تازہ ترین

پائین شہر میں سخت ترین کرفیوسے ہو کا عالم

آبادی محصور ،جامع مسجد میں مسلسل دوسرے جمعہ کو بھی نماز ادا نہ ہوسکی

25 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//جامع مسجد سرینگر کو ماہ رمضان میںمسلسل دوسرے ہفتے نماز جمعہ کی ادئیگی کیلئے بند رکھا گیاجبکہ شہر خاص میں غیر اعلانیہ کرفیو کے نفاذ کے نتیجے میں لاکھوں آبادی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی۔ جنوبی کشمیر کے ترال میں فورسز کے ساتھ معرکہ آرائی کے دوران انصار غزوۃ الہند کے کمانڈر ذاکر موسیٰ کے جان بحق ہونے کے پس منظر میں جمعہ کو پائین شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ پائین شہر کے مہاراجہ بازار، خانیار، نوہٹہ، صفاکدل، رعناواری کے تحت آنے والے علاقوںمیں کرفیولگاگر لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔جامع مسجد،نوہٹہ،گوجوارہ،راجوری کدل، صراف کدل، بہوری کدل، ملارٹہ اور جامع مسجد کے گرد نواح میں بڑے پیمانے پٔر فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھاجبکہ پولیس اورفورسزکی ٹکڑیوں نے شہرخاص میں بالخصوص تمام اہم رابطہ سڑکوں پرخاردارتاریں ڈالکرگاڑیوں اورپیدل آواجاہی کوناممکن بنادیا۔شہرخاص کے لوگوں نے بتایاکہ اُنھیںجمعہ کوسحری سے ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔اس صورتحال کی وجہ سے پورے پائین شہر میں سناٹا اور ہوکا عالم چھایا رہا اور سخت ترین ناکہ بندی سے شہریوں کو اپنے ہی گھروں کے اندر قیدی بناکر رکھا گیا تھا۔کرفیو جیسی پابندیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سڑکوں ، گلی کوچوں اور نکڑوں پر تعینات پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے لوگوں کو سختی کے ساتھ گھروں سے باہر آنے سے منع کر دیا۔قمرواری سے صورہ تک جانے والی سڑک پر مختلف مقامات پر پولیس نے خار دار تاریں نصب کی تھیں اور کسی بھی گاڑی کو صورہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی حتی کہ صورہ ہسپتال جانے والے مریضوں کو بھی واپس بھیجا جارہا تھا ۔ادھر نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے چھتہ بل تک مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔ اس روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ فجر نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد اس روڑ پر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے ۔ سیکورٹی فورسز نے نواب بازار، زالڈگر، راجوری کدل اور نوہٹہ میں بھی تمام اہم سڑکوں کو سیل کردیا تھا ۔کرفیو کے نتیجے میں ہو کا عالم تھا اور سڑکوں پرصرف فورسز اور پولیس اہلکار گشت کرتے نظر آ رہے تھے۔ اس دوران جامع مارکیٹ ٹریڈرس فیڈریشن کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کی کال کو بھی ناکام بنا دیا گیا،جبکہ کسی بھی شخص کو جامع مسجد سرینگر کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ سخت بندشوں کے چلتے تاریخی جامع مسجدکے اطراف واکناف میں اور مسجدکی جانب جانے والے سبھی راستے اورگلی کوچوں کو سیل رکھے گئے تھے ۔ جامع مسجد کے مین گیٹ کے سامنے بکتر بندگاڑی کو کھڑا کرکے مسجد کے احاطے میں بھی کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ نوہٹہ، گوجوار، رنگر سٹاف ، اور زندشاہ مسجد رعناواری میں جامع مسجد کی طرف جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو جمعہ کی صبح ہی مقفل کیا گیا،جس کے نتیجے میں اس مسجد میں ایک بار پھر اذان نہیں گونجی۔ ذرائع کے مطابق2010کی ایجی ٹیشن کے دوران مسلسل2ماہ تک اس تاریخ مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کی گئی،جبکہ2016کی ایجی ٹیشن کے دوران قریب5ماہ تک اس مسجد میں نماز کی ادائگی نہیں ہوئی اور جامع مسجد سرینگر مسلسل19ہفتوں تک بند رہی۔2017میں یہ سلسلہ جاری رہا اوراور مجموعی طور پر21ہفتوں تک جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی گئی۔2018میں بھی13مرتبہ اس روحانی مرکز کو نماز جمعہ کیلئے بند رکھا گیااور رواں سال کے دوران پانچویں ہفتے جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب کمانڈر برہان وانی کے جان بحق ہونے کے بعد ذاکر موسیٰ کے جان بحق ہونے150ہفتوں میں مجموعی طور پر جامع مسجد سرینگر کو58 ہفتوں تک نماز جمعہ کیلئے مقفل رکھا گیا۔