تازہ ترین

لوک سبھا انتخابات میں جیتے 233 لیڈروں پر مجرمانہ معاملات

25 مئی 2019 (14 : 10 PM)   
(      )

نئی دہلی//سیاست کو جرم سے پاک کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود الیکشن جیت کر 17ویں لوک سبھا کے رکن بنے لیڈروں میں سے 233(43فیصد) کے خلاف مجرمانہ معاملات درج ہیں۔نامزدگی داخل کرتے وقت دیئے گئے حلف ناموں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جیتنے والے امیدواروں میں سے 159(29فیصد) کے خَاف سنگین مجرمانہ معاملات درج ہیں۔ ان میں عصمت دری، قتل، قتل کی کوشش، اغوا اور خواتین کے خلاف جرائم وغیرہ شامل ہیں۔نیشنل الیکشن واچ کے تخمینہ کے مطابق دس نومنتخب اراکین پارلیمنٹ نے تو مجرمانہ معاملات میں سزا ہونے کی بات تک قبول کی ہے ۔ ان میں سے پانچ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں جبکہ چار کانگریس اور ایک وائی ایس آر کانگریس کے امیدوار طورپر جیتے ہیں۔ ان میں سے چار ترقی پسند ریاست کیرالہ سے جبکہ دو مدھیہ پردیش سے اور ایک ایک امیدوار اترپردیش، راجستھان، مہاراشٹر اور آندھراپردیش ے کامیاب ہوئے ہیں۔کانگریس کے ٹکٹ پر کیرالہ کی اڈوکی سیٹ سے جیتے ڈین کوریاکوسے پر کل ملاکر 204معاملات درج ہیں۔ ان پر تعزیرات ہند کی دفعہ 37کی سنگین دفعات اور دیگر دفعات کے تحت معاملے درج ہیں۔ مدھیہ پردیش کی دھار سیٹ سے جیتے بی جے پی کے چھتر سنگھ دربار کے خلاف صرف ایک معاملہ درج ہے جن پر تین سنگین دفعائیں لگائی گئی ہیں۔ راجستھان کی باڑ میر لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی کے ٹکٹ پر منتخب ہو ئے کیلاش چودھری پر دو معاملات درج ہیں جن میں دو سنگین دفعات اور چھ دیگر دفعات کے تحت ہیں۔ بی جے پی کے ٹکٹ پر مہاراشٹر کے ممبئی۔ شمال مشرق سے نومنتخب منوج کشوربھائی کوٹک پر دو معاملات درج ہیں۔کیرالہ کی ترشور سیٹ پر کانگریس کے ٹکٹ پر جیتے ٹی این پرتپن پر سات معاملات درج ہیں ان پر ایک سنگین دفعہ اور 35دیگر دفعات لگائی گئی ہیں۔ کیرالہ کی ہی کنور سیٹ پر کانگریس کے ٹکٹ پر جیتے کے سدھاکرن پر تین معاملات درج ہیں۔ ان پر ایک سنگین دفعہ اور چھ دیگر دفعات لگائی گئی ہے ۔ آندھراپردیش کے اننت پور سے وائی ایس آر کانگریس کے امیدوار تلا ری رنگیا پر دو معاملات درج ہیں۔ ان پر ایک سنگین دفعہ اور تین دیگر دفعات لگائی گئی ہیں۔ کیرالہ کے پلکڑ علاقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر نومنتخب وی کے شری کنڈن پر کل ملاکر سات معاملات درج ہیں۔ ان پر 29دفعات لگائی گئی ہیں۔اترپردیش کے ڈومریا گنج سے بی جے پی کے ٹکٹ پر نومنتخب جگدمبیکا پال پر تین معاملات درج ہیں اور تین دفعات لگائی گئی ہیں۔ مدھیہ پردیش کی ساگر سیٹ پر بی جے پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے راج بہادر سنگھ پر ایک معاملہ درج ہے ۔منتخب ہوئے کل ملاکر گیارہ اراکین پارلیمنٹ کے خلاف قتل سے متعلق معاملات درج ہیں۔ان میں سے پانچ بی جے پی، دو بہوجن سماج پارٹی، ایک کانگریس، ایک نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، ایک وائی ایس آر کانگریس اور ایک آزاد امیدوار ہے ۔ بی جے پی کے ہورین سنگھبے سوائتشاسی ضلع (آسام) سے ،نسیت پرمانک کوچ بہار (مغربی بنگال) سے ، اجے کمار کھیری (اترپردیش) سے ، سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر بھوپال (مدھیہ پردیش) سے اور چھتر سنگھ دربار دھار (مدھیہ پردیش) سے منتخب ہو ئے ہیں۔ بی ایس پی کے اتل کمار سنگھ گھوسی(اترپردیش) اور افضل انصاری غازی پور(اترپردیش) سے کامیا ب ہوئے ہیں۔ مغربی بنگال کے بہرام پور سے کانگریس کے ٹکٹ پر جیتے ادھیر رنجن چودھری پر کل ملاکر سات معاملات درج ہیں۔ آسام کے کوکراجھار سے آزاد امیدوار کے طورپر کامیاب ہوئے نابھا کمار سرنیا پر کل ملاکر پانچ معاملات درج ہیں۔ این سی پی کے ٹکٹ پر مہاراشٹر کے ستارا سے نومنتخب ادین راجے پرتاپ سنگھ مہاراج پر آٹھ اور آندھراپردیش کے ہندو پور سے وائی ایس آر کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے کے جی مادھو پر دو معاملات درج ہیں۔الیکشن واچ نے اس بار کل ملاکر 539نومنتخب اراکین پارلیمنٹ کے اعلانات کا تجزیہ کیا ہے ۔ 2014کے لوک سبھا انتخابات میں 185کامیاب اراکین پارلیمنٹ (34فیصد) کے خلاف اور 2009کے الیکشن میں 162کامیاب اراکین پارلیمنٹ کے خلاف مجرمانہ معاملات درج تھے ۔یو این آئی۔