تازہ ترین

سانحہ حول …… خوف و دہشت کی خلش متاثرین کی یادوں میں ہنوزموجود

20 مئی 2019 (26 : 11 PM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//پائین شہر کے حول میں چکا چوند بازاروں اور مصروف زندگی کے بیچ 29بر س قبل ہوئے کشت خون کے کوئی بھی نشان اگر نظر نہیں آرہے ہیں تاہم آج بھی اہل علاقہ کے لوگوں کے دلوں میںاس دہشت زدہ واقعے کی خلش ضرور موجود ہے۔ 1990میں حول کی سڑکوںپرجوخون کی ہولی کھیلی گئی اس کے چھینٹے قریب3دہائیاں گزر جانے کے باوجود جان بحق ہوئے لوگوں کے رشتہ داروں اور اہل خانہ کے دلوںمیں پیوست ہے۔تاریخ کے اس خونین سانحہ میں زخمی ہونے والے اور معجزاتی طور پر بچنے والے لوگوں کے کانوں میں ’’اب بھی گولیوں کی گنگناہٹ اور فورسز کی دندناہٹ سنائی دیتی ہے۔‘‘ مئی 1990کی 21تاریخ میر واعظ کشمیر مولوی محمد فاروق کو گولیوں کا نشانہ بناکر جاں بحق کردیا گیااورجب جلوس کی صورت میں مرحوم کی میت حول چوک پہنچی تو چاروں اطراف سے گولیوں کی گن گناہٹ سنائی دی جس میں قریب 52معصوم شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ اس دہشت زدہ واقعے کے خونین مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے غلام قادر بیگ کا کہنا ہے کہ 29برس گزر جانے کے باوجود ابھی تک وہ منظر انکی آنکھوں سے دور نہیں گیا جب انہوں نے حول میں لاشوں کے ڈھیر دیکھے اور’’ فورسز اہلکار چن چن کر پکے ہوئے پھلوں کی طرح انسانوں کو گرا رہے تھے۔‘‘ غلام قادر بیگ کا کہنا ہے کہ صورہ انسٹی چیوٹ سے میر واعظ کشمیر مرحوم محمد عمر فاروق کے جسد خاکی کو جلوس کی صورت میں حول پہنچا یا گیا تو وہاں پرفورسز نے اندھا دھند گولیوں کی بارش کی جس کی وجہ سے مرحوم میر واعظ کا جسد خاکی بھی زمین پر گر گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ بھی مرحوم کی میت اٹھانے کیلئے آگے بڑھتا تھا اسے نشانہ بنا کر گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا تھا۔جلوس جنازہ میں شامل غلام قادر بیگ کے مطابق اسکے ار د گرد کئی لوگ جن میں فاروق احمد بیگ ، علی محمد ککرو ، جان محمد اور نذیر احمد بابا بھی شامل ہے ، بھی گولیوں سے چھلنی کر دئیے گئے جبکہ وہ معجزاتی طور پر بچ گئے۔ تاہم بیگ کا کہنا ہے کہ ابتدائی دور میں انکے ساتھیوں اور رشتہ داروں کو یہ خدشہ ہوا کہ وہ بھی از جان ہوئے ہیں۔ اپنی مرجائی ہوئی آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے غلام قادر بیگ نے نمائندے کو بتایاکہ 29برس گزر جانے کے باوجود ابھی تک وہ تباہی او ر بربادی کا منظر انکی آنکھوں سے دور نہیں جاتا جبکہ آج بھی راتوں کو شہدائے حول کی چیخیں انہیں سنائی دیتی ہے اور لاشوں کے ڈھیر کے علاوہ آہ و فغاں کے مناظر ہرسوں نظر آتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ سانحہ میں جاں بحق ہوئے فاروق احمد بیگ جو انکا ہمسایہ بھی تھا نے ابتدائی طور پر گولیاں چلانے کے بعد چلایا کہ پاپا بچو گولیاں چل رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ فاروق احمد بیگ مجھے پیار سے پاپا کہتا تھا تاہم مجھے بچنے کی صلاح دیتے دیتے فاروق ہی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ سانحہ کی روداد بیان کرتے ہوئے چشم دید بیگ نے بتایاکہ اس شہری قتل عام میں 77افراد از جان ہوئے اور 300کے قریب زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرسوں جنازوں کے مناظر نظر آرہے تھے جبکہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کس کس جنازے میں شرکت کرے اور کس کس زخمی کی عیادت کی جائے۔ غلام قادر بیگ نے نمائندہ سے مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسی پر بس نہیں ہوا بلکہ فورسز اہلکار گھروں میں داخل ہوئے اور انہوںنے ہر طرف لوٹ مار مچا دی اور بقول انکے ایک ہی گھر کے کئی افراد کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چار دنوں تک کسی نے بھی علاقے میں اپنے گھروں کے چولے نہیں جلائے اور کھانے پینے سے بھی باز رہے جبکہ ہرسوں ماتم اور کربلاء جیسے صورتحال نظر آرہی تھی ۔ غلام قادر بیگ جن کی عمر اس وقت 73برس کے قریب ہے کا کہنا ہے کہ وہ تباہی اور بربادی کے اس دن کو زندگی بھر نہیں بول پائیں گے کیونکہ جہاں میر واعظ کشمیر محمد عمر فاروق ان سے جدا ہوئے وہی ہمسایہ ، رشتہ داروں اور آس پڑوسیوں کے دورجانے سے جو کسک اور گھٹن انکے دل میں ہے وہ مرنے کے بعد ہی دور ہوجائے گی۔اس سانحہ میں بچنے والے ایک اور شہری فاروق احمد نے بتایا’’ہر سو جہنم نظر آرہا تھا،میں نے فورسز کو مشین گنوں سے شہریوں پر گولیاں چلاتے دیکھا،اور ہر سو صرف لاشیں بکھری تھی،اور سڑکیں و گلیاں و کوچہ خون میں غلطان تھے۔ اعجاز احمد نامی ایک اور چشم دید کا کہنا ہے کہ شہر خاص ماتم کدے میں تبدیل ہوچکا تھا،اور جنت جہنم نظر آرہی تھی،ہر سو آہ و فغان،ماتم،چیخیں،شور،رونے،بلکنے کی آوازیں اور مرجھائے چہرے نظر آرہے تھے،اور پائین شہر کے درجنوں علاقے ماتم میں مشغول تھے۔مختہ بیگم نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا ’’میرے فرزند کو میری آنکھوں کے سامنے گولی مار دی گئی،ان کا کہنا ہے کہ،اس دن سے جیسی میری خوشیاں ہی درگور ہوگئی۔