چوہدری غلام عباس

’’کشمکش‘‘ تاریخِ کشمیر کا آئینہ۔۔قسط2

25 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

غازی سہیل خان
’’میرے  نزدیک جیل میں جاناکوئی بڑی قربانی نہیں بلکہ سیاسی اسیروں کو تو یہاں مکمل آرام و اطمنان نصیب ہوتا ہے ۔بشرطیکہ گھروں کے دہندوں کی فکر نہ ہو ۔میں سات بار قید ہوا لیکن گھر کے دہندوںکو ہر بار ناقابل حل ہی چھوڑ آیا۔ایسے حالات میں بے سرمایہ سیاسی کارکنوں کو اپنی قربانی تو معمول ہوتی ہے اصل قربانی اُن کے متعلقین کی ہوتی ۔اور اگر اس ضمن میں کہوں گا کہ آج تک مجھ سے زیاد ہ قربانی میرے بیوی بچوں نے دی ہے تو یقیناًمبالغہ نہ ہوگا۔یہی حال میرے رفقاء کار کا تھا‘‘۔(ایضاً)
اُمت مسلمہ کا عموماً اور کشمیر میں خصوصاً جب کبھی بھی اُمت مسلمہ نے اکھٹا ہونے کی کوشش کی تو ذاتی اختلافات بنا پرا غیار ہم پر مسلط ہو گئے، اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر مسلم کانفرنس جیسے ہی اپنی پوری طاقت سے اُبھر کر عوام کی ہر دل العزیز جماعت کے طور سامنے آنے لگی تو کشمیر میں میر واعظ یوسف شاہ صاحب اور شیخ عبداللہ کے درمیان اختلافات شروع ہو گئے۔جہاں ان دونوں رہنماوں نے اسی پلیٹ فارم پہ یکجا ہو کر جابر حکومت کو للکارنا شروع کیا او ر مسلمانوں کے اتحاد کو بنائے رکھا، وہیں دوسری طرف اس تنظیم کے وجود کے اگلے سال ہی ان کے درمیان شدید قسم کا اختلاف شروع کر وایا گیا۔ان دونوں رہنماؤں کے اختلاف کی وجہ سے مسلمانانِ کشمیرکے کاز کو شدید نقصان پہنچا جس کا ذکر موصوف نے اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ کیا ہے ۔اس کے باوجود چودھری صاحب نیت اخلاص کے ساتھ مسلمانان جموں کشمیر کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے رہے ۔مرحوم شیخ عبداللہ کی فکر بھی اپنے اصل کی اور راغب ہونے لگی اور تاریخ کے ورق میں ایک ایسا دن بھی رقم ہوا کہ جس دن کسی رہنما نے بڑی بڑی قربانیوں ،جیل کی قید و بند کے باوجود بلا جواز25  جون1938ء میں مسلم کانفرنس کو نیشنل کا نفرنس میں تبدیل کر دیا۔نیشنل کانفرنس وجوود میں آنے کے بعد شیخ عبداللہ نے جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ راجوری اور پونچھ کے دورے کرنے شروع کر دئے لیکن راجوری اور پونچھ اور جموں کے مسلمانوں کی ہمدردیاں مسلم کانفرنس کے ساتھ ہی وابستہ تھیں ۔ شیخ صاحب کے راجوری دورے کے ایک واقعہ کو موصوف نے کچھ اس طرح سے رقم کیا ہے :
 ’’راجوری سے میری واپسی کے ایک ماہ بعد شیخ عبداللہ اپنی ہر دلعزیزی کے گھمنڈ میں پھر وہاں گئے ۔مگر جلسہ عام میں اس قدر پیٹے گئے ۔سر سے پاؤں تک لہو لہاں ہو گئے اور پولیس کی معیت میں راتوں رات وہاں سے بھاگ گئے ۔‘‘ (ایضاً) 
صاحب ِ تصنیف نے قائد اعظم محمد علی جناح کے دورۂ کشمیر کو بھی تفصیل کے ساتھ درج کیا ،جس میں قائد اعظم ؒماہ مئی 1944ء میں قائد مسلمانان ہند اور صدر آل انڈیامسلم لیگ کی حیثیت سے کشمیر وارد ہوئے ،جموں اور سرینگر میں مختلف مقامات پر قائد اعظم ؒکے پروگرامات منعقد ہوئے ۔بانی پاکستان کی آمد کے سلسلے میں نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس نے پر جوش استقبال کیا۔الغرض زیر مطالعہ کتاب کشمیر کی سیاسی تاریخ میں اپنا ایک اہم مقام رکھتی ہے جس میں تاریخ کے تلخ و شرین گوشوں کو مختلف انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس اور شیخ عبداللہ کا اسلام سے قوم پرستی کے سفر کو بھی مرحوم چودھری صاحب نے پیش کیا ہے ۔ اس بار ے میں ایک جگہ آپ یوں رقم طراز ہیں :
