تازہ ترین

ذاکر موسیٰ کی ہلاکت | وادی اوربانہال میں ہمہ گیر ہڑتال

شمال و جنوب میں ہو کا عالم، متعدد مقامات پر جھڑپیں، انٹرنیٹ اور ریل سروس معطل

25 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: امان فاروق    )

بلال فرقانی
سرینگر//ترال کے ڈاڈ سرہ علاقے میں خونین معرکہ آرائی کے دوران  انصارالغزوۃ الہند چیف کمانڈر ذاکر موسیٰ کے جاں بحق ہونے کیخلاف ٹنل کے آر پار اور بھدرواہ میں بغیر کال مکمل ہڑتال سے عام زندگی کا پہیہ جام ہوا،جبکہ جنوبی کشمیر اور پائین شہر میں بغیر اعلان کرفیو نافذ کیا گیا۔ ہڑتال کے دوران سرینگر کے علاوہ بانڈی پورہ،سوپور،کولگام کے علاوہ دیگر علاقوں میں ٹیر گیس اور پیلٹ کا استعمال کیا گیاجس نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔انتظامیہ کے فیصلوں کے نتیجے میں تعلیمی ادارے مقفل رہے، یونیورسٹیوں کے امتحانات ملتوی کئے گئے، جبکہ بانہال، بارہمولہ ریل سروس کو معطل کر نے کے علاوہ پوری وادی میں انٹرنیٹ کو منقطع کیا گیا۔

ہڑتال و کرفیو

 ذاکر موسیٰ کے جا ںبحق ہونے کے خلاف اچانک ہڑتال کے نتیجے میںجمعہ صبح سے ہی اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحرکت مسدود ہو کر رہ گئی۔ شہر خاص اور سیول لائنز کے کچھ علاقوںمیں سخت بندشیں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ فورسز اور پولیس اہلکاروں نے تمام سڑکوں اور چوراہوں پر خار دار تاریں بچھا کر آواجاہی کو ناممکن بنا دیا تھا جبکہ غیر اعلانیہ کرفیو کے نتیجے میں پوری شہری آبادی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ۔ شہر خاص میں پولیس تھانہ خانیار، رعنا واری ، مہاراج گنج ، نوہٹہ ، صفا کدل اور کرالہ کھڈ کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت بندشیں عائد کی گئی تھیں ۔ ادھر جنوبی کشمیر میں پلوامہ ، ترال ، پانپور ، اونتی پورہ ، بجبہاڑہ ، اننت ناگ اور دیگر کچھ حساس قصبوں کے ساتھ ساتھ شمالی کشمیر کے کچھ علاقوں میں بھی دفعہ 144کے تحت سخت بندشوں کے ساتھ ساتھ اضافی سیکورٹی اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ سرینگر کو شمالی ، وسطی اور جنوبی کشمیر سے ملانے والے شاہراہوں پر جگہ جگہ پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں پر مشتمل دستے تعینات رکھے گئے تھے تاکہ لوگوں کی سرینگر اور ترال کی جانب روانگی یا پیش قدمی کو روکا جاسکے۔ 

