اصلاح معاشرہ!

کہ خفتہ ضمیری ترک کر نی ہو گی

23 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نورہ بانو(طالبؔ سوپوری)۔۔۔ ہائیگام سوپور
 آج کل سوشل میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور دیگر ذرائع سے یہ تلاطم خیز خبریں آتی رہتی ہیں کہ وادی کشمیر میں کہیں کہیں معصوم بچے اور بچیاں منشیات کی لت میں بہک گئی ہیں۔ اخباری اطلاع ہے کہ ستر ہزار لڑکے اور ساڑھے چار ہزار لڑکیاں اس کربناکی میں مبتلاہے۔ ایک سنسنی خیز انکشاف بھی یوں ہوا ہے کہ ہر روز تین سے چار لاکھ روپے کی منشیات کی اشیاء شمالی کشمیر سے جنوبی کشمیر تک پہنچائی جاتی ہیں اور اسے سکولوں، کالجوں ،ہسپتالوں ، پارکوں اور پولیس اسٹیشنوں کے ارد گرد فروخت کیا جارہا ہے۔ تعجب کا مقام ہے کہ یہ زہر خریدنے والے بھی ہم ہیں اور بیچنے والے بھی ہم ہی۔ واقعی ’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘ کے مصداق صورت حال بنی ہوئی ہے ۔۔ آج سے دس بیس سال قبل معاشرے میں گھرانوں کی اکثریت بہت دیندار اور بااخلاق تھی جب کہ آج ہمارے معصوم وکم سن بچے بچیاں میں  قعر مزلت میں دھنستی چلی جارہی ہیں۔ کہیں ہیروئن کی سمگلنگ ، کہیں اُم الخبایث کا دور، کہیں چرس گانجا اور حشیش کا شور، کہیں ڈرگس اور نشہ آور انجکشن  ارزاں شئے کی طرح ہمارے جگر پاروں کے ہاتھوں میں انسان دشمنوں کے ذریعے تھمادی جارہی ہے۔ افسوس صد افسوس اگر سولہ سال سے تیس سال کی عمر کے بچےCream of the Societyاس خباثت کے شکار ہوں ہیں۔
 اللہ تعالیٰ نے مسلم معاشرے میں مردوں اور عورتوں ہر ایک کے لئے ایک پاکیزہ دائرہ عمل متعین فرمایا ہے ۔ اندرون خانہ معاملات عورتوں کے حصے میں اور بیرون خانہ معاملات مردوں کے سپرد کئے ہیں۔ اندرون خانہ بچوں کی تعلیم وتربیت کافریضہ ماں کے مقدس ہاتھوں میں سونپا ہے۔ بچہ ایک ننھی سی لچک دار شاخ کی طرح ہوتا ہے، اُسے شروع میں ماں باپ جدھر چاہیں ،موڑ سکتے ہیں۔ جب وقت کا سفر جاری رہتا ہے تو پھر یہی بچہ لکڑی کی طرح سخت ہوتا ہے کہ اُس وقت اسے کسی اور قالب میں موڑا نہیں جا سکتا اور اگر کوئی اسے وقت گزرنے کے بعد ٹھیک کر نے بیٹھے تو یہ لکڑی صرف ٹوٹ سکتی ہے، یعنی بڑے ہوکر بچوں کی بری عادتیں پختہ ہو کر ان کی شخصیت کا جزولاینفک بن جاتی ہیں کہ پھر ان کی اصلاح ہونا دشوار ہوتا ہے ۔ بیرون خانہ مرد پربحیثیت ایک قوام کے ( گھر اور گھروالوںکی دیکھ بھال کرنے اور رہنمائی کر نے والے والے) قرآن وسنت نے کافی ذمہ داریاں عائد کردی ہیں جن کو پورا کر نے میں اس کی پوری عمر اور صلاحیتیں استعمال ہو جاتی ہیں۔ اگر وہ صاحب اولا دہے تو اسے اپنی شریک حیات سمیت یہ اہم فرض نبھانا ہے کہ بچپن سے ہی اپنے جگر گوشوں کو علم دین اور مروجہ تعلیم  دونوںسے روشناس کرے تاکہ اس کی دنیا بھی خوش گزراں ہو اور وہ آخرت کی سر خ روئی بھی حاصل کر ے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ہماری نئی نسل بڑی تیزی دینی شعور کھوکر گمراہی کی طرف بڑھ رہی ہے، معاشرے میں برائیاں مسلسل پھیل رہی ہیں، غلط کاریاں فروغ پذیر ہورہی ہیں۔ نتیجتاً ہماری جواں پود اخلاقی حُسن وجمال سے محروم ہورہی ہے۔ ا س کے پیچھے بہت ساری وجوہات کا رفرما ہیں،ان میں ایک اہم وجہ یہ ہے کہ شاید نئی پود کو تعلیم وتربیت اور اپنے مذہبی تعلیمات سے آگاہی دینے والی ماں اپنا کردار فراموش کر چکی ہے۔
