تازہ ترین

’’چشمِ بلبل‘‘

کشمیر کہانی پر پنجابی ناول

25 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ابھے سنگھ۔۔۔ چنڈی گڑھ
 کشمیر   وادی کے ترال علاق میں پیدا ہوئی، سرینگر میں پڑھی اورشادی کے بعد جموں میں مقیم پنجابی کی شاعرہ اور افسانہ نگار بی بی سُر یندر نیرؔ کا پنجابی ناول ’’چشم بلبل‘‘ اسی سال شائع ہوا ہے۔ پنجابی ادیب خالد حسین نے اس کے تعارف میں لکھا ہے کہ’’ یہ کشمیر کی صدیوں پرانی تواریخ سے لے کر موجودہ بدامنی کے ماحول میں بسر کرنے والے لوگوں کے کئی رنگ پیش کرتا ہے‘‘۔ان رنگوں میںشدت پسندی کے علاوہ کشمیری سماج کا پچھڑاپن،خاندانوں کے جھگڑے،عورتوں پر جسمانی تشدد،نشہ بازی، بے وفائی اورجسمانی ہوس شامل ہیں۔ ان باتوں کے ذکر میں کشمیری زبان کے گیتوں کو پنجابی رسم الخط میں پیش کرنے سے ناول کو خاص خوبصوتی ملی ہے۔
 اس ناول کا عملی کردارکشمیر کا قدیمی اور عظیم فنی شاہ کار ’’کانی شال‘ ‘ ہے۔ صدیوں تک اس کا نام کشمیر سے جُڑا رہا اور کشمیر کا اس سے۔یہ بہت ہی اعلیٰ قسم کی پشمینہ سے بنتا ہے۔ اس پر بہت باریک کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔ اس پر آم کی شکل کی بہت سارے رنگو کی ایک پتّی کی بھرمار ہوتی ہے۔ کابل کے دربار میں بہت بحث کے بعد اس کو آنکھ سے تعبیر کیا اور اس کا نام بُلبُل کی آنکھ یعنی ’چشمِ بُلبُل‘ رکھا ۔
کانی شال کی تواریخی اہمیت بتاتے ہوئے ناول نگارہ اس بات کا ذکر کرتی ہے کہ امرتسر بیع نامہ میں اور شرطوں کے ساتھ ایک شرط یہ بھی تھی کہ گلاب سنگھ ڈوگرہ ہر سال انگریز حکومت کو تین جوڑے کانی شال کے دے گا۔یہ شال ہاتھ سے ہی بن پاتی ہے اور ایک شال کو بنانے میں کئی مہینے اور بعض اوقات ایک سال بھی لگ سکتا ہے۔ بھلے زمانے میں بھی اس کی قیمت چالیس پچاس ہزار تک ہوتی تھی اور یہ یورپ کے شاہی محلوں تک بھی پہنچتی تھی۔ کانی شال کے مستقبل کی کہانی ایک خاندان کی چار پشتوں کی کہانی کے ساتھ چلتی ہے۔
خاندان کی شروعات بابا اکبرعلی سے ہوتی ہے جو کانی گام کے ایک چھوٹے سے گھر میں اپنی بیوی جینت کے ساتھ رہتا ہے۔ ان کے ساتھ ان کا پوتا مصطفی اور پوتی گلالہ رہتے ہیں جن کے ماں باپ ان کے بچپن میں ہی پورے ہو گئے تھے۔اسی گاؤںمیں ان کی بیٹی بیاہی ہے جس کی ایک بیٹی ، پوشہ ما ل ہے۔ ایک بیٹا حسن بھی اسی گاؤںمیںرہتا ہے جس سے ا س کی اچھی نہیں بنتی۔ اکبر علی کا سارا دن کانی شال بنانے اور اس کا فن لوگوں کو سکھانے میں نکلتا ہے۔بابا اکبر علی کا دوسرا عشق سارنگی ہے۔ یہ اس کی ذہنی اُلجھنوں کی دوا بھی بنتی ہے۔ اسی لئے کتاب کے سرورق پر رنگ برنگی کشیدہ کاری سے بھری بلبل کی آنکھ کی تصویر کے اندر ایک بزرگ کو سارنگی بجاتے دکھایا گیا ہے۔ یہ ناول کے مرکزی موضوع کی صحیح ترجمانی ہے۔بچوں کو تعلیم دینا اکبر علی کے لئے بہت اہم تھا، اس نے اپنے پوتے اور پوتی کو سکول بھیجا۔اس نے سرکاری مدد سے کانی گام میںدست کاری کا یونٹ کھلوا دیا جس سے گاؤں والوں کو کام اور پیسہ بھی ملنے لگا اور کانی شال کا فن بھی آگے بڑھا۔
