تازہ ترین

ڈاڈسرہ ترال میں مسلح تصادم ختم | ذاکر موسی سپرد لحد،8بار نماز جنازہ ادا،لوگوں کی بھاری شرکت

25 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: میر وسیم    )

سید اعجاز
سید اعجاز
ترال // برہان وانی گروپ کے آخری جنگجو انصار غزوت الہند کے چیف کمانڈرذاکر موسیٰ، جو باٹی پورہ ڈاڈسرہ ترال میں مسلح تصادم آرائی کے دوران جاں بحق ہوئے، کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔جھڑپ کے دوران ایک مکان مکمل طور پر خاکستر جبکہ دیگر 3کو نقصان پہنچا اور فورسز نے مالک مکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

جھڑپ

 جھڑپ کے دوران ایک مکان مکمل تباہ جبکہ دیگر کئی مکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔جبکہ فورسز نے مالک مکان کو گرفتار کر لیا ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعرات نماز عصر پر ذاکر موسیٰ نماز ادا کرنے کیلئے مقامی مسجد میں داخل ہوا جس کے ساتھ اسکے دو ساتھی بھی تھے۔اسی دوران سیکورٹی فورسز کو کسی طرح اطلاع ملی جنہوں نے محاصرہ کیا اور قریب 6بجے فائرنگ کا پہلا تبادلہ ہوا۔لوگوں نے بتایا کہ غالباً اسکے دو ساتھی مسجد سے باہر آتے ہی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ ذاکر نے ایک مکان میں پناہ لی۔ جب کئی گھنٹوں تک مکان سے کوئی جوابی فائر نہیں آیا تورات کے دو بجے فورسز نے مکان کو آگ لگائی تاکہ مکان میں ممکنہ طور زندہ موجود جنگجو باہر آئیں ۔تاہم اس کے باجود بھی نہ مکان کے اندر سے آگ لگانے کے دوران کوئی فائر ہوا اور نا ہی کوئی جنگجو باہر آیا جس کے بعد صبح تین بجے کے قریب فورسز نے بلڈوزر کی مدد سے مکان کا ملبہ ہٹا کر جنگجوئوں کی تلاش شروع کی ۔ ذرائع کے مطابق اس دوران فورسز کو تلاشی کے دوران کوئی لاش نہیں ملی تاہم ملبے سے کچھ نشانات ملے ہیں۔صبح چھ بجے کچھ مزید فائر ہوئے اور بعد میں محاصرہ ختم کیا گیا۔ادھر پولیس نے مالک مکان مدثر احمد گونوکو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس جھڑپ میں ریاض احمد ،محمد رمضان اور عبد الاحد کے مکانوں کو بھی نقصان پہنچا ۔

نماز جنازہ

مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جمعرات کی شام فائرنگ کا تبادلہ ہونے کے بعد رات کے دو بجے رہائشی مکان کو آگ لگا دی گئی اور صبح کے وقت ملبہ ہٹا کر ذاکر موسی کی لاش بر آمد کی گئی اور بعد میں قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد لواحقین کے حوالے کی گئی۔ذاکر موسیٰ کی لاش جب اسکے آبائی گائوں نور پورہ لائی گئی تو یہاں کہرام مچ گیا ۔جمعرات کی شب ہی جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہزاروں لوگ چھوٹی بڑی گاڑیوں میں سوار ہوکر نور پورہ پہنچ گئے تھے اور جنازے میں شامل ہوئے۔ذاکر کی 8بار نماز جنازہ ادا کی گئی اور 2بار انہیں دفنانے کی غرض سے بھی لیا گیا لیکن دوردروز علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کی استدعا پر دوبارہ نماز جنازہ ادا کرنی پڑی۔نور پورہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے حالانکہ اسکے ارد گرد فورسز نے ناکہ بندی کر رکھی تھی جبکہ اونتی پورہ سے ہی نور پورہ کی طرف جانے والے راستوں کو سیل کیا گیا تھا۔

ذاکر موسیٰ

 ذاکر موسیٰ برہان وانی کا قریبی ساتھی تھا، اور برہان کی ہلاکت کے بعد ذاکر نے حزب کی کمان سنبھالی تھی۔تاہم 2017میں انہوں نے ایک متنازعہ انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ مسلح تحریک کو پاکستان میں ضم ہونے یا آزاد ریاست قائم کرنے کے مخالف ہیں بلکہ وہ خلافت کیلئے لڑ رہے ہیں ۔ انہوں نے حریت لیڈرشپ کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی تھی، جو ان کی نظر میں خلافت قائم کرنے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔تاہم انکے خیالات کو حزب نے تسلیم نہیں کیا جس کے بعد انہوں نے حزب سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے انصار غزوۃ الہند نامی اپنی تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ذاکر موسیٰ نور پورہ ترال کے رہنے والے تھے اور انہوں نے 2013میں حزب میں شمولیت اختیار کی۔ اسکے بعد وہ برہان وانی کا قریبی ساتھی بن گیا۔ذاکر موسیٰ  ایک اچھے خاندان اور پڑھے لکھے کنبہ سے تعلق رکھتے تھے۔انکے والد عبدالرشید بٹ ریٹائرڈ اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر ہیں۔انکے بڑے بھائی شاکر رشید بٹ ہڈیوں کے سرجن ہیں اور بھابی بھی ڈاکٹر ہیںجبکہ بہن شاہینہ بنک میں کام کرتی ہیں۔ذاکر موسیٰ 2012میں چندی گڑھ میں رام دیو جندل انجینئرنگ کالج میں بی ٹیک کرنے کیلئے گئے تھے۔ تاہم انہوں نے تعلیم کو بیچ میں چھوڑ دی اور برہان وانی کا انتہائی قریبی ساتھی بن گیا۔