قومی وحدت

فسطائی طاقت بمقا بلہ ٔ مسلم ا قلیت

22 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد عاقب وانی ۔۔۔۔ راجوری
 ہندوستان  میں صدیوں سے ہندو مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگ معاشرے میں آپسی بھائی چارا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھ کے دنیا کو مذہبی بھائی چارے کی مثال پیش کرتے آ رہے ہیں۔ یہ اسی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا نتیجہ تھا کہ 1947 میں بھارت تمام لوگوں کی محنت اور قربانیوں سے انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا اور ایک آزاد اور جمہوری ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر اپنی جگہ بنا سکالیکن انگریزوں نے جاتے جاتے بھی ہندوستانیوں کو مذہب کے نام پر بانٹ ڈالا اور ان کے دل میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کر دی اس کے پیش نظر 1947 میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں لاکھوں کی تعداد لوگو مارے گئے اور جو بچے یا تو وہ پاکستان کوچ کر گئے یا ہندوستان آئے ۔ یہ سلسلہ ہندستان اور پاکستان دو ملکوںکے وجود میں آنے کے بعد تھم گیا اور حالات پہلے کی طرح معمول پر آ گئے۔  بہر صورت ہندو مذہب میں گائے کو ایک مقدس جانور کے طور پر مانا جاتا ہے اور اسے پوجا بھی جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے ماتا کا درجہ حاصل ہے۔ ہندستان کی ایک بڑی آبادی کی عقیدت گائے کے ساتھ وابستہ ہے اور جس طرح 1857 کی پہلی جنگ آزادی میں گائے کو استعمال کر کے انگریزی حکومت نے ہندو اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تھی، ٹھیک ویسے ہی 2014 میں ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والی کیسریا جماعتوں نے گائے کو سیاسی ہتھیار کے طور استعمال کر کے معاشرے کو ہندو و مسلمان میں تقسیم کرنے کی کوششیںکیں جن میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ 2014 سے قبل گائے کا ذکر مذہبی حلقوں میں ہی ہوتا تھا، البتہ قومی انتخابات سے قبل گائے کا مسلٔہ ہندستان کی سیاست میں ایک اہم مسلٔہ اُبھر کر سامنے آیا اور 2014 سے اب تک کئی قومی و علاقائی اخباروں کی سرخیاں بنتا جا رہا ہے اور گائے کے نام پر قتل و تشدد کے واقعات عام سی بات بن کر رہ گئے ہیں۔ مودی حکومت کے وجود میں آتے ہی دائیں بازو کے عناصر نے ہندوستانی مسلمان، عیسائی اور دلت طبقہ سے وابستہ افراد کے خلاف گاؤ رکھشا کے نام پر دن دھاڑے تشدد و حملہ شروع کر دیا جس کے نتیجے میں اب تک درجنوں افراد کو سر عام قتل کر دیا گیا اور ملک بھر میں اقلیتوں کے دل میں خوف و دہشت پیدا کر دی گئی۔ نہ جانے کتنے مسلمانوں کو محمد اخلاق و پہلو خان کی طرح قتل کر دیا گیا اور کسی کے خلاف کوئی قانونی کاروئی دیکھنے کو نہیں ملی اور ایسا لگنے لگا کہ ہندستان میں کسی مسلمان کو گاؤ رکھشا کے نام پر قتل کر کے ووٹ حاصل کرنا اس ملک کی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہندستان کے مختلف شہروں میں گاوؤرکھشا کے متعدد پُر تشدد رضاکار گروہ سرگرم ہیں جو قانون کی دھجیاں اُڑانے کے باوجود بھی آزاد گھومتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق آر ایس ایس، وی ایچ پی، بجرنگ دل وغیرہ جیسی جماعتوں سے ہے جنہیں حکومت کی خامو ش آشیر باد اور تعاون حاصل ہے۔ اگر کسی گاؤ رکھشک کے خلاف مقدمہ درج بھی ہو جائے تو اس کی قانونی امداد کے واسطے کئی جوشیلے غصیلے لوگ اور وکلا سامنے آتے ہیں اور جو لوگ انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں انہیں ملک مخالف قرار دے کر پاکستان جانے کو کہا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندستان کی حزب اختلاف بھی اس سنگین مسلٔہ پر خاموش رہنا ہی پسند کرتا ہے کیوں کہ انہیں ملک مخالف ہونے کا خطاب لینا گوارہ نہیں۔ بھارت کی مرکزی سرکار کو بین الاقوامی سطح پر تب شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب مرکزی وزیر جینت سنگھ نے جولائی 2018 میں ہندتووادی بلوؤںکے ملزموں کو پھول مالائیںپہناکرگویا ان کے بُرے کام کی سراہنا کی۔ بد قسمتی یہ رہی کہ بھارت سرکار جو دنیا کی سب سے پڑی جمہوریت اور امن پسند ہونے کا دعوی کرتے نہیں تھکتی ،اس ایک مرکزی وزیر کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی نہیں کر سکی۔اس طرز عمل سے گاؤ رکھشا کے نام پر قتل کرنے والے انسانیت کے مجرموں کو اپنا حیوانی ایجنڈا سرانجام دینےمیں مزید حوصلہ بڑھے گا۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جس طرح مارچ 2019 میں پاکستان کے صوبائی وزیر فیض الحسن چوہان کو ہندؤں کے خلاف توہین آمیز رائے زنی کے پادا ش میں وزارت سے نکال دیا گیا تھا ۔ ویسے ہی جینت سنگھ کو بھی وزارت سے برخواست کر دیاجاتاتاکہ ملک میں نظام قانون، اقلیتوں کی عزت و انصاف کے زندہ ہونے کا ثبوت ملتا۔ اگست 2014 سے لے کر مئی 2019 تک درجنوں پر تشدد واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں ہندستان کی دیگر ریاستوں کے ساتھ ساتھ مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر بھی شامل ہے جہاں ضلع ڈوڈہ کی تحصیل بھدرواہ میں ایک شخص کو گاؤ رکھشا کے نام کر قتل کر دیا گیا۔ اس سے قبل ریاست جموں و کشمیر بالخصوص صوبہ جموں میں مسلمانوں کو کئی مرتبہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، اس میں 2015 میں ایک 18 سالہ ٹرک ڈرائیور زاہد احمد کو ادھم پور کے قریب پیٹرول بمب سے جلا کر ہلاک کر دیا گیا اور خانہ بدوش گوجر بکروال طبقہ کو بھی اس دہشت گردی کا شکار ہونا پڑا۔ اتنا سب ہونے کے باوجود بھی ریاست کے عوام بالخصوص اکثریتی طبقہ نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے روایتی بھائی چارہ قائم ودائم رکھا۔ موجودہ دور میں سیاسی و سماجی حلقوں میں موب لینچنگ(Mob Lynching)، گاؤرکھشا (Cow Vigilantism) جیسے الفاظ عام گفتگو کا حصہ بن چکے ہیں اور نہ صرف تعلیم یافتہ لوگ بلکہ اَن پڑھ لوگ بھی ان الفاظ کی سمجھ رکھتے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ان پُر تشدد واقعات سے دو قومی نظریہ کے پیروکار اس نظریہ کے تائید میں ان واقعات کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ بھارت میں جاری اس زعفرانی  زیادتیوں کے خلاف جہاں دنیا بھر کے ممالک سمیت یو این اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا تیکھا رد عمل سامنے آ رہا ہے، وہیں بھارت کے موجودہ وزیر اعظم مودی جی اس سنگین مسئلہ یا شدید بحران پر خاموش ہیں جیسے2002  میں گجرات دنگوں پر انہوں نے آج تک سکوت ِلب نہیں توڑا ۔ ہر قومی لیڈر اور حکومتی سربراہ کی یہ ذمہ داری بنتی یہ ہے کہ اپنے منصبی فرائض بنا کسی بھید بھاؤ اور مذہبی تعصبات سے بالاتر ہوکرادا کریں اور مسلم اقلیت سمیت دوسری اقلیتوں کے جمہوری حقوق کا تحفظ من وعن یقینی بنائیں۔ اگر یہ لوگ ووٹوں کی خاطر ایسی منفی سیاست بازی کر تے رہیں گے تو وہ دن دور نہیں جب تاریخ خود کو دہرائے گی اور ہندستان صدیوں طویل خسارے سے دوچار ہوکر رہے گا۔ بایں ہمہ عوام کو اپنے درمیان اُخوت ، یگانگت اور محبت کی مشعلیں فروزاں رکھناہوں گی ۔ 
 رابطہ   9107990793 
 

تازہ ترین