پھر ایک دن مصطفی اس گاؤںکی تواریخ کا پہلا بی اے پاس لڑکا بن گیا۔ سارے کانی گام میں خوشیاں منائی گئیں اور اکبر علی کو مبارک دینے والوں کی لائن ہی لگ گئی لیکن اکبر علی کا بیٹا تو شروع سے ہی ناراض تھا، اس کی بیٹی بھی مبارک دینے نہیں آئی۔آخر ایک دن مصطفی کی دادی شیرنی لے کر اپنی بیٹی کے گھر چلے گئی۔پاس ہونے کی خوشی بتانے کے ساتھ ہی اس نے مصطفی اور پوشہ ما لا کی شادی کی تجویز رکھ دی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ مصطفی اور پوشہ مالا ایک دوسرے کو چاہتے تھے لیکن یہ تجویز نہیں مانی گئی اور پوش مال کی شادی حسن کے بیٹے قادر کے ساتھ کر دی گئی جو اس سے دس سال بڑا لوفر، نشہ باز اور حد درجہ بُری صحبت والا تھا۔
پوشہ مالا کی دوزخ بھری شادی شدہ زندگی اس ناول کے سانحہ کا ایک اہم جز ہے۔ قادر کے دوستوں کی شراب کی محفلیں لگتی ہیں۔خاوند کے طور پر قادر انسان کی کھال میں خونخو ار درندہ ہوتا ہے۔اس کے لئے جسمانی رشتہ بھی روحانی نہیں جانوروں جیسی ہوس تک محدود ہوتی ہے۔ وہ مارتا پیٹتا اور نفرت سے بھر پور جبر ہی کرتا رہا۔دُکھ سنانے کے لئے ماں ہوتی ہے لیکن پوشہ مالا کی تو ماں ہی اس کو بولتی ہے کہ خاوند کو ایک بیٹا تو دے۔اُس کو خبردار بھی کرتی ہے کہ اگر بیٹا نہیں دیا تو اپنی چھاتی پر سوتن برداشت کرنی ہوگی۔اس خبرداری کے آگے لڑکی کے غصے کی انتہا دیکھئے۔ وہ بولتی ہے،’’ میں اُس کنجر کی اولاد پیدا کرنے کی نسبت ہزار سوتن برداشت کر سکتی ہوں۔ بس اپنی چھاتی پر اُس سانپ کی اولاد نہیں برداشت کر سکتی، کبھی نہیں۔ماں کو گہرا صدمہ لگتا ہے کہ لڑکی خود ہی ایسا نہیں ہونے دے رہی۔غصے کی انتہا کے بعد وہی لڑکی ٹوٹی محبت کے گہرے جذبے میں بھی انتہائی لفظ بولتی ہے۔ مصطفی کو طعنہ دیتی ہے کہ’’ ظالم بندے! اگر تو میرے کو چھو لیتا اور میرا بوسہ لے لیتا تو قسم خدا کی میں حاملہ ہو جاتی‘‘۔ آخر میں پوشہ مالا قادر سے تین بار طلاق سن کر اطمینان محسوس کرتی ہے۔
آگے چل کر مصطفی کی بہن شادی کے بعد سرینگر سسرال میں چلے جاتے اور ان کے دادا ، دادی جہانِ فانی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد مصطفی کی شادی ہو جاتی ہے اور ان کے گھر پہلے ایک بیٹا دانش ہوتا ہے اور پھر ایک بیٹی جس کا نام مصطفی ’’چشم ِبلبل‘‘ رکھتا ہے۔اُدھر قادر اور اس کے شرابی گروہ کی دشمنی پہلے بابا اکبر علی سے تھی، پھر مصطفی سے ہوئی اور اب کانی شال جیسے عظیم کشمیری فن سے بھی ہو گئی۔ انہوں نے مشینی کشیدہ کاری کروا کر نقلی شالوں کو اصلی بتا کر بیچنا شروع کر دیا۔ اس طرح اصلی شالوں کی تجارت کو بہت چوٹ لگی۔ مصطفی نے پولیس کے چھاپے لگوا کر قادر کا مال پکڑوایا۔ اس سے دشمنی اور کشیدگی بڑ گئی۔مایوس رہتے مصطفی کے لیے اس کا جوانی کی سیڑھیاں چڑھتا بیٹا دانش اُمید کی کرن تھا۔وہ تعلیم میں بہت آگے رہتا اور ماں باپ کی بھی ہر کام میں مدد کرتا۔