 ’’تحریک’’ تخلیہ کشمیر‘‘کے سلسلہ میں ایک اور اہم بات قابل ِ ذکر ہے کہ شیخ صاحب نے اس وقت اور اُس کے بعد آج تک دنیا کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی کوشش کی ہے کہ اُن کی تحریک غیر فرقہ وارانہ تھی اور وہ خود روز اول سے پکے قوم پرست تھے۔امر واقع یہ ہے کہ شیخ محمد عبداللہ صاحب نے اپنی سیاسی زندگی ایک اشد اور کٹرفرقہ پرست کی حیثیت سے شروع کی اور جب اُنہوں نے تحریک کے آخری ادوار میں قوم پرستی کی قبا اوڑھ لی تو محض ہوا کا رُخ دیکھ کر ‘‘ (ایضاً) 
اسی جدوجہد اور قربانیوں کی لازوال داستان کے دوران ہی متحدہ ہندوستان دوالگ الگ ٹکروں میں بٹ گیا اور برصغیر میں اسلام کے نام پر ایک آزاد مملکت پاکستان وجود میں آگیا۔تاہم جموںو کشمیر کی عوام کو شاید اس کی خبر بھی نہیں تھی کہ متحدہ ہندوستان کے دو لخت ہونے کی سزا بھی جموں کے نہتے مسلمانوں کو ہی بھگتناپڑے گی ۔ حکومتی سطح پر جموں کے مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کے نا م پر گاڑیوں اور ٹرکوں میں بھر بھر کر بڑی ہی بے دردی کے ساتھ کھلے میدانوں اور ویرانوں میں لے جاکر شہید کر دیا گیا اور خواتین کی عصمت ریزی کے ساتھ ساتھ اُن کے ساتھ جبراً شادیاں رچائی گئیں۔اسی درد و الم کو مرحوم چودھری غلام عباس نے اپنی اس خود نوشت کے آخرمیں ان الفاظ میں نقل کیا ہے :
 ’’ریاست میں ہماری آخری قید کے زمانے میں خوشگوار اور ناخوشگوا دونوں قسم کے کئی انقلاب آئے ۔پاکستان بنا،مشرقی پنجاب اور ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔گو میں نے اس خونی ہولی کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھالیکن جیل کی چار دیواری کے اندر بیٹھ کر مارنے والوں کی گولیوں کی آوازیں مرنے والے مظلوموں کی اخری چیخیں ،اغوا ہونے والی سینکڑوں معصوم دوشیزائوں کی بے اثر آہیں اورفریادیں ایک مجبور قیدی کی حیثیت میں کلیجہ تھام کر اپنے کانوں سے سنی ۔‘‘ (ایضاً)
تاریخی مرقع ’’کشمکش‘‘ میں جہاں ہر صفحہ عزیمت اور قربانی سے پُر ہے ،وہیں قاری کے جذبے اور حوصلے کو ثبات بھی ملتا ہے ۔مرحوم مو صوف نے انتہائی خلوص کا مظاہرہ کر کے ہندوستان کی تقسیم تک جموں کشمیر کے مسلمانوں کی بقا ء کی جنگ لڑی۔ کتاب میں مجھے یہ بات محسوس ہوئی کہ چودھری صاحب شیخ صاحب کی پالیسی اور نظریہ کا مقابلہ کرنے میں کسی حد تک چوک گئے ،وہ اس لئے کہ شیخ عبداللہ کے مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میںتبدیل کرنے کے بعد مرحوم چودھری صاحب مسلم کانفرنس کو عوامی سپورٹ اور قربانیوں کے باوجوود اپنے مقصد تک نہیں پہنچا سکے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ چودھری غلام عباسؒ کی قربانیوں اور ان کے جذبے کو فراموش کیا جائے۔ موصوف کی قربانیاں اور انتہائی بے باکی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔ کشمیر بک فاونڈیشن نے سال 2017ء میں’’ کشمکش ‘‘کا ایک ایڈیشن سرینگر سے شائع کیا ہے ۔
رابطہ ۔ghazisuhail09@gmail.com
 

تازہ ترین