تازہ ترین

ذاکر موسی کو گیلانی اور صحرائی کا خراج عقیدت

25 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: میروسیم    )

نیو ڈسک
سرینگر//حریت (گ) چیئرمین سید علی گیلانی اور تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے معروف عسکری کمانڈر ذاکر موسیٰ کو خراج عقیدت ادا کیاہے۔ گیلانی نے کہا کہ جو لوگ شعور کی بیداری کے ساتھ اللہ کی سرزمین پر اللہ کا قانون نافذ کرنے کی جدوجہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے، انہیں قوم کا بیش بہا سرمایہ قرار ایکر عوام سے ان قربانیوں کی حفاظت کرنے کی دردمندانہ درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم کو اپنی مبنی برصداقت جدوجہد کے لیے یکسو اور یکجا ہوکر ہر سطح پر اپنے آپ کو تیار رکھنا ہوگا۔ گیلانی نے ٹہب پلوامہ میں ظہور احمد کو فورسز کی طرف سے بے دردی کے ساتھ ہلاک کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ظہور احمد کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ عسکری محاذ پر سرگرم ایک جنگجو کا بھائی تھا۔ ظہور احمد کی ہلاکت کو سیاسی انتقام گیری کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسطرح عسکریت پسندوں کے رشتہ داروں کو فورسز کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کا انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے۔ ادھر گیلانی کی ہدایت پر حریت (گ) کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بشمول مولوی بشیر عرفانی، بلال صدیقی اور یاسمین راجہ نے کولگام اور شوپیان میں حال ہی میں جاں بحق کئے گئے جنگجوئوں عرفان احمد بٹ اور یاور احمد ڈار کے آبائی گھر جاکر لواحقین کے ساتھ تعزیت پرسی کی اور گیلانی کا تعزیتی پیغام پہنچایا۔اس دوان محمد اشرف صحرائی نے معروف عسکری کمانڈر ذاکر موسیٰ اور ان کے ساتھی کے خونین معرکہ میں جاں بحق ہونے پر اُن کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ذاکر موسیٰ نے اسلام کی سربلندی اور آزادی کی خاطر اپنی اٹھتی ہوئی جوانی قربان کی۔انھوں نے کہا کہ کمانڈر ذاکر موسیٰ کسی مسلکی یا تنظیمی عصبیت کا شکار نہیں تھا بلکہ اسلام کا ایک مخلص سپاہی ہونے کی حیثیت سے انھوں نے اپنا سب کچھ اس راہ میں تج دیا ۔موصوف ایک ہونہار انجینئرنگ طالب علم تھا وہ اپنی تعلیمی ڈگری کو اپنی دنیا بنانے کے لئے اچھی طرح سے استعمال کرسکتا تھا ،مگر اسلام اور وطن کوتسلط سے آزاد کرنے کی پکار پر اُس نے اپنی اعلیٰ ڈگری خاطر میں نہ لاتے ہوئے عزیمت کی راہ اختیار کی ۔صحرائی نے نائرہ پلوامہ کے جنگجوعرفان احمد کے بھائی ظہور احمد شیخ کو فورسز کے ہاتھوں ہلاک کئے جانے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا۔