مصطفی کا کام پھر اچھا چلنے لگا، اس کے کاریگر بھی خوش تھے، گاؤں والے اور اُس کے گھر والے بھی لیکن قادر جلن اور عداوت سے جل رہا تھا۔ اس نے اپنے دوستوں سے کہا کہ دل کرتا ہے کہ مصطفی کے کارخانے کو آگ لگا دوں۔ایک دوست نے کہا: ’’اس کی ضرورت نہیں ہوگی، ہم ایسا آگ لگاینگے جو بُجھے گی ہی نہیں اور سب کچھ راکھ ہوتا جائے گا‘‘۔ قادر نے حیران ہو کر پوچھا کہ ایسی آگ کونسی ہے تو جواب سن کر سب خوش ہوئے اور جشن کی تیاری کرنے لگے۔اب کشمیر کو ایک نئی وبا نے گھیر لیا تھا۔کتابوں کی جگہ بندوق لینے لگی اورخوبصورت لڑکوں کی کشش بنی۔ہر ماں باپ اپنے جگر کے ٹکڑوں کے لئے فکرمند تھا۔ بہنیں بھائیوں کے لئے اور عورتیں اپنے سر تاج شوہروں کے لئے۔ جب کوئی گھر سے باہر جاتااور واپس نہیں لوٹ آتا تو گھروالوں کے دل ڈوبنے شروع ہو جاتے۔ماں باپ مفروربیٹے کی گھر واپسی آنے کے لئے تڑپتے رہتے، سارا کنبہ کسی منحوس خبر کے انتظار میں مہینوں برسوں سسکیاں لیتا اور جب وہ جانکاہ خبر آ جاتی تو ہر کوئی زور زور سے سر پیٹ کر بیٹھ جاتا۔ایک دن دانش بھی کاغذ کا ایک ٹکڑا لکھ کر گھر سے فرار ہو گیا اور سرحد کے پار چلا گیا۔کاغذ کے پُرزے پر لکھا تھا ’’ آپ کو میری موت پر فخر ہوگا کہ آپ کا بیٹا اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے قربان ہوا ہے‘‘۔جب دانش سرحد سے واپس آتا ہے تواس کے پیر برف میں دھنس کر ناکارہ ہو تے ہیں، کئی دن گھر میں ہی ا س کا علاج ومعالجہ چلتا رہتا ہے مگردانش کے پیروں کا علاج نہیں ہو پا تا۔ہمسایہ گاؤں سے چوری چھپے آنے والے ڈاکٹر نے بتا دیا کہ اس کو شہر کے بڑے ہسپتال میں لے جا کر پیر کٹوا کر زندگی بچانی ہوگی، یہ بہت مشکل کام تھا۔ مصطفی کسی سے صلاح مشورہ کرنے اور شہر لے جانے کے بندوبست کرنے گام میں گیا۔ دریں اثناء اچانک گولیوں کی آواز فضا کی خموشی توڑ دیتی ہے۔ وہ دوڑ کر واپس آیا تو نقاب پوش گھر سے نکل کررہے تھے۔ وہ اندر گیا تو سارے کمرے میں خون ہی خون پایا۔ دانش اور اس کی ماں ختم تھے اور چشم ِبلبل زخمی۔
مصطفی کا کارخانہ تو پہلے ہی خالی ہو چکا تھا، اب اس کا گھر بھی خالی ہوچکا تھا۔ ایک کنارے کھڈی پر نا مکمل شال لگی ہوئی تھی،ایک دیوار پر اس کے دادا کی سارنگی لٹک رہی تھی اور فرش پر خوف زدہ چھوٹی سی چشم ِبلبل بیٹھی چاروں طرف دیکھ رہی تھی، خالی آنکھوں سے۔
ناول نگار نے کشمیر کی سبھی دُکھتی رَگوں پر انگلی رکھنے کے بعد اس سب سے زیادہ دُکھنے والی رَگ پر آخری صفحات میں انگلی رکھ کر کہانی کو اہم ترین مقام دیا ہے۔ مصنفہ نے کشمیری سماج کے اندر کے دُکھ دردکی بات کی ہے اور اِس کے ساتھ ہی کانی شال کے عظیم فن کی گراوٹ کا غم بھی کامیابی کے ساتھ اُجاگر کیا ہے۔ ناول نگار نے کانی شال پر کشیدی بہت سارے رنگوں کی بے جان آنکھ اور مصطفی کی بیٹی کی بے رنگ لیکن جان دار آنکھ میں آنسو ؤں کے سیلاب چھلکتے محسوس کئے ہیں اورقارئین کو بھی کشمیر کتھا پررُلایا ہے۔
رابطہ 98783 75903