 وسطی کشمیر

وسطی کشمیر کے تمام اضلاع میں مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ اس دوران سرینگر کے پائین علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔سیول لائنز میں بھی دکانیں اور کاروباری اداروں کے علاوہ تجارتی مراکز بند رہے۔کشمیر یونیورسٹی میں ذاکر موسیٰ کا غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کیا گیا۔ جس کے بعد وہ پرامن طور پر منتشر ہوئے۔جمعہ کو نمازکے بعد سرینگر کے بٹہ مالو،بربرشاہ،مہجور نگر، رعناواری، بمنہ، قمرواری ،صورہ،آنچار،90فٹ،ملہ باغ، گرڈ سٹیشن ،الہی باغ ،عالی مسجد،علی جان روڑ،نوشہرہ،حیدرپورہ ، ہمہامہ، مانچھوا، باغ مہتاب، اولڈ چھانہ پورہ،نال بل،نند ریشی کالونی بمنہ،گندر پورہ عید گاہ،حبہ کدل،سو زیٹھ نارہ بل اوردیگر علاقوں میں فورسز اور نوجوانوں کے درمیان  شدید جھڑپیں ہوئیں۔سبزی منڈی صورہ میں 8 نوجوانوںکو پیلٹ لگے۔ضلع بڈگام اور گاندربل کے علاقوں میں بھی ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔نامہ نگار ارشاد احمد کے مطابق گاندربل کے تولہ مولہ،صفا پورہ،کنگن، گگن گیر اور دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح کی صورتحال نظر آئی۔ددرہامہ گاندربل،کھرہامہ،بارسو اور صفا پورہ میں جھڑپیں ہوئیں۔نامہ نگار غلام نبی رینہ کے مطابق کنگن اور اسلے ملحقہ علاقوں کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر مسافر گاڑیوں کی آمد و رفت بھی معطل رہی تاہم سیاحوں اور مال بردار گاڑیوں کی نقل و حمل جاری رہی۔ بڈگام کے چاڈورہ،خان صاحب،بیروہ،چرار شریف،باغات کنی پورہ اور دیگر علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ نماز جمعہ کے جامع مسجد بیروہ کے باہرلوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی اور ذاکر موسیٰ کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا گیا۔اس موقعہ پر نوجوانوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے نعرہ بازی بھی کی،تاہم بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوئے۔

جنوبی کشمیر

جنوبی قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ پلوامہ میں مکمل ہڑتال اور کرفیو جیسی صورتحال کے بیچ پرتنائو اور کشیدہ ماحول رہا۔پلوامہ ،ترال اوراونتی پورہ سمیت کچھ علاقوں اورقصبہ جات میں دفعہ 144کے تحت سخت بندشیں عائدرکھی گئیں ۔شاہد ٹاک کے مطابق پانپور،ڈاڈسرہ، چندری گام ترال اور پلوامہ میں پتھرائو اور شلنگ ہوئی جبکہ پوری آبادی محصور رہی۔ پلوامہ اور شوپیان میں سڑکوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی تاکہ لوگوں کو ترال جانے سے روکا جاسکے۔پلوامہ کے پدگام پورہ میں کسی بھی شخص کو اونتی پورہ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔اونتی پورہ سے ترال کی طرف جانے والی سڑک کو بھی مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔ادھر  نامہ نگارخالد جاوید کے مطابق کولگام میں مکمل ہڑتال کے بیچ راستوں کو بند کیا گیا تھا اور سخت پوچھ تاچھ کے بعد ہی ان میں کسی کو آنے،جانے کی اجازت دی جا رہی تھی۔اس دوران کولگام میں نوجوانوں نے فورسز اور پولیس کو نشانہ بنایا۔ نماز جمعہ کے بعد کولگام چوک میں کچھ فورسز گاڑیاں نمودار ہوئیں،جن پر نوجوانوں نے معمولی پتھرائو کیا۔ کھڈونی بائی پاس کے نزدیک بھی معمولی سنگباری ہوئی۔اننت ناگ میں بھی مکمل ہڑتال سے عام زندگی معطل ہو کر رہ گئی۔نامہ نگار ملک عبدالسلام کے مطابق کھنہ بل میں ناکہ لگایا گیا تھا جبکہ مین ٹائون میں ہو کا عالم رہا۔سیر ہمدان مٹن،قاضی گنڈ، سرنل اننت ناگ،ڈورو شاہ آباد،چرسو اونتی پورہ،بونہ دیالگام میں پتھرائو اور شلنگ ہوئی۔

