تازہ ترین

پیلٹ متاثرین کا پریس کالونی میں احتجاج | مہلک ہتھیار پیلٹ گن پر پابندی لگانے کا مطالبہ

20 مئی 2019 (26 : 11 PM)   
(   عکاسی: حبیب نقاش    )

نیو ڈسک
سرینگر//مہلک ہتھیار پیلٹ گن سے متاثرہ سینکڑوں افراد نے پریس کالونی لالچوک میں احتجاج کرتے ہوئے پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ وادی کے مختلف علاقوں سے آئے متاثرین پریس کالونی میں جمع ہوئے اوراحتجاج کرتے ہوئے کہاکہ اس مہلک ہتھیار سے آئے روز نوجوانوں کا مستقبل تاریک بنتا جارہا ہے۔ ایک طرف جہاں اسے سے انسان آنکھوں کی روشنی میں پوری طرح محروم ہوجاتا ہے وہیں دوسری طرف انسان کے ذریعہ معاش پر کاری ضرب پڑجاتی ہے۔ مظاہرین نے بتایا کہ جب ایک انسان کی آنکھ اور جسم میں پیلٹ پیوستہ ہوجاتے ہیں تو آنکھوںکی بینائی کیساتھ ساتھ اُن کے مستقبل پر کاری ضرب پڑجاتی ہے۔ ’’پیلٹ وکٹمز ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کے بینر تلے درجنوں پیلٹ متاثرین نے احتجاج کرتے ہوئے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ ہتھیار پر فوری طور پر پابندی عائد کرے۔انہوں نے بتایا کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2018میںفورسز اہلکاروں نے اس مہلک ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے 230افراد کی آنکھوں کی بینائی کو متاثر کردیا۔انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر میں اس ہتھیار کے استعمال سے نہ صرف آنکھوں کی بینائی متاثر ہوجاتی ہے بلکہ اس سے انسان کا مستقبل سے جڑے روزگار پر بھی کاری ضرب پڑجاتی ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس ہتھیار سے متاثر ہوچکے نوجوان آج آنکھوں کی بینائی سے محروم ہے اور وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ایسے نوجوان خود کی کفالت کرنے سے قاصر ہے۔ اعجاز نامی پیلٹ متاثر نے میڈیا کو بتایا کہ ’’میں نے اس مہلک ہتھیار کی وجہ سے اپنی ایک آنکھ کی بینائی مکمل طور پر کھودی ہے،میں متاثر ہونے سے پہلے ٹیلی کام آپریٹر کی خدمات انجام دے رہا تھا لیکن دسمبر 2017میں اس ہتھیار نے میری آنکھ کو نشانہ بناتے ہوئے مجھے جزوی طور پر نابینا بناکے رکھ دیا‘‘۔ اعجاز کا کہنا تھا کہ جب میری آنکھ میں روشنی چلی گئیتو مجھے اپنی نوکری کو چھوڑ دینا پڑا جس کے نتیجے میں میرے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔اس موقعے پر مظاہرین نے عام لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے جائز اخراجات کو پر کرانے کی خاطر ان کی مالی معاونت کی جائے۔