آج سے نصف صدی قبل ہمارے معاشرے میں گھروں کی اکثریت بہت دیندار اور شاندار ہوا کرتی تھی ۔ ایک اَن پڑھ ماں بھی اللہ اللہ جیسی  لوریاں سنا کر ہی اپنے بچوں کو سلاتی تھی۔ بچے کااخلاقی شعور بیدار کرنے کے لئے اُسے درس گاہ بھیجا کرتی تھی۔ مجھے اپنے بچپن کی بہت ساری باتیں یاد ہیں کہ جب ہمارے والدین ہمیں ’’مکتب صباحی‘‘ اور ’’مکتب شبینہ‘‘ خانقاہ محلہ سوپور میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا کرتے تھے ، وہاں ہمیں قرآن پاک ، کریما نام حق او راخلاقی درسات پر مبنی چھوٹی چھوٹی کتابچے پڑھائے جاتے تھے۔ اتوار کو درس گاہ کی طالبات کے لئے دینی اجتماع میں حاضر ہونا لازمی ہوتا تھا۔ بدقسمتی سے آج کی مائیں دین کی تعلیم سے ہٹ کر صرف مروجہ تعلیم کی طرف زیادہ دھیان دے کر اپنے بچوں کو محض ڈگری یافتہ انگریز بنانا چاہتی ہیں۔ تین سال کے بچے کو نیکر اور ٹائی پہنا کر انگریزی ا سکولوں میں ایڈمشن کراتی ہیں اور بچوں کو اسی رنگ میں رنگ دینے کے خواب دیکھتی ہیں۔ ا س طرح عملاً دین مبین سے دُور رہ کر ہمارے بچے پستیوں کے اَتھاہ سمندر میں ہچکولے کھا رہے ہیں۔ دراصل والدین کی تغافل شعاری، تساہل پسندی اور تہذیب ِمغرب کی اندھی تقلید ہی  ہمارے اخلاقی تنزل کے ا سباب ہیں۔
اپنے معاشرے کی اس تباہی وبربادی میں ہم کن کن اسباب کو موردِ الزام ٹھہرائیں، فہرست لمبی ہے ۔ خاص کر والدین اپنی اولاد کی عاقبت سے الا ماشاء اللہ بالکل ہی بے پرواہ ہوگئے ہیں۔ وہ اِن بچوں کی اُٹھتی جوانیوں سے بے فکر اور حلال وحرام میں تمیز کئے بغیر محض دُنیا کے حصول میں مگن ہیں۔ بات اتنی ہی نہیں بلکہ میری دانست میں سماج کا ہر ذی شعور فرد اس تباہی میں شریک ِکار ہے۔ مثلاًمحلے والوں کی علمیت میں یہ سب کچھ  ہوتاہے کہ فلاں فلاں بچہ نشے کی دُھت میں پڑا رہتا  ہے کہ نہ انہیں دن کے اُجالے کی خبر اور نہ رات کے اندھیرے کا احساس ہے تو کیا بحیثیت نیک و خیرخواہ ہمسائیگان ہم پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ ایسے بچوں کے والدین سے اصلاح احوال کے لئے ناصحانہ بات چیت کریں؟ ہاں  عقل مندی کے ساتھ ضرور کریں اور ا س دینی فریضے کی ادائیگی میں پیچھے نہ رہیں چاہے نتائج جو کچھ نکلیں۔ کم ازکم آپ اللہ کی بازپُرس سے بچ تو جائیں گے  ایمہ مساجد کا بھی فرض ہے کہ وہ ہر جمعہ کے خطبہ پر بچوں اور بچوں کے والدین کو حق وباطل میں تمیز کرنے کے اسلامی طور طریقے سکھائیں۔ ہم تو اللہ کے پیارے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ خدارا! اس قوم کی نیا بد اخلاقیوں کے سمندر میں ڈوبنے سے بچالیں۔یہ میرا بھی فرض ہے اور یہ آپ کا بھی فرض ہے ۔ علاوہ ازیں استاتذہ کرام پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اسکول اسمبلی پر بچوں کے بیگوں کی گاہے گاہے تلاشی لیں اور پورے ہوش وگوش کے ساتھ اُن کی غلطیوں کو سدھاریں اور ان کی عادات اور دلچسپیوں کے بارے میں اُن والدین کو بھی آگاہ کر تے رہیں۔ تباہیوں اور فتنوں سے بھرے ہوئے موجودہ معاشرے میں ابھی تک تمام ترحوصلہ شکنیوں کے باوجود قرآن و سنت پر چلنے والے صاحب ایمان مردوزن کی متعدبہ تعداد ہمارے درمیان موجود ہے۔ا گر یہ لوگ رفتہ رفتہ سماج کو ان بدیوں برائیوں گمراہیوں سے پاک وصاف کرنے میں مصرف عمل ہوجائیں گے تو انشاء اللہ  اصلاح ِ معاشرہ کی منزل دور نہیں رہے گی۔  ا س ضمن میںہر محلے میں محلہ اصلاحی کمیٹیاں قائم کی جائیں، دین کی طرف بچوں بچیوںکو راغب کرنے  کے موثر اقدامات کئے جائیں اور جو لوگ یہ فریضہ ادا کررہے ہیں ،ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کی کامیابی کے لئے دعائے خیر کریں کیونکہ اگر انہوں نے اس بھڑکتی ہوئی آگ پر اصلاح کا پانی ڈالا تو ہمارا آج اور ہمارا کل محفوظ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کام کی توفیق دے۔ آمین!
رابطہ :۔9858770000 

تازہ ترین