیاجائے گا۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق صورتحال مکمل طور پر پرامن ہے اور معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں ،سنگ بازی اور دیگر واقعات میں ملوث افرا د کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔واقعہ کی تحقیقات کے حوالے سے ایس پی بھدرواہ راج سنگھ گوریہ کی قیادت میں تشکیل دی گئی پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی کام کررہی ہے اور پولیس نے ابھی تک 15افراد کو حراست میں لیاہے جن میں سے 8ہلاکت کے واقعہ میں جبکہ 7اس واقعہ کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر گرفتار ہوئے ہیں ۔خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ راج سنگھ گوریہ نے بتایاکہ وہ ہر ایک زاویہ سے معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں اور دونوں معاملات میں 15افراد کو حراست میں لیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ امید ہے کہ بہت جلد سارے حقائق سامنے آجائیں گے ۔پولیس کے مطابق جمعہ کے بعد کسی بھی طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا ۔صورتحال میں بہتری دیکھتے ہوئے فوج کو قصبہ سے ہٹادیاگیاہے اور اب پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکار امن و قانون بنائے رکھنے کیلئے تعینات ہیں ۔واضح رہے کہ قصبہ میں جمعرات کی صبح اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب یہ خبر پھیلی کہ پچا س سالہ شہری نعیم شاہ کی گائورکھشکوں کے ہاتھوں ہلاکت ہوگئی ہے ۔ا س دوران پرتشدد مظاہرے ہوئے اوردو طبقوں کے گروپوں کے درمیان سیری بازار میں پتھرائو بھی ہواجس بیچ مشتعل ہجوم نے گھروں ، دکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔جمعرات کے روز ہونے والے پتھرائو میں 3درجن کے قریب دکانوں کو نقصان پہنچاہے ۔صورتحال کو پرتشدد پاتے ہوئے انتظامیہ نے کرفیو نافذ کردیا اور ساتھ ہی موبائل انٹرنیٹ خدما ت بھی معطل کردی گئیں ۔