شمالی کشمیر

شمالی کشمیر کے تینوں اضلاع میں مکمل ہڑتال سے زندگی پٹری سے نیچے اتر گئی۔بارہمولہ میں مکمل ہڑتال کی گئی اور اس دوران تمام بازار اور کاروباری و تجارتی مرکز بند رہے،جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بھی بند رہی۔ خان پورہ بارہمولہ اورخواجہ باغ بارہمولہ میں پتھرائو ہوا۔نامہ نگار غلام محمد کے مطابق سوپور میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس کے دوران عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ مین چوک میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران4نوجوان زخمی ہوئے۔عرفان طارق چہرے پر پیلٹ لگنے سے زخمی ہوا جسے صدر اسپتال منتقل کردیا گیا۔، دائود احمد آرم پورہ سوپور کو بھی سرینگر منتقل کیا گیا، 18سالہ محمد حسین اور17سالہ محمد عامر  صدر اسپتال میں زیر علاج ہیں۔  قصبہ میں نوجوانوں نے نماز جمعہ کے فوراً بعد فورسز  پر چاروں اطراف سے سنگ باری کی۔ نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق سرحدی ضلع کپوارہ میں بھی مکمل ہڑتال رہی،اور اس دوران لنگیٹ،ترہگام،لعل پورہ،کرالہ پورہ سمیت دیگر علاقوں میں اضافی فورسز و پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔کپوارہ مین ٹائون اوردردسن کرالہ پورہ کپوارہ میں پتھرائو کیواقعات پیش آئے۔نامہ نگارعازم جان کے مطابق بانڈی پورہ میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی اور اس دوران حاجن،سوناواری،نائد کھے، سمبل،نسبل اور دیگر علاقوں میں دکانیں مکمل طور مقفل رہیں جبکہ ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی۔ حاجن میں نماز جمعہ کے بعد جلوس برآمد ہوا،جبکہ فورسز نے انہیں پیش قدمی کی اجازت نہیں دی۔ اس موقعہ پر نوجوانوں نے فورسز اور پولیس پر سنگبازی کی،جبکہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس گولے داغے۔ مین چوک بانڈی پورہ،شلوت سمبل، حاجن میںمعمولی سنگباری ہوئی۔ نماز جمعہ کے بعد بانڈی پورہ کے اجس،کلوسہ اور پاپہ چھن علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

بانہال و بھدرواہ 

محمدتسکین  اور طاہر ندیم کے مطابق قصبہ بانہال میں ذاکر موسیٰ کی ہلاکت پرہڑتال کی گئی ۔اس دوران بانہال اور گردونواح کے علاقہ جات پرامن طور پر بند رہے اور تعلیمی اداروں کو بھی بند رکھاگیا۔قصبہ سے گائوں دیہات کو جانے والی لنک سڑکوں پر ٹریفک بھی متاثر رہا تاہم بنکوں اور سرکاری دفاتر میں کام کاج معمول کے مطابق چلتارہا۔ نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران علماء نے مہلوک جنگجوکو خراج عقیدت پیش کیا۔ادھر احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر بھدرواہ میں حکام نے سیکورٹی فورسز کی مزید نفری تعینات کرکے دفعہ 144نافذ کردیاجبکہ اس دوران تعلیمی ادارے بند رکھے گئے ۔تحصیلدار بھدرواہ ذیشان طاہر نے بتایاکہ پولیس تھانہ بھدرواہ کے تحت پڑنے والی دوتحصیلوں بھدرواہ اور بھالہ میں دفعہ 144نافذ رکھاگیا۔انہوں نے بتایاکہ ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ ڈاکٹر ساگر ڈوئیفوڈ کی ہدایت پر بھدرواہ اور بھالہ میں واقع تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھاگیا اور ساتھ ہی دفعہ 144کا نفاذ بھی عمل میں لایاگیا۔یہ اقدامات ذاکر موسیٰ کی ہلاکت اور قصبہ میں پہلے سے پائی جارہی صورتحال کے پیش نظر اٹھائے گئے ۔

صورتحال قابو میں

ریاستی پولیس کا کہنا ہے کہ انصار غزوۃ الہند کے چیف کی ہلاکت کے بعد مجموعی طور پر وادی میں صورتحال قابو میں ہے،تاہم کئی علاقوں میں معمولی جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے بتایا’’ فورسز کو زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل سے کام لینے اور صورتحال سے نپٹنے کے دوران کسی بھی شہری ہلاکت سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔‘‘آئی جی کشمیر ایس پی پانی نے ویڈیو پیغام میں کہا’’ سیکورٹی کو متحرک کیا گیاہے اور مجموعی طور پر صورتحال قابو میں ہے،جبکہ کئی علاقوں میں بندشیں عائد کی گئیں ہیں۔‘‘